Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 127

  1. وَ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ مَنْ اَسْرَفَ وَ لَمْ یُؤْمِنْۢ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَدُّ وَ اَبْقٰى﴿127﴾

    1. وَكَذٰلِكَاور اسی طرح
    2. نَجْزِيْہم بدلہ دیتے ہیں
    3. مَنْجو
    4. اَسْرَفَحد سے نکل جائے
    5. وَلَمْ يُؤْمِنْاور نہ ایمان لائے
    6. بِاٰيٰتِآیتوں پر
    7. رَبِّهٖاپنا رب
    8. وَلَعَذَابُاور البتہ عذاب
    9. الْاٰخِرَةِآخرت
    10. اَشَدُّشدید ترین
    11. وَاَبْقٰياور زیادہ دیر تک رہنے والا ہے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اسی طرح ہم بدلہ دیں گے اس کو جو حدود سے تجاوز کرے گا اور اپنے رب کی آیتوں پر ایمان نہیں لائے گا اور عذاب آخرت زیادہ سخت اور زیادہ دیرپا ہوگا۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اسران کے معنی حدود سے تجاویز کے ہیں۔ یہاں من اسحرف سے وہ لوگ مراد ہیں جنہوں نے اپنی قوتیں اور صلاحیتیں ان چیزوں پر برباد کیں جن سے ان کو بچنا تھا اور جو چیزیں اختیار کرنے کی تھیں ان سے انہوں نے آنکھیں بند رکھیں۔ فرمایا کہ یہ احوال آخرت جو بیان ہوئے ہیں ہم اسی طرح ان لوگوں کو بدلہ دیں گے جو اپنی صلاحیتوں کو بالکل غلط ہدف پر برباد کریں گے اور اپنے رب کی آیات پر ایمان نہیں لائیں گے۔ پھر مزید تنبیہ فرمائی کہ آخرت کا عذاب کوئی معمولی چیز نہیں ہے۔ دنیا کی تنبیہات پر قیاس کر کے اس کو کوئی اہوں چیز نہ سمجھے۔ وہ نہایت سخت بھی ہوگا اور نہایت پائیدار بھی۔