تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 42
اِذْهَبْ اَنْتَ وَ اَخُوْكَ بِاٰیٰتِیْ وَ لَا تَنِیَا فِیْ ذِكْرِیْۚ﴿42﴾
- اِذْهَبْتو جا
- اَنْتَتو
- وَاَخُوْكَاور تیرا بھائی
- بِاٰيٰتِيْمیری نشانیوں کے ساتھ
- وَلَا تَنِيَااور سستی نہ کرنا
- فِيْ ذِكْرِيْمیری یاد میں
Translation · Tadabbur-e-Quran
تم اور تمہارا بھائی میری نشانیوں کے ساتھ جائو اور میرے ذکر میں ڈھیلے نہ پڑنا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 42
یہ اس حکم کا اعادہ ہے جو آیت 24 میں دیا گیا کہ فرعون کے پاس جائو اور اس کو انذار کور۔ بیچ کی آیات حضرت موسیٰ کی تسکن و تسلی کے لئے ہیں۔ ان کی دعا کی قبولیت کی بشارت اور ان پر سابق افضال و عنایات کا حوالہ دینے کے بعد پھر ہدایت ہوئی کہ میری نشانیوں کے ساتھ بےخوف و خطر، فرعون کے پاس جائو۔ پہلے صرف حضرت موسیٰ کو حکم ہوا تھا لیکن اب حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون دونوں کو حکم ہوا اس لئے کہ حضرت موسیٰ کی درخواست پر حضرت ہارون بھی شریک نبوت بنا دیئے گئے تھے۔
ذکر سے مراد
ولاتنیا فی ذکری اسی ہدایت کی تاکید مزید ہے جو آیت 14 میں دی گئی۔ مطلب یہ ہے کہ خدا کے ذکر میں ڈھیلے نہ پڑھنا ذکر سے مراد جیسا کہ آیت 34 کے تحت ہم ذکر کر آئے ہیں، ذکر عبادت و ذکر دعوت دونوں ہی ہے۔ نبی کا ہر کام ذکر الٰہی ہوتا ہے۔ وہ جب نماز پڑھتا ہے تو اس کے ذریعہ سے درحقیقت اس تذکیر کے لئے اللہ تعالیٰ سے قوت و معرفت حاصل کرتا ہے جو وہ خلق کو کرتا ہے۔ دعوت حق کا اصل سرچشمہ اللہ تعالیٰ ہے۔ اسی سرچشمہ سے اس کو غذا اور قوت حاصل ہوتی ہے۔ اگر اس سرچشمہ سے تعلق کمزور ہوجائے تو دعوت بےجان اور بےروح ہوجاتی ہے اور اگر اس سرچشمہ سے تعلق بالکل ہی منقطع ہوجائے تو پھر وہ دعوت بالکل شیطانی دعوت بن کے رہ جاتی ہے اگرچہ اس میں نام خدا ہی کا لیا جائے۔