تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 45
قَالَا رَبَّنَاۤ اِنَّنَا نَخَافُ اَنْ یَّفْرُطَ عَلَیْنَاۤ اَوْ اَنْ یَّطْغٰى﴿45﴾
- قَالَادونوں بولے
- رَبَّنَآاے ہمارے رب
- اِنَّنَا نَخَافُبیشک ہم ڈرتے ہیں
- اَنْ يَّفْرُطَکہ وہ زیادتی کرے
- عَلَيْنَآہم پر
- اَوْیا
- اَنْ يَّطْغٰيوہ حد سے بڑھے
Translation · Tadabbur-e-Quran
انہوں نے عرض کی اے ہمارے خداوند، ہمیں اندیشہ ہے کہ وہ ہم پر تقدی کرے یا اس کی سرکشی اور بڑھ جائے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 45
ایک اندیشہ کا اظہار
دونوں ہی حضرات نے یہ عرض کی کہ اے ہمارے رب ! ہمیں یہ اندیشہ ہے کہ وہ معاملہ پر غور کرنے سے پہلے ہی یا تو ہم پر ہاتھ ڈال دے گا یا یہ ہوگا کہ ہماری بات سنتے ہی، برہم ہو کر، اس ظلم و ستم میں اور اضافہ کر دے گا جو وہ اب تک بنی اسرائیل پر کرتا رہا ہے۔ فرط کا صلہ جب علی کے ساتھ آتا ہے تو اس کے معنی کسی کے خلاف عاجلانہ اقدام کے ہوتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ فرعون تو پہلے ہی غصہ سے بھرا بیٹھا ہے۔ بھلا وہ ہمیں زبان کھولنے کی اجازت کب دے گا ! وہ بات سننے سے پہلے یہ یا تو ہمیں ختم کردینے کی تدبیر کرے گا یا اس کی سرکشی اور زیادہ بڑھ جائے گی۔ یہاں دعا میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون دونوں شریک ہیں۔ یہ اس بات کا قرینہ ہے جس کا ذکر آیت 43 کے تحت ہم نے کیا ہے کہ یہ ہدایات مصر پہنچنے کے بعد دی گئی ہیں جب حضرت ہارون بھی حضرت موسیٰ کے ساتھ ہوگئے ہیں۔