Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 130

  1. فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ غُرُوْبِهَا١ۚ وَ مِنْ اٰنَآئِ الَّیْلِ فَسَبِّحْ وَ اَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضٰى﴿130﴾

    1. فَاصْبِرْپس صبر کریں
    2. عَلٰيپر
    3. مَا يَقُوْلُوْنَجو وہ کہتے ہیں
    4. وَسَبِّحْاور تسبیح کریں
    5. بِحَمْدِتعریف کے ساتھ
    6. رَبِّكَاپنا رب
    7. قَبْلَپہلے
    8. طُلُوْعِ الشَّمْسِطلوعِ آفتاب
    9. وَقَبْلَاور پہلے
    10. غُرُوْبِهَااس کے غروب
    11. وَمِنْاور کچھ
    12. اٰنَآئِ الَّيْلِرات کی گھڑیاں
    13. فَسَبِّحْپس تسبیح کریں
    14. وَاَطْرَافَاور کنارے
    15. النَّهَارِدن
    16. لَعَلَّكَتاکہ تم
    17. تَرْضٰىخوش ہوجاؤ
Translation · Tadabbur-e-Quran
تو جو کچھ یہ کہتے ہیں اس پر صبر کرو اور اپنے رب کی، اس کی حمد کیساتھ، تسبلیح کرو سورج کے طلوع اور اس کے غروب سے پہلے اور رات کے اوقات میں بھی تسبیح کرو اور ان کے اطراف میں بھی تاکہ تم نہال ہو جائو
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
نبی صلعم کو صبر کی تلقین اور نماز کی تاکید اب یہ پیغمبروں کو مخالفین کی تمام بکواس پر صبر کی تلقین اور اس صبر کے حصول کے لئے زیادہ سے زیادہ نماز کے اہتمام کی تاکید فرمائی گئی ہے۔ صبر اور نماز کے باہمی تعلق پر ہم ایک سے زیادہ مقامات میں روشنی ڈال چکے ہیں۔ صبر کی بنیاد درحقیقت اس عقیدے پر ہے کہ جو کچھ ہوتا ہے وہ خدا کی مشیت سے ہوتا ہے اور اس کی مشیت تمام تر خیر پور مبنی ہوتی ہے۔ اس عقیدہ کو دل میں راسخ اور ذہن میں مستحضر رکھنے کے لئے سب سے بڑا اور مئوثر ذریعہ نماز ہے۔ وسبح بحمد ربک تسبیح کا عام مفہوم تو ذکر الٰہی ہے اور یہ ذکر الٰہی ہر وقت مطلوب ہے لیکن یہاں اس کا ذکر اوقات کی قید کے ساتھ ہے۔ اس وجہ سے قرینہ دلیل ہے کہ اس سے مراد نماز ہے۔ تسبیح کے ساتھ حمد کی قید ذکر الٰہی کی صحیح صورت بتانے کے لئے ہے کہ یہ خدا کی تسبیح اور تحمید دونوں پہلوئوں پر مشتمل ہو۔ ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ تسبیح اور تحمید دونوں پہلوئوں پر مشتمل ہو ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ تسبیح میں تنزیہہ کا پہلو غالب ہے اور تحمید میں اثبات کا خدا کے ذکر کی صحیح شکل یہی ہے کہ اس کو تمام خلاف شان صفات سے بری اور تمام اعلیٰ صات سے متصف قرار دیا جائے۔ اگر ان میں سے کوئی ایک پہلو بھی صحیح طور پر محلوظ نہ رہے تو خدا کے معاملے میں انسان کا تصور غلط ہوجاتا ہے جس سے اس کا سارا نظام فکر متزلزل ہو کر رہ جاتا ہے۔ بعض مذاہب نے تنزیہہ کو اہمیت دی تو اس کے لے اس قدر بڑھا دی کہ خدا کو بالکل نر نکارا خلق سے بالکل بےتعلق بنا کر رکھ دیا جس کے نتیجہ میں ان کو واسئل ووسایط کا سہارا ڈھونڈنا پڑا۔ قرآن نے اس فتنہ سے محفوظ رکھنے کے لئے تسبیح اور حمد دونوں کی ہدایت فرمائی تاکہ بندے کا تعلق اس کے رب کے ساتھ صحیح بنیاد پر استوار ہو سکے۔ بغیر اس تعلق کی استواری کے انسان کا قدم جادہ مستقیم پر نہیں جم سکتا۔ اوقات نماز کی تعلیم قبل طلوع الشمس و قبل غودبھا سورج کے طلوع اور غروب ہونے سے پہلے فجر اور عصر کی نمازیں ہیں بخاری میں نبی ﷺ سے بھی یہی روایت ہے ان دونوں نمازوں کے پہلے ذکر کرنے کی وجہ دین میں ان کی اہمیت ہے۔ قرآن کے دور سے مقامات سے بھی ان دونوں نمازوں کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ ومن انآی الیل فسبح اور اوقات شب میں بھی نماز پڑھو۔ اوقات شب میں دو نمازیں ہیں ایک عشاء اور دوسری تہجد یہاں فعل کا اعادہ تاکید پر دلیل ہے۔ یہ تاکید اس لئے فرمائی گئی ہے کہ یہ دونوں نمازیں نفس بہت شاق ہیں۔ واطراف النھار دن کے اطراف و اجزا میں تین نمازیں ہیں۔ چاشت، ظہر اور مغرب، چاشت اور مغرب کا اطراف نہار میں ہونا تو واضح ہے۔ غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ ظہر بھی اطراف نہار میں ہے اس لئے کہ دن دو حصوں میں تقسیم ہوتا ہے۔ ظہر کا وقت اس کے پہلے حصے کے آخری کنارے اور دوسرے حصے کے ابتدائی کنارے پر ہے۔ اس آیت سے ان لوگوں کے خیال کی نہایت واضح طور پر تردید ہوتی ہے جو کہتے ہیں کہ نمازوں کے اوقات قرآن میں مذکور نہیں ہیں۔ قرآن میں صرف فرض نمازوں ہی کے نہیں بلکہ اشراق اور تہجد کے اوقات بھی مذکور ہیں۔ نبی ﷺ نے انہی اوقات کو اپنے عمل سے منضبط کر کے ان کی حد بندی فرما دی۔ مختلف نمازوں کی شکلیں بھی معین فرما دیں اور یہ بھی بتا دیا کہ ان میں سے کن نمازوں کی حیثیت فرض واجب کی ہے اور کن کی حیثیت نوافل کی۔ ظاہر ہے کہ ان تمام تفصیلات کا بتانا اور ہر نماز کے حدود و اطراف کا معین کرنا نبی ﷺ ہی کا کام تھا اس لئے کہ آپ صرف قرآن کے سنا دینے والے ہی نہیں بلکہ اس کے معلم بھی تھے۔ صبر و عزیمت کے حصول کے لئے نفلی نمازوں کا اہتمام یہاں اس امر کو بھی ملحوظ رکھیے کہ آیت زیر بحث میں نماز کی تاکید صبر و عزیمت کے حصول کی تدبیر کی حیثیت سے فرمائی گی ہے۔ یہ آیات حق و باطل کی کشمکش کے نہایت شکل دور میں نازل ہوئی ہیں۔ ان میں نبی ﷺ اور آپ کے واسطہ سے امت کو وہ تدبیر بتائی گی ہے جو مشکلات و مصائب میں ثابت قدم رکھنے والی اور خدا کی رحمت و نصرت کا حق دار بنانے والی ہے۔ اس طرح کے حالات میں صرف فرض نمازوں ہی کا اہتمام مطلوب نہیں ہے بلکہ نوافل کا اہتمام بھی مطلوب ہے۔ قرآن، نبی ﷺ کے ارشادات اور سلف صالحین کے عمل، ہر چیز سے ہمارے اس خیال کی تائید ہوتی ہے۔ عام حالات میں تو تہجد و اشراق کی نمازوں کی حیثیت بہرحال نفلی نمازوں ہی کی ہے لیکن مشکلات و مصائب میں خواہ و انفرادی ہوں یا اجتماعی، ان کا اہتمام ضروری ہے بہرحال نفلی نمازوں ہی کی ہے لیکن مشکلات و مصائب میں، خواہ و انفرادی ہوں یا اجتماعی، ان کا اہتمام ضروری ہے۔ حدی راتیز ترمی خواں چو محمل راگراں بینی ! اس مسئلہ پر انشاء اللہ سورة مزمل کی تفسیر میں ہم وضاحت سے بحث کریں گے اور کسی موزوں مقام پر ان مصالح پر روشنی ڈالیں گے جو اوقات نماز کے تعین میں ملحوظ ہیں۔ نمازوں کے ادنر سب کچھ ہے لعلک ترضی دوسرے مقام میں یہی مضمون یوں بیان ہوا ہے۔ ویسون یعطیک ربک فترضی (اور تمہارا رب عنقریب تمہیں عطا فرمائے گا کہ تم نہال ہو جائو گے) ان دو لفظوں کے اندر بشارتوں کی ایک دنیا پوشیدہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم اپنے موقف پر ڈٹے اور اپنے کام میں لگے رہو اور نمازوں کا اہتمام رکھو، خدا تمہیں دنیا اور آخرت دونوں میں وہ کامرانیاں بخشے گا کہ تم نہال ہو جائو گے ! ! انہی نمازوں کے اندر تمہارے لئے سب کچھ محفوظ ہے۔ اپنے رب کے سوا تمہیں کسی اور طرف نگاہ اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔