Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 14

  1. اِنَّنِیْۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدْنِیْ١ۙ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِیْ﴿14﴾

    1. اِنَّنِيْٓبیشک میں
    2. اَنَامیں
    3. اللّٰهُاللہ
    4. لَآ اِلٰهَنہیں کوئی معبود
    5. اِلَّآ اَنَامیرے سوا
    6. فَاعْبُدْنِيْپس میری عبادت کرو
    7. وَاَ قِمِاور قائم کرو
    8. الصَّلٰوةَنماز
    9. لِذِكْرِيْمیری یاد کے لیے
Translation · Tadabbur-e-Quran
بیشک میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے تو میری ہی عبادت کیجیو اور میری یاد کے لئے نماز کا اہتمام رکھیو
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اننی انا اللہ لا الہ الا انا فاعبدنی واقم الصلوۃ لذکری 14 حضرت موسیٰ کو اولین تعلیم یہ اولین تعلیم ہے جو حضرت موسیٰ کو دی گی اور یہی تعلیم ہمیشہ تمام انبیاء کو دی گئی ہے۔ اس آیت کا تجزیہ کیجیے تو معلوم ہوگا کہ اس میں تین باتیں مذکور ہیں۔ سب سے پہلے عقیدہ توحید اس لئے کہ یہی عقیدہ مرکز دین ہے۔ جہاں تک خدا کے ماننے کا تعلق ہے دنیا نے ہمیشہ خدا کو مانا ہے۔ انکار خدا کی حماقت موجودہ زمانے کی پیداوار ہے، البتہ شرک کی ضلالت ہمیشہ کسی نہ کسی شکل میں انسان پر حملہ آور ہوتی رہی ہے چناچہ ہر نبی کو سب سے پہلے توحید ہی کی تعلیم دی گئی اور ہر نبی نے سب سے پہلے شرک ہی کے خلاف جہاد کیا۔ دوسری چیز جس کی حضرت موسیٰ کو ہدایت ہوئی وہ خدا کی عبادت ہے۔ یہ عبادت اللہ تعالیٰ کا حق ہے اور یہ حق بلا شرکت غیرے ہے۔ جب وہ معبود ہے تو لازم ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور جب اس کا کوئی شریک نہیں تو یہ بھی لازم ہے کہ یہ عبادت بلا شرکت غیرے ہو۔ اس عبادت کے لوازم میں سے، جیسا کہ ہم دوسرے مقامات میں ذکر کرچکے ہیں، خدا کی اطاعت بھی ہے۔ جس طرح خدا کے سوا کسی کی عبادت جائیز نہیں ہے اسی طرح خدا کے احکام کے خلاف طوعاً کسی کی اطاعت بھی جائز نہیں ہے۔ عبادت کی اصل روح خدا کے آگے اپنی بندگی اور غلامی کا اقرار اس کے ساتھ اپنے عہد اطاعت و وفاداری کی تجدید اور اس کا تذکر ہے۔ اس وجہ سے یہ بات خدا کی بندگی کے بالکل منافی ہے کہ تسبیح تو اس کی کی جائے اور شریعت خود تصنیف کی جائے یا کسی دوسرے کے لئے یہ حق تسلیم کیا جائے۔ یہ چیز شرک ہے۔ اس کے شرک ہونے کے دلائل ہم نے اپنے رسائل حقیقت شرک اور حقیقت توحید میں بیان کئے ہیں۔ تیسری چیز نماز ہے نماز کے لئے اقامت کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے اندر اہتمام کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ نماز کا حکم اللہ کے ذکر کو قائم و دائم رکھنے کے لیء دیا گیا ہے۔ اقم الصلوۃ لذکری نماز انفرادی ہو یا اجتماعی خدا کے ذکر کی سب سے بڑی محافظ بھی ہے اور اس کا سب سے اعلیٰ اور سب سے زیادہ مئوثر مظہر بھی۔ اسی وجہ سے تمام انبیاء کو توحید کی تعلیم کے بعد سب سے پہلے اسی کی ہدایت ہوئی۔ نماز ہی کے ذریعے سے بندہ اپنے عہد بندگی کو یاد کرتا ہے جو اس کے رب نے اس سے لیا ہے اور جو اپنے رب سے اس نے باندھا ہے اور اسی کے ذریعہ سے کوئی امت اپنے اس میثاق کو یاد رکھتی ہے جو خدا نے اس سے لیا ہے اور جس کا خدا سے اس نے اقرار کیا ہے۔ اگر کوئی فرد یا امت نماز کو ضائع کر دے تو اس نے پورے دین کو ضائع کردیا۔ اس مضمون کی وضاحت سورة مریم کی آیت 59 کے تحت ہوچکی ہے۔ اس پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔