تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 123
قَالَ اهْبِطَا مِنْهَا جَمِیْعًۢا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى١ۙ۬ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَایَ فَلَا یَضِلُّ وَ لَا یَشْقٰى﴿123﴾
- قَالَفرمایا
- اهْبِطَاتم دونوں اتر جاؤ
- مِنْهَایہاں سے
- جَمِيْعًۢاسب
- بَعْضُكُمْتم میں سے بعض
- لِبَعْضٍبعض کے
- عَدُوٌّدشمن
- فَاِمَّاپس اگر
- يَاْتِيَنَّكُمْتمہارے پاس آئے
- مِّنِّيْمیری طرف سے
- هُدًىہدایت
- فَمَنِتو جس نے
- اتَّبَعَپیروی کی
- هُدَايَمیری ہدایت
- فَلَا يَضِلُّتو نہ وہ گمراہ ہوگا
- وَاور
- لَا يَشْقٰينہ بدبخت ہوگا
Translation · Tadabbur-e-Quran
حکم ہوا کہ تم سب یہاں سے اترو، تم ایک دوسرے کے دشمن ہو گے۔ پس اگر تمہارے پاس میری ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کی پیروی کرے گا نہ وہ گمراہ ہوگا اور نہ محروم رہے گا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 123
بقرہ آیت 36 اور اعراف آیت 24 کے تحت اس آیت کے تمام متعلقات پر گفتگو ہوچکی ہے۔ ہم نے ان آیات کے تحت وہ حکمت بھی واضح کی ہے جو مقتضی ہوئی کہ حضرت آدم اور ان کی ذریت اس دنیا میں آ کر شیطان کا مقابلہ کریں اور یہ بات بھی واضح کی ہے کہ ان آیات میں خطاب حضرت آدم و حوا سے نہیں بلکہ آدم اور ابلیس سے بحیثیت دو فریقوں کے ہے۔
بعضکم لبعض عدد یعنی شیطان تمہارا دشمن ہوگا اور تم اگر تمہیں اپنی عاقبت عزیز ہے اور پھر جنت حاصل کرنے کے آرزو مند ہو، شیطان کے دشمن ہو گے اس لئے کہ ہر عاقل اپنے دشمن کو دشمن سمجھتا اور اس سے چوکنا رہتا ہے صرف احمق اور ناعاقبت اندیش ہی ہوتا ہے جو اپنے دشمن سے دوستی گانٹھتا اور اس کے مشوروں پر کار بند ہوتا ہے۔
جن لوگوں نے محض اس غلط فہمی کی بنا پر کہ یہاں مثنیٰ کا صیغہ استعمال ہوا ہے اس کا مخاطب حضرت آدم اور ہوا کو مانا ہے ان کا خیال بالکل غلط ہے اول تو بعینیہ یہی بات بقرہ اور اعراف وغیرہ میں جمع کے صیغہ سے ارشاد ہوئی ہے، ثانیاً یہاں اگر مثنیٰ کا صیغہ آیا ہے تو اس کیساتھ لفظ جمیعہ بھی ہے، اگر مخاطب حضرت آدم اور حوا ہی ہیں تو یہ لفظ بالکل بےضرورت ہو کے رہ جاتا ہے۔ ثالثاً آدم و حوا میں فطری تعلق عداوت کا نہیں بلکہ محبت کا ہے۔ میاں بیوی میں اگر عداوت ہوی ہے تو اس وجہ سے نہیں کہ وہ خدانخواستہ بعضکم لبعض عدو واقع ہوئے ہیں بلکہ یہ شیطان کی در اندازی اور فساد انگیزی سے پیدا ہوتی ہے۔ البتہ شیطن اور ان کے مابین دشمنی فطری ہے اور یہ دشمنی قیامت تک کے لئے ہے۔ شیطان کی دشمنی تو واضح ہے کہ وہ بربنائے حسد ہے اور اس کا وہ کھلم کھلا اعلان کرچکا۔ رہا انسان تو وہ اگر ذی ہوش ہے تو اس کو یہ حقیقت ہمیشہ مستخصر رکھنی چاہئے کہ ہو اسی دشمن سے نبرد آزمائی کے لئے جنت سے نکال کر اس دنیا میں بھیجا گیا ہے۔ اگر وہ اس سے دوستی کرتا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ خود اپنے دشمن کے آگے سپر انداز ہوتا ہے۔
شیطان کے مقابلہ کے لئے ہتھیار
فاما یاتینکم منی ھدی فمن اتبع ھدای فلا یضل ولایشقیٰ یہ وہ ہتھیار ہے جو اللہ تعالیٰ نے شیطان کے مقابلہ کے لئے آدم اور اولاد آدم کو مہیا فرمان کا وعدہ فرمایا۔ چونکہ انسان اس دنیا میں بڑے ہی شاطر دشمن سے نبرد آزمائی کے لئے بھجیا گیا ہے۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے یہ پسند فرمایا کہ اس کو عقل و فطرت کی ہدایت کے ساتھ ساتھ خاص اپنے پاس سے جن کی ہدایت سے سرفراز فرمائے تاکہ وہ دہری طاقت و ہمت کے ساتھ شیطان کا مقابلہ کرسکے۔ فرمایا کہ اب تم یہاں سے اترو، تم ایک دوسرے کے دشمن ہو گے تو جب تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کی پیروی کریں گے نہ وہ شیطان کے گمراہ کرنے سے گمراہ ہوں گے اور نہ اس جنت سے محروم رہیں گے جس سے محروم رکھنے کے لئے شیطان نے قسم کھائی ہے۔
اس آیت سے دو باتیں بالکل واضح طور پر ثابت ہوتی ہیں۔
ایک یہ کہ اس دنیا میں شیطان کے فتنوں سے امان میں رہنے کا واحد ذریعہ اللہ کی کتاب ہے جو اس روشنی سے محروم ہے وہ ہر وقت شیاطین جن وانس کی زد میں ہے۔
حضرت آدم نبی تھے
دوسری یہ کہ حضرت آدم ایک نبی تھے۔ جب وہ شیطان کے ساتھ نبرد آزمائی کے لئے اس دنیا میں اتارے گئے ہیں اور اس سے مقابلہ کے لئے اللہ کی ہدایت ضروری ہے تو لازماً ان کی اور ان کی ذریت کی رہنمائی کے لئے، ان کے حالات کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ان کو کوئی شریعت بھی دی ہوگی۔ ہم حضرت آدم کی شریعت کے بعض احکام کی طرف سورة مائدہ کی تفسیر میں بضمن قصہ ہابیل و قابیل اشارہ کرچکے ہیں۔