Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 131

  1. وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ۬ لِنَفْتِنَهُمْ فِیْهِ١ؕ وَ رِزْقُ رَبِّكَ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى﴿131﴾

    1. وَاور
    2. لَا تَمُدَّنَّنہ پھیلانا
    3. عَيْنَيْكَاپنی آنکھیں
    4. اِلٰىطرف
    5. مَا مَتَّعْنَاجو ہم نے برتنے کو دیا
    6. بِهٖٓاس سے
    7. اَزْوَاجًاجوڑے
    8. مِّنْهُمْان سے۔ کے
    9. زَهْرَةَآرائش
    10. الْحَيٰوةِ الدُّنْيَادنیا کی زندگی
    11. لِنَفْتِنَهُمْتاکہ ہم انہیں آزمائیں
    12. فِيْهِاس میں
    13. وَرِزْقُاور عطیہ
    14. رَبِّكَتیرا رب
    15. خَيْرٌبہتر
    16. وَّاَبْقٰياور تادیر رہنے والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ان کی بعض جماعتوں کو آسائش زندگی کی جس رونق سے ہم نے ان کی آزمئاش کے لئے بہرہ مند کر رکھا ہے اس کی طرف نگاہ نہ اٹھائو اور تمہارے رب کا رزق بہتر اور پائیدا رہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
امراء و اغنیاء سے بےنیازی کی ہدایت اب یہ نبی ﷺ کو اپنی قوم کے امراء و اغنیاء کی زیادہ پروا اور دلداری کرنے سے روک دیا گیا۔ کسی قوم کے امراء و اغنیاء چونکہ قوم کے بنائو اور بگاڑ میں بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہی کے بگڑنے سے پوری قوم بگڑتی اور ان کی اصلاح سے پوری قوم کے اصلاح پذیر ہونے کی توقع ہوتی ہے اس وجہ سے حضرات انبیاء (علیہم السلام) کی ہمیشہ یہ سنت رہی ہے کہ انہوں نے سب سے پہلے اپنی اپنی قوموں کے سرداروں اور بڑوں کو مخاطب کیا اور جب تک انہوں نے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی سے مایوس نہیں کردیا اس وقت تک وہ ان کی اصلاح فکر میں لگے رہے۔ حضرات انبیاء کرام کی اس سنت کے مطابق ہمارے نبی کریم ﷺ نے بھی سب سے پہلے قریش کے سادات و امراء کو دعوت دی کہ اگر وہ اس حق کو قبول کرلیں گے تو ان کے زور و اثر اور ان کے مال و اسباب ہر چیز سے دعوت حق اور غربائے مسلمین کو تقویت حاصل ہوگی۔ یہ خواہش سر تا مران امراء و اغنیاء کی خیر خواہی اور اعلائے کلمۃ اللہ کے جذبہ پر مبنی تھی لیکن جب ان امراء و اغنیاء نے اپنے رویہ سے ثابت کردیا کہ یہ پسیجنے والے نہیں ہیں تو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو بھی ان کے لئے زیادہ فکر مند ہونے سے روک دیا اور فرمایا کہ تم ان کے مال و اسباب کو ذرا خاطر میں نہ لائو، تمہاری دعوت اپنا زارد دراحل خود اپنے ساتھ رکھتی ہے اور تمہارا اور تمہارے ساتھیوں کا کفیل اللہ ہے۔ اگر یہ لوگ اس حق کا ساتھ نہیں دے رہے ہیں تو اس میں خود انی کی اپنی محرومی ہے، خدا ان کا اور ان کے مال و اسباب کا محتاج نہیں ہے۔ ولا تمدن عینیک الی مامتعنا بہ ازواجاً منھم ازواجا منھم سے اشارہ قریش کے ان گروہوں کی طرف ہے جو مکہ اور طائف وغیرہ میں عزت و اقتدار رکھتے تھے ان لوگوں کے مال و اسباب کی طرف آنحضرت صلعم کا نگاہ اٹھانا العیاذ باللہ اس لئے تو ہو نہیں سکتا کہ آپ کے اندر دولت دنیا کی کوئی طمع تھی دولت دنیا تو مکہ وظائف کے امراء بڑی سے بڑی مقدار میں حضور کے قدموں پر نثار کرنے کے لئے تیار تھے بشرطیکہ آپ اپنی دعوت سے باز آجائیں۔ لیکن آپ نے ان کی اس پیشکش کے جواب میں ان کو دعوت ایمان کی چند آیتیں سنا دیں۔ حضرات ابنیائے کرام اور صالحین نے ان لوگوں کے مال و اسباب کو کبھی وقعت نہیں دی ہے جنہوں نے اپنے دل اپنے رب کے حوالہ نہیں کئے ہیں۔ ایک عاقل و فرزانہ اگر ایک ایسے نوجوان کو دیکھتا ہے جو اپنی بھرپور جوانی اور اپنی تمام صلاحیتیں ایک بالکل غلط ہدف پر برباد کر رہا ہوتا ہے تو اس کے دل میں یہ حسرت ہوتی ہے کہ کاش یہ ناعاقبت اندیش بیوقوف نوجوان اپنی جوانی اور صلاحیتوں کی قدر کرے، اسی طرح حضور کے اندر بھی یہ ارمان تھا کہ کاش آپ کی قوم کے امراء و اغنیاء ان نعمتوں کی قدر پہنچانیں جو اللہ نے ان کو بخشی ہیں اور ان کا مال اور ان کی صلاحیتیں شیطان کی راہ میں برباد نہ ہوں۔ اس ارمان و حسرت کا تعلق تمام تر جذبہ خیر خواہی و ہمدردی سے ہوتا ہے۔ اس میں ہرگز قمع و حرص کا کوئی شائبہ نہیں ہوتا۔ لیکن اس جذبہ خیر خواہی کی بھی ایک حد ہے۔ اس حد پر پہنچ جانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو اس چیز سے روک دیا۔ متعنابہ ایک امر واقعی کا اظہار ہے۔ دنیا میں اگر کسی کو مال و اسباب حاصل ہوتا ہے تو وہ اس کے اب وجد کی میراث ہوتا اور نہ اس کی ذہانت و قابلیت کا ثمرہ بلکہ یہ خدا کی دین ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کو دے کر یہ دیکھتا ہے کہ خدا کے دیئے ہئے مال و متاع کو پاک کر یہ شخص خدا کا شکر گزار بند بنتا ہے یا ناشکرا احمق ہے وہ انسان جو اس حقیقت نفس الامری کو نہ سمجھے اور خدا کی نعمت کو خدا ہی کے خلاف بغاوت کا سبب بنالے۔ زھرۃ الحیوۃ الدنیا ہمارے نزدیک بہ کی ضمیر محرور سے حال پڑا ہوا ہے۔ مجردر سے حال پڑنا فصیح عربی میں معروف ہے۔ ہم اس کتاب میں جگہ جگہ اس کی مثالیں پیش کرتے آ رہے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے جس مال و متاع سے ان کو بہرہ مند کیا ہے اس کی چمک دمک چند روزہ ہے۔ اس کا اگر کوئی نفع ہے تو یہ ہے کہ اس سے وہ آخرت کے لئے کچھ کمائی کرلیں۔ اگر وہ یہ نہیں کرتے تو یہ غازہ ایک دن اڑ جائے گا اور اس کی پیدا کردہ دو سیاہی ہمیشہ کے لئے باقی رہ جائے گی۔ لنغبتنھم فیہ یہ اس سنت الٰہی کا حوالہ ہے جس کی وضاحت اسی سورة کی آیت وفتنک فتوناً کے تحت ہم کر آئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس دنیا میں لوگوں کو مصائب سے بھی آزماتا ہے اور نعمتوں سے بھی۔ جب مصائب سے آزماتا ہے تو مقصود بندے کے صبر کا امتحان ہوتا ہے اور جب نعمتوں سے آزماتا ہے تو مقصود اس کے شکر کا امتحان ہوتا ہے۔ فرمایا کہ ہم نے ان کو یہ مال و متاع جو بخشا ہے تو اس لئے نہیں کہ یہ اس کے حقدار تھے بلکہ اس لئے بخشا کہ ان کا امتحان کریں کہ یہ ہماری نعمتیں پاکر کیا بناتے ہیں۔ اگر انہوں نے ان نعمتوں کا یہی حق پہچانا ہے کہ ان کو پا کر ہمارے بھی آگے آکڑیں تو اس کا انجام جلد دیکھ لیں گے ! ورزق ربک خیروابقی مطلب یہ کہ تم اپنی دعوت اور اپنے ساتھیوں کے لئے ان ناقدروں اور ناشکروں کی سرپرسی کے محتاج نہیں ہو۔ تمہارے اور تمہارے ساتھیوں کے لئے خدا کے پاس سے جو کچھ عطا ہونے والا ہے وہ ہزار درجہ بہتر بھی ہے اور پائیدار بھی۔ ان مغروروں کے پاس جو کچھ ہے اس کی چمک دمک تو چند روزہ ہے لیکن خدا جو کچھ بخشے گا وہ ابدی ہے۔ اس کے لئے کبھی زوال نہیں … یہ امر یہاں محلوظ رہے کہ نیکی کا پودا اس آب حیات ہی سے پروان چڑھتا ہے جو خدا کی طرف سے اسکی پرورش کے لئے نازل ہو۔ اگر آپ ہر جو ہڑ کے پانی سے اس کو پروان چڑھانے کی کوشش کریں گے تو اول تو کسی ناپاک پانی سے اس کا نشو و نما پانا ہی اس کی فطرت کے خلاف ہے اور اگر وہ بظاہر نشو و نما پا بھی جائے گا تو وہ نیکی کے پھل نہیں بلکہ بدی ہی کے پھل دے گا۔ اس حقیقت کا تعلق حکمت قرآن سے ہے اور یہ تفصیل کے ساتھ اپنے محل میں زیر بحث آئے گی۔ یہاں اشارے پر قناعت کیجیے۔