Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 49

  1. قَالَ فَمَنْ رَّبُّكُمَا یٰمُوْسٰى﴿49﴾

    1. قَالَاس نے کہا
    2. فَمَنْپس کون
    3. رَّبُّكُمَاتمہارا رب
    4. يٰمُوْسٰىاے موسیٰ
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس نے سوال کیا اے موسیٰ ! تم دونوں کا رب کون ہے ؟
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فرعون کو دعوت اور اس کا معارضہ قل فمن ربکما یموسیٰ 49 قرینہ دلیل ہے کہ یہاں بربنائے وضاحت یہ بات حذف کردی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کو جو پغیام دے کر فرعون کے پاس جانے کا حکم دیا وہ پیغام وہ لے کر گئے اور ٹھیک ٹھیک ہدایت الٰہی کے مطابق اس کو فرعون تک انہوں نے پہنچا بھی دیا۔ یہ سن کر فرعون بولا کہ اے موسیٰ تم دونوں کا رب کون ہے ؟ یعنی تم جو رب کے رسول بن کر آئے ہو تو آخر وہ رب کون ہے ؟ رب تو میں ہوں تو آخر تم میرے دربار میں اور کس رب کے رسول بن کر آئے ہو ؟ سورة اعراف کی تفسیر میں ہم یہ وضاحت کرچکے ہیں کہ فرعون کی حیثیت مصر میں (God King) اوتار بادشاہ کی سمجھی جاتی تھی۔ وہ صمیروں کے عقیدے میں ان کے سب سے بڑے دیوتا … سورج … کا مظہر تھا اور اسی عقیدے کے تحت اس کے اسٹیچو اور بت تمام مصر میں پوجتے جاتے تھے۔ فرعون کا یہ سوال محض بطور طنز و تحقیر کے تھا ورنہ خدائی کے دعوے کے باوجود و کہ اس بات سے تو ناواقف نہیں ہوسکتا تھا کہ بنی اسرائیل اس کے غلام و محکوم سہی لیکن بہرحال وہ اس کو خدا نہیں مانتے۔ لیکن اب تک بنی اسرائیل کے خدا کی حیثیت مصر میں ایک بےجان خدا کی تھی جس کا نام تو بنی اسرائیل اپنے گھروں میں شاید لیتے رہے ہوں گے لیکن زندگی کے عملی معاملات سے اس کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ عملی معاملات پر خدائی فرعون ہی کی تھی۔ یہ پہلی مرتبہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون نے خدا کو فرعون کے سامنے ایک زندہ خدا کی حیثیت سے پیش کا ئ اور صرف پیش ہی نہیں کیا بلکہ اس کے نام سے چند نہیات اہم مطالبات بھی اس کے سامنے رکھ دیئے اور وہ بھی اس تنبیہ کے ساتھ کہ اگر اسلامی چاہتے ہو تو ہماری بات مانو ورنہ اس کے نتائج بھگتنے کے لئے تایر ہو ! ظاہر ہے کہ فرعون بنی اسرائیل کے اس زندہ خدا سے اب تک واقف نہیں تھا اس وجہ سے اس کو یہ صدا عجیب معلوم ہوئی اور اس نے تعجب اور تحقیر کے انداز میں یہ سوال کیا جو اوپر مذکور ہوا۔ تورات میں اس موقعہ پر جو عبارت ہے اس سے بھی یہی بات نکلتی ہے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا۔ خروج 2:5 میں ہے۔ ”فرعون نے کہا کہ خداوند کون ہے کہ میں اس کی آواز کو سنوں کہ بنی اسرائیل کو جانے دوں ؟ میں خداوند کو نہیں جانتا اور نہ میں بنی اسرائیل کو جانے دوں گا۔“