تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 44
فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّهٗ یَتَذَكَّرُ اَوْ یَخْشٰى﴿44﴾
- فَقُوْلَاتم کہو
- لَهٗاس کو
- قَوْلًا لَّيِّنًانرم بات
- لَّعَلَّهٗشاید وہ
- يَتَذَكَّرُنصیحت پکڑ لے
- اَوْیا
- يَخْشٰىوہ ڈر جائے
Translation · Tadabbur-e-Quran
پس اس کو نرمی کے ساتھ دعوت دو ، شاید وہ یاد دہانی حاصل کرے یا ڈرے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 44
انبیاء کا طریق دعوت
یہ طریق دعوت سے متعلق ہدایت ہے کہ دعوت بہرحال نرمی کے ساتھ دی جائے۔ اس ہدایت کی ضرورت صرف اس پہلو سے نہیں تھی کہ اب حضرت موسیٰ فرعون کے سامنے ایک بےبس اسرائیلی کی حیثیت سے نہیں بلکہ خدا کے ایک سفیر کی حیثیت سے جا رہے تھے اور ہاتھ میں عصائے موسوی بھی تھا بلکہ لنیت اور نرمی دعوت تھی کہ فطرت ہے۔ حضرات انبیاء کی بعثت تعلیم و اصلاح کے لئے ہوئی اس وجہ سے ان کی دعوت اور ان کے انذار میں ایک مسلم کی شفقت اور ایک غمگسار کی دل سوزی ہمیشہ نمایاں رہی ہے کسی نبی کے متعلق بھی یہ بات علم میں نہیں آئی کہ اس نے ہیکٹری جتائی اور دھونس جمائی ہو۔ سخت سے سخت حالات میں بھی ان کا طرز خطاب اور انداز جواب نہایت ہی نرم، مئوثر اور ہمدردانہ رہا ہے۔ ہیکٹری جتانا اور دھونس جمانا دنیا پرست لیڈروں کی خصوصیات میں سے ہے۔ موجودہ زمانے کے شیطانی پروپیگنڈے کی تو سمجھیے ساری بنیاد ہی اسی پر ہے۔
دعوت انبیاء کا اصل مقصد
لعلہ یتذکر او یخشی حضرات انبیاء کی دعوت وتعلیم کا اصل مقصد یہی ہوتا ہے کہ مخاطب میں تذکر اور خشیت پیدا ہو۔ جن کے اندر صرف غفلت ہوتی ہے وہ تو نبی کی تذکیر سے فوراً جاگ پڑتے ہیں۔ وہ گویا راستہ بھولے ہوئے ہوتے ہیں، بتانے والے نے جوں ہی انکو بتا دیا وہ سیدھی راہ اختیار کرلیتے ہیں۔ دوسرے ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن کی گمراہی کچھ پختہ ہوجاتی ہے۔ اس طرح کے لوگوں کے اندر، اگر ان کے اندر قبولیت حق کی کچھ صلاحیت ہوتی ہے، نبی کے انذار سے خدا اور اس کی پکڑ کا کچھ خوف پیدا ہوتا ہے اور پھر وہ مسئلہ پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے لگتے ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ کی توفیق شامل حال ہوتی ہے تو وہ ہدایت کی راہ بھی اختیار کرلیتے ہیں۔ یہاں یتذکر سے پہلی حالت کی طرف اشارہ ہے اور یخشی سے دوسری حالت کی طرف