Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 48

  1. اِنَّا قَدْ اُوْحِیَ اِلَیْنَاۤ اَنَّ الْعَذَابَ عَلٰى مَنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰى﴿48﴾

    1. اِنَّابیشک
    2. قَدْ اُوْحِيَوحی کی گئی
    3. اِلَيْنَآہماری طرف
    4. اَنَّکہ
    5. الْعَذَابَعذاب
    6. عَلٰيپر
    7. مَنْ كَذَّبَجس نے جھٹلایا
    8. وَتَوَلّٰىاور منہ پھیرا
Translation · Tadabbur-e-Quran
ہم پر یہ وحی کی گئی ہے کہ ان لوگوں پر عذاب ہے جو جھٹلائیں اور اعراض کریں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 48 یہ اوپر والی آیت کے مضمر مضمون کو نہایت نرم انداز میں کھول دیا کہ ہم پر یہ وحی آئی ہے کہ جو جھٹلائے 1۔ ملاحظہ ہو تدبر قران ج 2، ص 718-716 آیت 48 کے چند لطیف پہلو اور اعراض کرے گا اس کے اوپر عذاب آئے گا۔ اس آیت پر تدبر کیجیے تو کئی لطیف باتیں سامنے آئیں گی۔ ایک تو یہ کہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون نے عام لیڈروں کی طرح فرعون پر اپنی طرف سے عذاب کی کوئی دھونس جمانے کی کوشش نہیں کی بلکہ اس کو صرف اللہ تعالیٰ کی اس وحی کی خبر دی جو ان پر آی تھی کہ تکذیب اور اعراض کرنے والوں پر اللہ کا عذاب آجاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ طریقہ انہوں نے اسی لئے اختیار فرمایا کہ اپنی طرف سے فرعون کے لئے کوئی وجہ اشتعال نہ پیدا ہونے دیں۔ دوسری یہ کہ انہوں نے فرعون کو مخاطب کر کے یوں نہیں فرمایا کہ اگر تو جھٹلائے گا اور اعراض کرے گا تو تجھ پر عذاب الٰہی آدھمکے بلکہ بصیغہ عام یوں فرمایا کہ جو ایسا کرے گا اس کا انجام یہ ہوگا تاکہ فرعون کے کانوں میں بات پڑ بھی جائے اور اس کی اناینت کو ٹھس بھی نہ لگے۔ تیسری یہ کہ کذب کے مفعول اور تولی کے متعلق دونوں کو یہاں حذف کردیا۔ یوں نہیں فرمایا کہ جو ہماری رسالت کی تکذیب اور ہماری لائی ہوئی ہدایت سے اعراض کرے گا اس پر عذاب آئے گا اس لئے کہ یہ بات از خود واضح تھی اور اس کے اظہار سے بھی بہرحال فرعون کے پندار کو چوٹ لگتی ہے۔ اوپر حضرت موسیٰ و حضرت ہارون کو دوت میں نرمی کی جو تلقین فرمائی گی تھی یہ اس کا طریقہ بھی بتا دیا گیا کہ اس طرح دعوت دنیا کہ بات بھی پہنچ جائے اور تمہاری طرف سے اشعتال طبع کا کوئی سبب بھی پیدا نہ ہونے پائے۔