Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 15

  1. اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ اَكَادُ اُخْفِیْهَا لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا تَسْعٰى﴿15﴾

    1. اِنَّبیشک
    2. السَّاعَةَقیامت
    3. اٰتِيَةٌآنے والی
    4. اَكَادُمیں چاہتا ہوں
    5. اُخْفِيْهَامیں اسے پوشیدہ رکھوں
    6. لِتُجْزٰىتاکہ بدلہ دیا جائے
    7. كُلُّ نَفْسٍہر شخص
    8. بِمَا تَسْعٰياس کا جو وہ کوشش کرے
Translation · Tadabbur-e-Quran
بیشک قیامت شدنی ہے۔ میں اس کو چھپائے ہی رکھوں گا تاکہ ہر جان کو اس کے عمل کا بدلہ دیا جائے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قیامت کی یاد دہانی یہ قیامت کی یاد دہانی ہے اور اس کے لئے آتیۃ کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنی صرف یہ نہیں ہیں کہ وہ آئے گی، بلکہ یہ فاعل کا صیغہ ہے جس کے اندر زور اور تاکید ہے کہ یہ آ کے رہے گی، یہ شدنی اور اٹل ہے۔ یہ امر محلوظ ہے کہ قیامت کے باب میں عام ذہن کبھی انکار صریح کا نہیں بلکہ تعجب اور استبعاد کا رہا ہے۔ اس وجہ سے قرآن نے اس کے اثبات کے پہلو بہ پہلو اس کی قطعیت پر بہت زور دیا ہے۔ قیامت کا مقصد لتجزی کل نفس بما تسعی یہ قیامت کا اصل مقصد بیان ہوا ہے کہ اس کا آنا اس لئے لا بدی ہے کہ ہر جان کو اس کی کمائی کا، نیک ہو یا بد، بدلہ دیا جانا ناگزیر ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو یہ دنیا ایک رحیم و حکیم کی بنائی ہوئی دنیا نہیں بلکہ ایک کھلنڈرے کا کھیل بن کے رہ جاتی ہے اور یہ بات بالبداہت خلاف عقل ہے۔ بما تسعی کے لفظ نے یہ حقیقت بھی واضح کردی کہ یہ بھی ضروری یہع کہ ہر شخص اپنے عمل ہی کا بدلہ پائے گا۔ کسی کے اعمال تو ہیں شیطان کے لیکن وہ کسی کی سعی و سفارش یا اپنے حسب و نسب کے بل پر مرتبہ صاحلین و ابرار کا حاصل کرلے یا باز پرس سے بری ہوجائے تو اس کے معنی نعوذ باللہ یہ ہوں گے کہ اللہ میاں کے ہاں بھی اصل قدر عمل اور کردار کی نہیں بلکہ شفاعت و سفارش اور خاندان و نسب ہی کی ہے۔ ایک بلیغ جملہ معترضہ آیت کے بیچ میں اکادا اخفیھا کے الفاظ بطور جملہ معترضہ کے ہیں۔ یہ جملہ معترضہ نہایت بلیغ ہے۔ صرف یہ نہیں فرمایا کہ میں یا مت کو چھپائے رکھوں گا بلکہ فرمایا کہ قریب ہے کہ میں اس کو چھپائے ہی رکھوں، عربیت کا ذوق رکھنے والے اندازہ کرسکتے ہیں کہ لفظ اکاد سے جملہ کے اندر یہ مضمون پیدا ہوگیا ہے کہ ہرچند میں نے تو ابھی قیامت پر پردہ ڈال رکھا ہے اور یہ پردہ ابھٹی ڈالے یہ رکھوں گا لیکن خود قیامت کا یہ حال ہے کہ وہ بےنقاب ہوجانے کے لئے بالکل بےقرار ہے۔ یہی مضمون دوسرے الفاظ میں سورة اعراف میں یوں وارد ہوا ہے۔ ثقلت فے السموت ولارض لا تاتیکم الا بغتۃ (آسمان و زمین دونوں اس کے بوجھ سے گرانبار ہیں، وہ تمہارے اوپر بس اچانک ہی آدھمکے گی۔ 1)