Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 122

  1. ثُمَّ اجْتَبٰهُ رَبُّهٗ فَتَابَ عَلَیْهِ وَ هَدٰى﴿122﴾

    1. ثُمَّپھر
    2. اجْتَبٰىهُاس کو چن لیا
    3. رَبُّهٗاس کا رب
    4. فَتَابَتوجہ فرمائی
    5. عَلَيْهِاس پر
    6. وَهَدٰىاور اسے راہ دکھائی
Translation · Tadabbur-e-Quran
پھر اس کے رب نے اس کو نوازا، اس کی توبہ قبول کی اور اس کو ہدایت بخشی
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 122 اجتباء کا مفہوم آدم کی توبہ کا اثر یہاں اجتاء کا ذکر ان کی توبہ اور قبولیت توبہ سے پہلے ہے اس سے معلوم ہوا ہے کہ اس اجتباء سے مراد حضرت آدم کو توفیق توبہ اور کلمات توبہ سے سرفراز فرمانا ہے۔ سورة بقرہ میں یہی مضمون یوں آیا ہے۔ فتلقی ادم من ربہ کلمت فتاب علیہ انہ ھو التواب الرحیم 37 (پس آدم نے اپنے رب کی طرف سے کچھ کلمات سیکھ لیے اور توبہ کی تو اس کے رب نے اس کی توبہ قبول فرمائی، بیشک وہ بڑا تو بہ قبول کرنے والا اور بڑا ہی رحیم ہے) سورة اعراف میں ان کلمات توبہ کی وضاحت بھی ہے۔ قالا ربنا ظلمنا انفسنا وان لم استغفرلنا وترحمنا لنکونن من الخسرین 33 انہوں نے دعا کی کہ اے رب ! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم ڈھائے اور اگر تو نے ہمیں معاف نہ فرمایا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ہم نامراد ہو کے رہ جائیں گے) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم سے جو لغزش ہوئی وہ اس پر سخت نادم ہوئے اور اللہ تعالیٰ کا قاعدہ یہ ہے کہ جو بندہ اپنے گناہ پر شرمسار ہوتا ہے وہ اس کو توجہ و اصلاح کی توفیق بخشتا ہے اور توبہ و اصلاح کے بعد اس کو پہلے سے بھی زیادہ اپنے سے قریب کرلیتا ہے اسی چیز کو یہاں اجتباء سے تعبیر فرمایا ہے اور اس میں شبہ نہیں کہ بڑا ہی خوش بخت ہے وہ انسان جس کو احساس ندامت اور توفیق توبہ کے ساتھ ساتھ رب کریم کی طرف سے توبہ کے کلمات تلقین ہوں۔ تاب علیہ وھدی تاب کے بعد جب علی آتا ہے تو جیسا کہ ہم بقرہ 37 کے تحت وضاحت کرچکے ہیں۔ یہ رحم کے مضمون پر بھی متضمن ہوتا ہے۔ یعنی اللہ نے اس کی توبہ قبول کی اور اس پر رحم فرمایا اور اس کو ہدایت دی ”ہدایت دی“ سے مراد ظاہر ہے ہے کہ آگے کے مراحل کے لئے ہدایت دینا ہے تاکہ آدم اور ان کی ذریت شیطان کے فتنوں کا مقابلہ کرسکے۔ عیسائیوں اور نبوت آدم کے منکروں کی تردید اس آیت سے عیسائیوں کے اس خیال کو بیا تردید ہوجاتی ہے جو ان کے ہاں آدم اور ان کی ذریت کے ابدی گنہگار ہونے کا پایا جاتا ہے اور ان لوگوں کے خیال کی بھی تردید ہوتی ہے جو حضرت آدم کو صرف نسل انسانی کا باپ مانتے ہیں، ان کو نبی نہیں مانتے۔ اس آیت کے الفاظ بھی ان کی نبوت پر دلیل ہیں اور عقل بھی یہ تقاضا کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی اور ان کی ذریت کی رہنمائی کے لئے ان کے حسب حال ان کو شریعت عطا فرمائے۔ آگے کی آیت میں اس کی وضاحت آرہی ہے۔