تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 129
وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَكَانَ لِزَامًا وَّ اَجَلٌ مُّسَمًّىؕ﴿129﴾
- وَلَوْاور اگر
- لَا كَلِمَةٌنہ ہوتی ایک بات
- سَبَقَتْہوچکی
- مِنْسے
- رَّبِّكَتمہارا رب
- لَكَانَتو ضرور آجاتا
- لِزَامًاعذاب
- وَّاَجَلٌاور میعاد
- مُّسَمًّىمقرر
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اگر تمہارے رب کی طرف سے ایک بات پہلے طے نہ ہوچکی ہوتی اور ایک اجل معین مقرر نہ ہوچکی ہوتی تو عذاب مسلط ہو کے رہتا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اجل مسمی کا عطف کلمۃ پر ہے۔
یہ اس مطالبہ نشانی عذاب کا جواب ہے۔ فرمایا کہ اگر تمہارے رب کی طرف سے ایک بات پہلے طے نہ پا چکی ہوتی اور اس کے ظہور کے لئے ایک مدت معین نہ ہوچکی ہوتی تو جس عذاب کے لئے یہ جلدی مچائے ہوئے ہیں وہ آج ہی ان پر آدھمکتا یعنی اگر اس کے ظہور میں تاخیر ہو رہی ہے تو یہ خدا کی سنت اور اس کے طے کردہ قاعدے اور ضابطے کے تحت ہو رہی ہے کوئی اس غلط فہمی میں نہ مبتلا رہے کہ یہ محض ہوائی بات ہے یا یہ کہ اللہ ابھی اس کا سامان نہیں کر پا رہا ہے اس وجہ سے عذاب نہیں آ رہا ہے۔ یہ مضمون قرآن میں جگہ جگہ آیا ہے۔ ولولہ کلمۃ سبقت من ربک الی اجل مسمی تقضی بینھم (الشوریٰ 14 (اور اگر ایک بات تیرے رب کی طرف سے ایک مدت متعین تک کے لئے طے نہ ہوچکی ہوتی تو ان کے درمیان آج ہی فیصلہ کردیا جاتا) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ منکرین و مکذبین کے فیصلہ کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک یوم احلساب مقرر کر رکھا ہے جس کی مدت اور جس کا دن بھی معین ہے اس وجہ سے وہ جلد بازوں کی جلدی کے باوجود ان کو ڈھیل دے رہا ہے۔ بدقسمت ہیں وہ جو اس ڈھیل سے فائدہ اٹھانے کے بجائے اس کو اپنے طغیان میں اضافہ کا ذریعہ بنا لیں ! !
یہاں کلمۃ سے مراد کلمۃ الفصل ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے پہلے سے یہ طے کر رکھا ہے کہ فیصلہ اور انصاف کا ایک دن آئے گا اور اجل ممی سے اس دن کے معین ہونے کی طرف اشارہ ہے کہ کوئی اس کو مبہم و مجہول نہ خیال کرے بلکہ منٹ اور سکینڈ کی پابندی کے ساتھ خدا کی جنتری میں وہ مندرج ہے۔