Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 128

  1. اَفَلَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى۠ع﴿128﴾

    1. اَفَلَمْ يَهْدِکیا ہدایت نہ دی
    2. لَهُمْانہیں
    3. كَمْکتنی ہی
    4. اَهْلَكْنَاہم نے ہلاک کردیں
    5. قَبْلَهُمْان سے قبل
    6. مِّنَ الْقُرُوْنِقومیں۔ جماعتیں
    7. يَمْشُوْنَوہ چلتے پھرتے ہیں
    8. فِيْ مَسٰكِنِهِمْان کے مساکن میں
    9. اِنَّبیشک
    10. فِيْمیں
    11. ذٰلِكَاس
    12. لَاٰيٰتٍالبتہ نشانیاں ہیں
    13. لِّاُولِي النُّهٰىعقل والوں کے لیے
Translation · Tadabbur-e-Quran
کیا ان کے لئے یہ چیز ہدایت دینے والی نہ بنی کہ کتنی ہی قوموں کو ان سے پہلے ہم نے بلاک کردیا جن کی بستیوں میں یہ چلتے پھرتے ہیں بیشک اس کے اندر اہل عقل کے لئے بڑی بڑی نشانیاں ہیں !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
افلم یھدلھم کا صحیح مفہوم ہماری زبان میں یہ ہوگا کہ کیا فلاں چیز ان کے لئے ہدایت دینے والی اور ان کی آنکھیں کھونے الی نہ بنی ؟ نشانی عذاب کے مطالبہ کا جواب یہ کتاب الٰہی سے اعراض کرنے والوں کے مطالبہ نشانی عذاب کا جواب ہے۔ فرمایا کہ ان کو عذاب سے ڈرایا جاتا ہے۔ بہ سانی عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں تو کیا یہ چیز ان کو ہدایت دینے والی نہ بنی کسان سے پہلے ہم نیکتنی ہی قوموں کو اپنی تذکیر و تنبیہ سے اعراض کرنے کی پاداش میں ہلاک کردیا اور وہ قومیں کسی دوسرے خطہ ارضی کی نہیں بلکہ اسی ملک کی رہنے بسنے والی تھیں ان کے تباہ شدہ آثار اور ان کے کھنڈروں پر سے یہ لوگ اپنے تجارتی سفروں میں برابر گزرتے ہیں ! یہ اشارہ عاد وثمود وغیرہ کی بستیوں کی طرف ہے جن کا ذکر اہل عرب کے اشعار میں بھی ملتا ہے اور ان کا عام شاہراہوں پر ہونا بھی معلوم ہے۔ فرمایا کہ اگر یہ کوئی نشانی چاہتے ہیں تو ان کے اپنے ملک کی تاریخ اور اس کے آثار میں بہت سی نشانیاں موجود ہیں۔ آخر یہ ان سے کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے ؟ عاقل تو وہ ہے جو دوسروں کے انجام سے سبق حاصل کرے، نہ کہ جب وہی انجام اپنے سامنے آجائے تب مانے۔ اگر انسان یہ روش اختیار کرلے تو پھر اس میں اور حیوان میں فرق کیا رہا !