Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 16

  1. فَلَا یَصُدَّنَّكَ عَنْهَا مَنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ فَتَرْدٰى﴿16﴾

    1. فَلَا يَصُدَّنَّكَپس تجھے روک نہ دے
    2. عَنْهَااس سے
    3. مَنْجو
    4. لَّا يُؤْمِنُایمان نہیں رکھتا
    5. بِهَااس پر
    6. وَاتَّبَعَاور وہ پیچھے پڑا
    7. هَوٰىهُاپنی خواہش
    8. فَتَرْدٰىپھر تو ہلاک ہوجائے
Translation · Tadabbur-e-Quran
تو نماز سے تمہیں وہ شخص غافل نہ کرنے پائے جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا اور اپنی خواہشوں کا پیرو ہے کہ تم ہلاک ہو کر رہ جائو
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فلا یصدنک عنھا من لایومن بھا وا تبع ھوئہ فتردی 16 ایجازبیان کی ایک مثال عنھا میں ضمیر کا مرجع ہمارے نزدیک صلوۃ ہے اور بھا کی ضمیر کا مرجع الساعۃ ہے یعنی نماز سے تمہیں وہ شخص روکنے یا غفل نہ کرنے پاوے جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا اور اپنی خواہشوں کا پیرو ہے۔ یہ مفہوم لے نل میں اگرچہ بظاہر انتشار ضمیر کا سوال پیدا ہوتا ہے جس کو کلام کا عیب سمجھا جاتا ہے لیکن انتشار ضمیر صرف اس صورت میں عیب ہے جب مرجع کے تعین کے لئے کوئی واضح قرینہ موجود نہو۔ اگر واضح قرینہ موجود ہو تو کوئی عیب نہیں بلکہ اس سے کلام میں ایجاز کا حسن پیدا ہوتا ہے اور فصحا کے کلام میں اس کی نہایت عمدہ مثالیں موجود ہیں۔ یہاں قرینہ بالکل واضح ہے۔ نماز اور قیامت کے ذکر کے بعد دو فعل استعمال ہوئے ہیں ایک یضدن اور دوسرا یومن زبان کا ذوق رکھنے والا شخص بےتکلف سمجھ سکتا ہے کہ پہلا فعل صلوۃ سے واضح مناسبت رکھتا ہے اور دوسرا قیامت سے یہی رائے اگلوں میں سے ابو مسلم کی ہے اور مجھے یہ رائے ہر اعتبار سے صحیح معلوم ہوتی ہے۔ نماز اور ایمان بالآخرۃ کا باہمی تعلق حکمت دین کے پہلو سے اس مسئلہ پر غور کیجیے تو یہ ایک حقیقت ہے کہ جو شخص آخرت پر پختہ ایمان نہیں رکھتا اس کے لئے نماز ایک مصیبت ہے۔ قرآن میں اس کی تصریح موجود ہے۔ آیت 46-45 اور بیشک یہ بہت گراں ہے مگر ان ڈرنے والوں پر جو یہ گمان رکھتے ہیں کہ انہیں اپنے رب سے ملنا ہے اور اسی سے انکو سابقہ پڑنے والا ہے۔ اسی طرح یہ بات بھی قرآن میں موجود ہے کہ اتباع ہوا اور ترک نماز میں لازم و ملزوم کا رشتہ ہے۔ سورة مریم میں یہ آیت گزر چکی ہے۔ فخلف من بعد ھم خلف اضاعوا پس ان کے بعد ایسے برے جانشین اٹھے جنہوں نے 1۔ اس مضمون کی مزید وضاحت مطلوب ہو تو اس آیت کی تفسیر تدبر قرآن جلد سوم صفحہ 404 پر ملاحظہ فرمائیے۔ الصلوۃ و اتبعوا الھوت فسوف یلقون عیاً (59 مریم) نماز ضائع کردی اور خواہشوں کے پیروبن گئے تو وہ عنقریب اپنی گمراہی کے انجام سے دوچار ہوں گے۔ یہود و نماز اور ایمان بالآخرۃ دونوں ضائع کربیٹھے ان آیات سے یہ بات واضح ہوئی کہ حضرت موسیٰ کو توحید کی تعلیم کے بعد سب سے پہلے جس چیز کی تاکید ہوئی وہ نماز ہے اور خاص طور پر جس چیز کی یاد دہانی کی گئی وہ آخرت ہے۔ یہی بات حضرات انبیائے کرام کی تاریخ سے، جیسا کہ سورة مریم میں آپ معلوم کرچکے ہیں، ہم آہنگ بھی ہے لیکن یہود کی بدقسمتی قابل تم ہے کہ انہوں نے نماز بیس ضائع کردی اور آخرت کو بھی بھلا بیٹھے۔ آپ کو یہ سن کر تعجب ہوگا کہ ان کے صحیفوں میں قربانی کا ذکر تو ملتا ہے لیکن نماز کا ذکر بالخصوص ہیکل میں صرف ایک جگہ سفر خامس باب 26 میں ملات ہے۔ ان کے بعض فقہاء کا خیال تو یہ بھی ہے کہ حضرت موسیٰ نے نماز کا حکم سرے سے دیا ہی نہیں، اگر تو رات میں اس کا کہیں ذکر ہے تو وہ بعد کے مرتبوں کی ایجاد ہے۔ رہا آخرت کا معاملہ تو ان کے صدوقی تو حشر بعدالموت کے سرے سے قائل ہی نہیں ہیں۔ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ جزا و سزا جو کچھ ہے سب اسی دنیا میں پوری ہوجاتی ہے۔ ہمارے ہاں مرجہ نے بھی اپنا عقیدہ معلوم ہوتا ہے کہ انہی سے مستعار لیا ہے۔ آخر میں لفظ فتردی بطور تنبیہ ہے کہ اگر نماز اور یاد آخرت سے غفلت ہوئی تو سمجھ لو کہ بیڑا غرق ہوجائے گا۔ یہی چیزیں سارے دین کی حفاظت کرنے والی اور شیطان کے فتنوں سے امان میں رکھنے والی ہیں۔ جو ان سے غافل ہوا اس نے گویا اپنے آپ کو شیطان کے حوالہ کردیا۔