Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 40

  1. اِذْ تَمْشِیْۤ اُخْتُكَ فَتَقُوْلُ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى مَنْ یَّكْفُلُهٗ١ؕ فَرَجَعْنٰكَ اِلٰۤى اُمِّكَ كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ١ؕ۬ وَ قَتَلْتَ نَفْسًا فَنَجَّیْنٰكَ مِنَ الْغَمِّ وَ فَتَنّٰكَ فُتُوْنًا١۫۬ فَلَبِثْتَ سِنِیْنَ فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ١ۙ۬ ثُمَّ جِئْتَ عَلٰى قَدَرٍ یّٰمُوْسٰى﴿40﴾

    1. اِذْجب
    2. تَمْشِيْٓجارہی تھی
    3. اُخْتُكَتیری بہن
    4. فَتَقُوْلُتو وہ کہہ رہی تھی
    5. هَلْ اَدُلُّكُمْکیا میں تمہیں بتاؤں
    6. عَلٰيپر
    7. مَنْجو
    8. يَّكْفُلُهٗاس کی پرورش کرے
    9. فَرَجَعْنٰكَپس ہم نے تجھے لوٹا دیا
    10. اِلٰٓىطرف
    11. اُمِّكَتیری ماں
    12. كَيْ تَقَرَّتاکہ ٹھندی ہو
    13. عَيْنُهَااس کی آنکھ
    14. وَلَا تَحْزَنَاور وہ غم نہ کرے
    15. وَقَتَلْتَاور تونے قتل کردیا
    16. نَفْسًاایک شخص
    17. فَنَجَّيْنٰكَتو ہم نے تجھے نجات دی
    18. مِنَ الْغَمِّغم سے
    19. وَفَتَنّٰكَاور تجھے آزمایا
    20. فُتُوْنًاکئی آزمائشیں
    21. فَلَبِثْتَپھر تو ٹھہرا رہا
    22. سِنِيْنَکئی سال
    23. فِيْٓمیں
    24. اَهْلِ مَدْيَنَمدین والے
    25. ثُمَّپھر
    26. جِئْتَتو آیا
    27. عَلٰي قَدَرٍوقت مقرر پر
    28. يّٰمُوْسٰىاے موسیٰ
Translation · Tadabbur-e-Quran
جب کہ تمہاری بہن جاتی اور کہتی تھی کہ کیا میں ایسے لوگوں کا پتہ دوں جو اس بچے کی پرورش کریں۔ پس ہم نے تم کو تمہاری ماں کی طرف لوٹا دیا کہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائے اور تم نے ایک شخص کو قتل کردیا تو ہم نے تم کو غم سے نجات دی اور ہم نے تم کو خوب خوب پرکھا۔ پھر تم کئی سال اہل مدین میں رہے۔ پھر ایک خاص اندازہ کئے ہوئے وقت پر تم یہاں پہنچے اے موسیٰ !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اس آیت میں حضرت موسیٰ کی سرگزشت کا ایک بہت بڑا حصہ سمیٹ دیا گیا ہے۔ جن باتوں کی تذکیر اس موقع پر ضروری نہیں تھی ان کو حذف کر کے صرف چند باتوں کی طرف اجمالی اشارہ ہے اور پھر آگے سلسلہ کلام اصل موضوع بحث سے مربوط ہوگیا۔ حضرت موسیٰ کے اپنی ماں کی طرف لوٹائے جانے کے لئے غدائی تدبیر اذ تمشی اختک … الایۃ یہ اس تدبیر کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے دریا میں ڈالے جانے کے بعد حضرت موسیٰ کو ان کی ماں کی طرف لوٹائے جانے کے لئے اختیار فرمائی۔ اوپر سورة قصص آیت 7 کے حوالہ سے گزر 1۔ تورات میں فرعون کی بیوی کے بجائے اس کی لڑکی کا ذکر آتا ہے کہ ہو اور اس کی سہیلیاں بچہ کو اٹھا کر لائیں۔ قرآن نے اس کی تصحیح کردی اس کی وضاحت کے لئے سورة قصص آیت 9 کی تفسیر ملاحظہ کیجیے۔ چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی والدہ کو جب یہ ہدایت فرمائی کہ بچہ کو دریا میں ڈال دو تو ساتھ ہی یہ اطمینان بھی دلادیا کہ ہم بچے کو پھر تمہارے پاس واپس لائیں گے۔ یہ وعدہ جس شکل میں پورا ہوا یہاں اس کی طرف سرسری اشارہ ہے۔ اس کی تفصیل سورة قصص کی آیت 13-9 میں یوں آئی ہے کہ جب فرعون کی بیوی نے بچہ کو دیکھا تو انہوں نے فرعون سے کہا کہ بڑا موہنا بچہ ہے۔ اس کو قتل نہ ہونے دو یہ میری اور تمہاری دونوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ یہ ہمارے کام آئے گا یا ہم اس کو لے پالک بنا لیں گے۔ ادھر والدہ حضرت موسیٰ کا یہ حال تھا کہ انہوں نے بچے کو ایمائے خداوندی سے دریا میں ڈال تو دیا لیکن غم سے کلیجہ پھٹا جا رہا تھا۔ انہوں نے حضرت موسیٰ کی بہن سے کہا کہ وہ دیکھتی رہیں کہ صندوق کدھر بہہ کے جاتا ہے۔ وہ لوگوں کی نظر بچا کر اس کو دیکھتی رہیں۔ بالآخر ان کو معلوم ہوگیا کہ صندوق فرعون کے محل کے پاس پہنچا اور وہاں دریا نے اس کو کنارے پر ڈال دیا اور فرعون اور اس کی بیوی نے بچہ کو اٹھا لای۔ حضرت موسیٰ کی بہن فرعون کے محل میں پہنچیں وہاں انہوں نے دیکھا کہ بچے کو کسی دایہ کا دودھ پلانے کی کوشش کی ج رہی ہے لیکن بچہ مچلا ہوا ہے، وہ کسی چھاتی منہ ہی سے نہیں لگاتا۔ حضرت موسیٰ کی بہن نے فرعوکن کی بیوی کے سامنے یہ تجویز پیش کی کہ اگر آپ لوگ کہیں تو میں ایک ایسے گھر والوں کا پتہ دے سکتی ہوں جو اس بچے کی نہایت اچھی طرح دیکھ بھال کریں گے اور بچے کو مانوس کرلیں گے۔ چونکہ حضرت موسیٰ کے دودھ نہ پینے کے سبب سے فرعون اور اس کے گھر والوں کو نہایت پریشانی تھی اس وجہ سے یہ تجویز مان لی گی اور اس طرح حضرت موسیٰ پھر اپنی ماں کی آغوش میں پہنچ گئے تورات میں یہ واقعہ یوں بیان ہوا ہے۔ ”تب اس کی بہن نے فرعون کی بیٹی کو کہا کہ کہیے تو میں جا کے عبرانی عورتوں میں سے ایک دائی تجھ پاس لے آئوں تاکہ وہ تیرے لئے اس لڑکے کو دودھ پلائے۔ فرعون کی بیٹی نے اسے کہا کہ جا وہ چھوکری گئی اور لڑکے کی ماں کو بلایا۔ فرعون کی بیٹی نے اس سے کہا کہ اس لڑکے کو لے اور اسے میرے لئے دودھ پلا، میں تجھے اجرت دوں گی۔ اس عورت نے لڑکے کو لیا اور دودھ پلایا۔“ خروج 9-7-2 تورات اور قرآن کے بیان میں جو فرق ہے اس پر تبصرہ کی ضرورت نہیں۔ ہر ذی فہم آدمی اندازہ کرسکتا ہے کہ قرآن کا بیان ہر اعتبار سے قرین عقل و فطرت ہے۔ افسوس ہے کہ تورات والے اپنے گھر کی باتوں سے بالکل بیخبر ہیں۔ یہاں اذ تمشی اختک فتقول میں صیغے مضارع کے استعمال ہوئے ہیں۔ اس سے میرا ذہن اس طرف جاتا ہے کہ حضرت موسیٰ کی بہن کو بار بار فرعون کی بیوی کو مطمئن کرنے کے لئے ان کے پاس آنا جانا پڑا تب وہ اپنی تجویز پر ان کو راضی کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ اس طرح حضرت موسیٰ دوبارہ اپنی ماں کے پاس پہنچے اور ماں کا کلیجہ ٹھنڈا ہوا۔ میں نے ترجمہ میں مضارع کے مفہوم کو ادا کرنے کی کوشش کی ہے اور عربیت کے اس قاعدہ کو بھی محلوظ رکھا ہے کہ مضارع سے پہلے فعل ناقص محذوف ہے۔ اگر اردو میں مدعا ٹھیک ادا نہ ہوا ہو قاعدہ کو بھی ملحوظ رکھا ہے کہ مضارع سے پہلے فعل ناقص محذوف ہے۔ اگر اردو میں مدعا ٹھیک ادا نہ ہوا ہو تو اس کو میرے قلم کی کوتاہی پر محمول کیجیے۔ وقتلت نفساً فنجینک من الغیم وفتنک فتوناً فلبثت سنین فی اھل مدین ثم جئت علی قدر یموسی قبطی نے قتل کا واقعہ دریا سے نکالے جانے کے بعد سے لیکر عہد جوانی تک حضرت موسیٰ نے جن حالات میں زندگی گزاری ان میں سے یہاں صرف قبطی کے قتل اور ان کے مدین جانے کے واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ یہ اشارہ بھی اسی مقصد کے لئے ہے جس مقصد سے اوپر والے واقعہ کی یاد دہانی کی گئی ہے کہ حضرت موسیٰ کو اطمینان ہوجائے کہ جس رب نے ان کی ایسے خطرناک اور نامساعدہ حالات میں مدد اور رہنمائی فرمائی ہے وہ آگے کے مراحل میں بھی مدد اور رہنمائی فرمائے گا۔ یہاں چونکہ واقعات کی طرف صرف اجمالی اشارہ ہے اس وجہ سے ہم سورة قصص کی روشنی میں ان کی تفصیل کئے دیتے ہیں۔ یہ تفصیل ہم اپنے الفاظ میں کریں گے۔ آیات کی وضاحت اور ان کی مشکلات کی تحقیق انشاء اللہ اپنے محل میں آئے گی۔ قصص کی آیات 29-14 سامنے رکھ لیجیے ان کی روشنی میں صورت واقعہ یوں سامنے آتی یہ۔ ان آیات کے اجمال کی وضاحت سورة قصص کی روشنی میں حضرت موسیٰ جب جوان ہوئے اور ان کو عقل و علم کی روشنی حاصل ہوئی تو ان کو اپنی قوم کی ذلت و مظلومیت کا نہایت شدت کے ساتھ احساس ہوا۔ بنی اسرائیل کی حیثیت مصر میں غلاموں کی تھی اس وجہ سے ان کی بستی بھی اصل شہر سے الگ بسائی گی تھی۔ اسرائیلی صرف خدمت اور بیگار کے لئے شہر جاتے اور وہاں اپنے قبطی آقائوں کے ہاتھوں بری طرح پٹے اور ذلیل ہوتے۔ حضرت حضرت موسیٰ کی غیرت ان مناظر کو دیکھ کر جوش میں آجاتی اور بسا اوقات اپنے مظلوم ہم قوموں کی حمایت میں وہ سینہ سپر ہوجاتے۔ فرعونیوں کو اندیشہ ہوا کہ اگر اسرائیلیوں کو ان کی حوصلہ افزائی کرنے والا کوئی لیڈر مل گیا تو وہ دلیر ہوجائیں گے اور پھر ان کی آقائی خطرے میں پڑجائے گی اس وجہ سے وہ حضرت موسیٰ کے دشمن ہوگئے اور غالباً حکومت نے ان کا داخلہ بھی شہر میں بند کردیا۔ لیکن حضرت موسیٰ دشمنوں کی نظر بچا کر اپنے ہم قوموں کے حالات سے باخبر رہنے کے لئے شہر میں بند کردیا۔ لیکن حضرت موسیٰ دشمنوں کی نظر بچا کر اپنے ہم قوموں کے حالات سے باخبر رہنے کے لئے شہر میں جاتے۔ ایک دن اسی طرح نظر بچا کر وہ شہر میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ایک اسرائیلی اور ایک قبطی آپس میں گتھم گتھا ہیں۔ اسرائیلی نے حضرت موسیٰ سے فریاد کی۔ حضرت موسیٰ کی غیرت کو جوش آگیا۔ انہوں نے اسرائیلی کی مدد کرنی چاہی تو قبطی ان سے لجھ پڑا۔ حضرت موسیٰ تگڑے تھے۔ انہوں نے جو ایک گھونسا رسید کیا تو وہ کہیں بےڈھب پڑا اور قبطی وہیں ڈھیر ہو کے رہ گیا۔ حضرت موسیٰ کو اس حادثہ کا بڑا غم ہوا کہ بلا قصد ان کے ہاتھوں ایک ایسا جرم صادر ہوگیا جس پر وہ عند اللہ مسئول ہوں گے۔ چناچہ انہوں نے بہت استغفار کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کی غلطی معاف کردی۔ اللہ تعالیٰ کے اس انعام پر انہوں نے عہد کیا کہ آئندہ میں کبھی مجرموں کا حمایتی نہیں بنوں گا۔ دوسرے دن پھر نظر بچا کر شہر پہنچے تو دیکھا کہ وہی اسرائیلی جو کل طالب مدد ہوا تھا آج پھر ایک قبطی سے لڑ رہا ہے۔ اس نے حضرت موسیٰ کو دیکھا تو ان سے مدد کا طالب ہوا لیکن حضرت موسیٰ نے اس کو جھڑک دیا کہ تم ایک شربر آدمی معلوم ہوتے ہو ! تاہم وہ بڑھے کہ قبطی کو پکڑیں اور دونوں میں بیچ بچا کرا دیں۔ اسرائیلی یہ سمجھا کہ آج وہ اسے غلطی پر سمجھ کر پکڑنا چاہتے ہیں۔ وہ ڈرا کہیں آج حضرت موسیٰ کا گھونسا اس پر نہ پڑجائے ورنہ اس کی جان کی بھی خیر نہیں ہے۔ وہ چلایا کہ موسیٰ ! کل تم نے ایک جان لی ہے، کیا آج میری جان بھی لینے کا ارادہ ہے ! اگر تم نے یہ روش اختیار کی ہے تو یہ تو کسی مصلح کی روش نہیں ہوئی بلکہ معلوم ہوتا ہے کہ تم ملک میں ایک ڈکٹیٹر بننے کا ارادہ رکھتے ہو۔ 1 اس سے حضرت موسیٰ کو یہ اندازہ ہوگیا کہ قبطی کے قتل کا واقعہ راز نہیں ہا ہے۔ پھر مزید برآں یہ ہوا کہ اکناف شہر سے ایک شخص بھاگا ہوا آیا اور اس نے حضرت موسیٰ کو یہ خبر دی کہ اعیان حکومت آپ کے قتل کے منصوبے بنا رہے ہیں تو میرا خیر خواہانہ مشورہ یہ ہے کہ آپ یہاں سے نکل جائیں۔ حضرت موسیٰ نے اس وقت ظالموں کے شر سے محفوظر ہنے کی دعا فرمائی اور خدا کی رہنمائی و کار سازی کے بھروسہ پر مدین کا رخ کیا۔ مدین کے ایک چشمے پر کچھ دیر کے لئے ٹھہرے تو دیکھا کہ کچھ چروا ہے اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے ہیں لیکن دو عورتیں اپنے گلے کو روکے ہوئے کھڑی ہیں۔ حضرت موسیٰ کے اندر جذبہ فتوت ابھرا اور انہوں نے ان سے پوچھا کہ آخر تم کیوں اپنے گلے کو روکے ہوئے کھڑی ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے باب بوڑھے ہیں، گلے کی چرواہی ہمیں کرنی پڑ رہی ہے اور ہم اس ریل پیل میں اپنے گلے کو پانی نہیں پلا سکتیں اس وجہ سے ہمیں در سے چرواہوں کے فارغ ہونے تک اپنی باری کے لئے انتظار کرنا پڑتا ہے۔ ان کی ہ بات سن کر حضرت موسیٰ کے دل میں ہمدردی پیدا ہوئی۔ وہ اٹھے ان کے گلے کو پانی پلایا اور پھر آ کر ایک درخت کے سایہ میں بیٹھ گئے اور یہ دعا کی کہ اے رب اس وقت تو مجھ پر اپنی جو رحمت نازل فرمائے، میں اس کا محتاج ہوں ! یہ دونوں صاحب زادیاں حضرت شعیب کی تھیں۔ کچھ دیر کے بعد ایک صاحب زادی شرماتی ہوئی حضرت موسیٰ کے پاس آئیں اور فرمایا کہ آپ کو ہمارے والد بلا ہے ہیں تاکہ آپ نے ہمارے گلے کو جو پانی پلایا ہے اس کا معاوضہ دیں۔ حضرت موسیٰ حضرت شعیب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کو اپنی ساری رو داد سنائی۔ حضرت شعیب نے ان کو تسلی دی کہ بس اب کوئی فکر نہ کرو، اللہ نے تم کو ظالموں سے نجات بخشی۔ حضرت شعیب کی ایک صاحبزادی نے باپ سے سفارش کی کہ آپ ان کو اپنی خدمت میں لگا لیجیے، یہ ایک قوی اور امانت دار آدمی نظر آتے ہیں، امید ہے کہ نہایت بہتر خدمت کرنے والے ثابت ہوں گے۔ حضرت شعیب نے حضرت موسیٰ سے کہا کہ میں اپنی ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک کا نکاح تمہارے 1۔ اس سوال پر انشاء اللہ ہم سورة قصص میں بحث کریں گے کہ یہ بات قبطی نے کہی یا اسرائیلی ہی اپنی حماقت کے سبب سے کہہ بیٹھا۔ یہاں مقصود صرف واقعہ کو سادہ طریقہ پر پیش کردینا ہے تاکہ آیت زیر بحث کے مضمران روشنی میں آجائیں۔ ساتھ اس شرط پر کردینا چاہتا ہوں کہ تم آٹھ سال میری خدمت کرو اور اگر تم نے دس سال پورے کردیئے تو اس کا انحصار تمہاری مرضی پر ہے۔ اس معاملے میں تم پر میں کوئی دبائو نہیں ڈالوں گا اور انشاء اللہ تم مجھے ایک بہتر آدمی پائو گے۔ حضرت موسیٰ نے یہ بات منظور کرلی اور فرمایا کہ یہ معاہدہ میرے اور آپ کے درمیان طے ہے۔ یہ میری مرضی پر ہے کہ میں آٹھ سال آپ کی خدمت کروں یا دس سال اس معامیل میں مجھ پر کوئی دبائو نہیں ڈالا جائے گا۔ اس معاہدے پر ہم دونوں اللہ کو گواہ ٹھہراتے ہیں۔ معاہدہ کی یہ مدت پوری کر کے جب حضرت موسیٰ مصر کے لئے واپس ہوئے توب طور کی ودی یمن میں ان کو وہ تجلی نظر آئی جس کو دیکھ کر وہ آگ لینے گئے اور نبوت لے کر لوٹے۔ سورة قصص کی یہ ساری تفصیل اس لئے ہم نے پیش کی ہے کہ سورة طہ کی زیر بحث آیت میں یہ پوری تفصیل سمیٹ دی گی ہے۔ جب تک یہ تفصیل سامنے نہ ہو آیت کا پورا مالہ و ماعلیہ سامنے نہیں آیا۔ اب ائٓینہ لے اجزاء پر غور کیجیے۔ حضرت موسیٰ کے غم اور ان کی لغزش کی نوعیت وقلت نفساً فنجینک من الغتم مصری کے قتل کا واقعہ جن حالات میں پیش آیا ہے وہ اوپر کی تشریحات سے واضح ہوچکے ہیں۔ حضرت موسیٰ ؑ نہ قتل کا ارادہ رکھتے تھے اور نہ مظلوم کی حمایت کے سوا ان کے اندر کوئی اور جذبہ تھا۔ یہ جذبہ ایک نہایت محمود اور اعلیٰ جذبہ ہے جو ہر اس شخص کے اندر ہونا ہے جو فتوت و شرافت اور حمیت وغیرہت سے خالی نہیں ہے۔ اس وجہ سے حضرت موسیٰ نے جو کچھ کیا وہ بجائے خود حق تھا۔ لیکن قضائے الٰہی سے ان کا گھونسا کچھ ایسا بےڈھب پڑا کہ مصری اس کی تاب نہ لا سکا اور وہ وہیں ڈھیر ہوگیا۔ حضرت موسیٰ کو خیال ہوا کہ یہ فعل بلا ارادہ سہی لیکن ان سے ایسا کام صادر ہوگیا ہے جس پر عند اللہ ان سے مواخذہ ہوسکتا ہے۔ اس تصور نے ان کو ایک شدید غم میں مبتلا کردیا۔ جن کے اندر خدا کا خوف ہوتا ہے وہ اپنے آپ کو الائونس دینے میں بہت فیاض نہیں ہوتے بلکہ وہ اپنا احتساب ان چیزوں پر بھی کرتے ہیں جن کے لئے وہ چاہیں تو آسانی سے عذر تلاش کرسکتے ہیں۔ حضرت موسیٰ کسی بےجا قومی عصبیت میں بھی مبتلا نہیں تھے اس وجہ سے انہیں یہ غم بھی ہوا ہوگا کہ ممکن ہے جس کی حمایت و حمایت میں ان سے یہ فعل صادر ہوا، زیادتی اسی کی رہی ہو۔ چناچہ اوپر کی تفصیلات میں آپ نے دیکھا کہ جب دوسرے دن اسی اسرائیلی کو ایک دور سے مصری سے انہوں نیلڑتے دیکھا اور وہ پھر ان سے طالب مدد ہوا تو انہوں نے اس کو جھڑک دیا کہ تم ایک شریر آدمی ہو۔ اگر حضرت موسیٰ کے اندر قوم پرستی کا پندار ہوتا تو غم تو درکنار، ان کو فخر ہوتا کہ اپنی قوم کی حمایت میں انہوں نے ایک عظیم کارنامہ انجام دیا ہے۔ لیکن یہ چیز بھی نہیں تھی جو ان کے لئے وجہ تسلی بن سکے اس وجہ سے انہیں اس حادثہ کا غم ہوا اور انہوں نے اپنے رب سے معافی مانگی۔ اللہ نے ان کو معاف فرمایا اور اس معافی نے ان کو اس غم سے نجات دی۔ ہمارے نزدیک اس غم میں حکومت کے انتقام کے خوف کو اگر کوئی دخل رہا ہوگا تو صرف اس پہلو سے رہا ہوگا کہ حکومت ایک نہایت ظالم حکومت تھی جس سے کسی اسرائیلی کے لئے کسی انصاف کی توقع نہیں تھی۔ اگر کوئی عادل حکوکمت ہوتی تو حضرت موسیٰ سارا معاملہ اس کے سامنے رکھ دیتے اور اس کے فیصلہ کی پابندی کرتے لیکن فرعون جیسی ظالم حکومت نے اپنے آپ کو حوالہ کرنا بالکل خود کشی کے مترادف تھا۔ ظاہر ہے کہ یہ صورت حال بھی حضرت موسیٰ کے لئے باعث غم ہوئی ہوگی۔ اس غم سے نجات حاصل کرنے کے لئے انہوں نے بالآخر وطن کو چھوڑا اور مدین چلے گئے۔ جہاں تک اس لغزش کے صدور کا تعلق ہے، اس کے بارے میں متعدد مقامات میں ہم وضاحت کرچکے ہیں کہ حضرات انبیاء سے بعثت سے پہلے یا بعثت کے بعد اگر کوئی لغزش صادر ہوتی ہے تو وہ اتباع ہوا کی نوعیت کی نہیں ہوتی بلکہ وہ اتباع حق یا طلب حق کے جوش میں کبھی کبھی اس کی مطلوبہ حد سے متجاوز ہوجاتے ہیں۔ یہ چیز بجائے خود کوئی برائی نہیں ہے لیکن حضرات انبیاء چونکہ حق کی کسوٹی ہوتے ہیں اس وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کی اس طرح کی باتوں پر بھی گرفت فرماتا ہے تاکہ میزان بالکل درست رہے۔ حضرت موسیٰ کی یہ لغزش بھی فی الحقیقت ایک نیکی تھی لیکن نیکی بھی اپنے حدود سے متجاوز ہوجائے تو جیسا کہ ہم نے عرض کیا۔ بعض اوقات قابل گرفت بن جاتی ہے۔ بالخصوص حضرات انبیاء کے بارے میں حضرت موسیٰ کے امتحانات وفتنک فتوناً فتن فتونا کے معنی جانچنے اور پرکھنے کے ہیں۔ سنار سونے کو کٹھالی میں ڈال کر اس کے کھوٹ کو جو الگ کرتا ہے یہ لفظ اس کے لئے بھی آتا ہے۔ یہی اللہ تعالیٰ نے ان امتحانات کے لئے استعمال کیا ہے جن میں اس نے حضرت موسیٰ کو ڈال کر اچھی طرح پرکھا تاکہ جس کار خاص کے لئے وہ ان کو منتخب فرمان چاہتا ہے اس کے وہ پوری طرح اہل بن جائیں۔ مصر میں ان کی زندگی، جیسی پر محن تھی اور وہاں سے جن پرخطر حالات میں وہ نکلے ہیں ان کا کچھ اندازہ تو اوپر کے اقتباس سے ہو ہی گیا، مدین جا کر، آٹھ یا دس سال، وہاں کے پہاڑوں اور جنگلوں میں حضرت شعیب کی بکریاں چرائیں۔ وہاں سے نکلے تو ابھی راستہ ہی میں تھے کہ رسالت کا بار عظیم ان پر ڈالا گیا۔ اس کے بعد جو زہرہ گداز حالت پیش آئے وہ اعراف میں بھی آپ پڑھ آئے ہیں، اس سورة میں بھی پڑھیں گے اور آگے قصص اور دوسری سورتوں میں بھی۔ غرض ولادت سے لے کر آخر لمحہ زندگی تک امتحانوں ہی سے سابقہ رہا اور وہ بھی ایک سے ایک بڑھ کر ! امتحانات تزبیت کا لازمہ ہیں ان امتحانوں سے متعلق ایک حقیقت ہمیشہ مستحضر رکھیے کہ یہ انسان کی تعلیم و تربیت کا لازمہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں کے ذریعہ سے انسان کی اعلیٰ صلاحیتوں کو پروان چڑھاتا ہے اس وجہ سے یہ بجائے خود بھاگنے اور گھبرانے کی چیز نہیں ہیں۔ جو شخص ان سے گھبراتا اور بھاگتا ہے وہ گویا اپنی تربیت سے گھبراتا اور بھاگتا ہے۔ ڈرنے اور گھبرانے کی کوئی چیز ہے تو یہ نہیں ہے کہ امتحان پیش آیا بلکہ یہ ہے کہ اس امحتان میں وہ کہیں ناکام نہ رہ جائے۔ امتحانات کے بارے میں سنت الٰہی یہ امتحانات صرف مشکلات و مصائب ہی کی راہ سے پیش آتے بلکہ انعامات و افضال کی شکل میں بھی پیش آتے ہیں۔ مصائب و مشکلات کے امتحانات میں اللہ تعالیٰ بندے کے صبر کی تربیت فرمانا چاہتا ہے اور انعامات و افضال کے امحتان میں اس کے شکر کو پروان چڑھانا چاہتا ہے اور اسی صبر و شکر پر تمام اعلیٰ صفات انسانی کا انحصار ہے۔ انہی دونوں صفتوں کی تکمیل سے دنیا میں ”نقش مطمئنہ“ کی بادشاہی حاصل ہوتی ہے اور پھر اسی کا ثمرہ وہ ابدی بادشاہی ہے جس کو قرآن نے راضیۃ مرضیۃ کے الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ حکمت قرآن کا ایک دقیق مسئلہ حکمت قرآن کا ایک دقیق مسئلہ یہ بھی ہے کہ صبر اور شکر کے امحتانوں میں سے زیادہ مشکل صبر کا امحتان ہے یا شکر کا ؟ اس باب میں صارفین کی رائے مختلف ہے۔ میرا اپنا رجحان، قرآن کی روشنی میں، یہ ہے کہ شکرکا امحتان زیادہ مشکل ہے۔ اس میں پاس ہونے والوں کا اوسط بہت کم ہے۔ مصائب میں حق پر ثابت قدم رہنے والے تو کچھ نکل آتے ہیں لیکن نعمت پا کر بہکنے سے محفوظ رہنے والے بہت کم نکلتے ہیں۔ وقلیل من عبادی الشکور (سبا 18) میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ یہ حقیقت بھی پیش نظر رہے کہ جن کو اللہ تعالیٰ جتنے ہی اعلیٰ مرتاب پر فائز فرمانا چاہتا ہے ان کے امحتانات بھی اتنے ہی زیادہ وراتنے ہی سخت ہوتے ہیں۔ چناچہ حضرات انبیائے کرام کو جو امحتانات پیش آئے ہیں ان کی تفصیلات پڑھیے تو کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ ہم اور آپ تو ان کے برداشت کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ اصل ڈرنے کی چیز جن کے رتبے ہیں سوا ان کو سوا مشکل ہے ! ان امتحانوں کے معاملے میں اصل ڈرنے کی چیز یہ نہیں ہے کہ امتحان پیش آئے یا پیش آئیں گے بلکہ ایک تو وہی چیز ہے جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا کہ انسان اس بات سے ڈرے کہ مبادا کسی امحتان میں وہ فیل ہوجائے اور دوسری بات اس سے بھی زیادہ ڈرنے کی یہ ہے کہ مبادا وہ سرے سے امحتان ہی سے خارج کردیا جائے اس لئے کہ سنت الٰہی یہ بھی ہے کہ جو شخص بار بار فیل ہی ہوتا رہتا ہے بسا اوقات اللہ تعالیٰ اس کو اپنے امحتان ہی سے محروم کردیتا ہے۔ قرآن کی اصطلاح میں اس کو امہال کہتے ہیں اور یہ سخت ترین سزا ہے جو اس دنیا میں کسی فرد یا قوم کو اللہ تعالیٰ کی طر سے دی جاتی ہے۔ اس کے بعد اس کے لئے امید کے تمام دروازے بند ہوجاتے ہیں۔ مدین میں قیام کی مدت فلبثت سنین فی اھل مدین یہاں اس بات کی کوئی تصریح نہیں ہے کہ حضرت موسیٰ مدین میں کتنے سال رہے لیکن اوپر سورة قصص کی روشنی میں ہم نے جو تفصیلات پیش کی ہیں ان سے واضح ہے کہ اس معاہدے کے تحت، جو حضرت شعیب کے ساتھ انہوں نے کیا، کم از کم آٹھ سال یا زیادہ سے زیادہ دس سال وہاں انہوں نے گزارے اور اس دوران میں بظاہر یہی ہوتا ہے کہ انہوں نے ان کی بکریاں چرائیں۔ مرحلہ نبوت ثم جئت علی قدر یموسی اوپر کے تمام حالات و واقعات کا حوالہ دینے کے بعد ارشاد ہوا کہ یہ جو کچھ ہوا ہماری سکیم اور ہمارے مقرر کئے ہوئے پروگرام کے مطابق ہوا اور ان تمام مراحل سے گزرتے ہوئے ٹھیک اس وقت پر جو ہم نے تمہاری یہاں کی حاضری کے لئے پہلے سے مقرر کر رکھا تھا، تم یہاں پہنچے اور ہم نے تمہیں اپنی نبوت و رسالت سے مشرف کیا۔ مطلب یہ ہے کہ جس خدا نے تمہاری ولادت سے لے کر اب تک ہر مرحلہ میں تمہاری حفاظت کی ہے اور تمہارے لئے اپنے منصوبے تمہارے اور اپنے دونوں کے دشمنوں سے پورے کرائے ہیں وہ ہر قدم پر تمہارے ساتھ ہے اور جو ذمہ داری وہ تمہارے سپرد کر رہا ہے اس کے ادا کرنے کے لئے وہ خود راہیں کھولے گا اور خود اسباب فراہم فرمائے گا۔