تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 47
فَاْتِیٰهُ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلَا رَبِّكَ فَاَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ وَ لَا تُعَذِّبْهُمْ١ؕ قَدْ جِئْنٰكَ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ السَّلٰمُ عَلٰى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى﴿47﴾
- فَاْتِيٰهُپس جاؤ اس کے پاس
- فَقُوْلَآاور تم کہو
- اِنَّا رَسُوْلَابیشک ہم دونوں بھیجے ہوئے
- رَبِّكَتیرا رب
- فَاَرْسِلْپس بھیجدے
- مَعَنَاہمارے ساتھ
- بَنِيْٓ اِسْرَآءِ يْلَبنی اسرائیل
- وَلَا تُعَذِّبْهُمْاور انہیں سزا نہ دے
- قَدْ جِئْنٰكَہم تیرے پاس آئے ہیں
- بِاٰيَةٍنشانی کے ساتھ
- مِّنْسے
- رَّبِّكَتیرا رب
- وَالسَّلٰمُاور سلام
- عَلٰيپر
- مَنِجو۔ جس
- اتَّبَعَاس نے پیروی کی
- الْهُدٰىہدایت
Translation · Tadabbur-e-Quran
پس اس کے پاس جائوں اور اس سے کہو کہ ہم دونوں تیرے رب کے رسول ہیں، تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے دے اور ان کو عذاب میں مبتلا نہ رکھ، ہم تیرے خداوند کے پاس سے ایک بڑی نشانی بھی لے کر آئے ہیں۔ اور سلامتی ان لوگوں پر ہے جو ہدایت کی پیروی کریں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 47
انا رسولا ربک اگرچہ رسول کی حیثیت صرف حضرت موسیٰ ہی کو حاصل تھی، حضرت ہارون صرف ایک نبی تھے لیکن یہاں علی سبیل التغلیب دونوں ہی حضرات کے لئے رسول کا لفظ استعمال ہوا ہے۔
فارسل معنا نبی اسرائیل ولاتعذبھم اس آیت کی تفسیر سورة اعراف کی آیات 105-104 کے تحت گزر چکی ہے۔ ہاں ہم نے وضاحت کے ساتھ یہ بھی بتایا ہے کہ حضرت موسیٰ بنی اسرائیل کو کہاں لے جانا چاہتے تھے اور ان لوگوں کے خیال کی تردید بھی کی ہے جنہوں نے حضرت موسیٰ کی دعوت کو ایک قوم پرست لیڈر کی تحریک آزادی کا رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔
آیت سے مراد
قد جئنک بایۃ من ربک یہاں آیت سے مراد دلیل و حجت ہے۔ قطع نظر اس سے کہ اس کی تعداد کیا یہ۔ چناچہ یہی مضمون سورة اعراف میں یوں آیا ہے وقد جئتکم بیبنۃ من ربکم (میں تمہارے پاس تمہارے رب کی جانب سے ایک واضح حجت لے کر آیا ہوں) پیچھے ہم اس سوال پر بھی بحث کر آئے ہیں کہ حضرت موسیٰ کو بالکل پہلے ہی مرحلہ میں معجزات کیوں دیئے گئے اور وہ کیا خاص حالات تھے جن کے سبب سے انہوں نے بالکل پہلے ہی قدم پر ان کا اظہار و اعلان بھی کردیا۔
خیر خواہی اور تنبیہ ساتھ ساتھ
والسلم علی من اتبع الھدیٰ اس فقرے میں وہ خیر خواہی اور ہمدردی بھی ہے جو انبیاء کی دعوت کی خصوصیت ہے اور جس کی حضرت موسیٰ کو آیت 44 میں ہدایت ہوئی اور ساتھ ہی نہایت لطیف تنبیہ بھی ہے۔ کہ سلامتی صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو خدا کی ہدایت کی پیروی کریں۔ مطلب یہ ہے کہ اب تک تو تم نے جو کچھ کیا وہ کیا لیکن اب جب کہ خدا کے رسولوں کے ذریعہ سے تمہارے پاس خدا کی ہدایت آچکی ہے تو سلامتی کی راہ یہی ہے کہ اس کو سیدھے سیدھے اختیار کرلو اور نتائج بھگتنے کے لئے تیار ہو جائو۔