تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 18
قَالَ هِیَ عَصَایَ١ۚ اَتَوَكَّؤُا عَلَیْهَا وَ اَهُشُّ بِهَا عَلٰى غَنَمِیْ وَ لِیَ فِیْهَا مَاٰرِبُ اُخْرٰى﴿18﴾
- قَالَاس نے کہا
- هِىَیہ
- عَصَايَمیرا عصا
- اَتَوَكَّؤُامیں ٹیک لگاتا ہوں
- عَلَيْهَااس پر
- وَاَهُشُّاور میں پتے جھاڑتا ہوں
- بِهَااس سے
- عَلٰيپر
- غَنَمِيْاپنی بکریاں
- وَلِيَاور میرے لیے
- فِيْهَااس میں
- مَاٰرِبُضرورتیں (فائدے)
- اُخْرٰىاور بھی
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس نے کہا، یہ میری لٹھیا ہے، میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں کے لئے پتے جھاڑتا ہوں اور اس میں میرے لئے دوسرے فائدے بھی ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 18
عش کے معنی
عش کے معنی درخت سے پتے جھاڑنے کے لئے ہیں۔ عکبری نے اھش بھا علی غنمی کے معنی اقوم بھا علی غنمی کے لئے ہیں۔ یعنی اس لٹھیا سے میں اپنے ریوڑ کی چرواہی اور حفاظت کرتا ہوں۔ اگر لعنت سے اس معنی کی شہادت مل جائے تو بہت خوب ہے لیکن عکبری نے کوئی شہادت نہیں پیش کی ہے۔ اس وجہ سے میں نے معروف معنی ہی کی پیروی کی ہے۔
ریذ بود حکایت راز تر گفتم !
حضرت موسیٰ نے جواب دیا کہ یہ میری لٹھیا ہے جس پر میں عندالضرورت ٹیک بھی لگاتا ہوں، اپنی بکریوں کے لئے درختوں سے پتے بھی جھاڑ لیتا ہوں اور میرے دوسرے کام بھی اس سے نکلتے ہیں۔
صاف محسوس ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ نے سوال کا صرف سیدھا سادا جواب دے دینے پر اکتفا نہیں فرمایا بلکہ ان کے جواب میں کچھ انبساط کلام اور سخن گستری کی شان پیدا ہوگئی ہے۔ وہ صرف یہ جواب بھی دے سکتے تھے کہ یہ میری لٹھیا ہے لیکن انہوں نے سوال کے انداز سے بھانپ لیا کہ یہ محض سوال نہیں ہے بلکہ اس میں التفات خاص کی دل نوازی بھی ہے۔ اس وجہ سے انہوں نے جواب میں تفصیل سے کام لیا کہ شاید اں طرح کچھ مزید سوال و جواب کی راہ کھلے۔ مخاطب کرنے والا محبوب و مطلوب ہو تو گفتگو کو طویل کرنے کی خواہش ایک امر فطری ہے۔
لذیذ بود حکایت دراز ترگفتم !