Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 50

  1. قَالَ رَبُّنَا الَّذِیْۤ اَعْطٰى كُلَّ شَیْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى﴿50﴾

    1. قَالَاس نے کہا
    2. رَبُّنَاہمارا رب
    3. الَّذِيْٓجس نے
    4. اَعْطٰيعطا کی
    5. كُلَّ شَيْءٍہر چیز
    6. خَلْقَهٗاس کی شکل و صورت
    7. ثُمَّپھر
    8. هَدٰىرہنمائی کی
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس نے جواب دیا، ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی خلقت عطا فرمائی پھر اس کی رہنمائی کی
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
مختصر لیکن دندان شکن جواب حضرت موسیٰ نے جواب دیا کہ ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر شے کو اس کی خلقت عطا فرمائی، پھر اس کے خلقت کے اعتبار سے اس کی رہنمائی فرمائی۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ ہر شے اپنے مقصد وجود کے اعتبار سے ایک خاص قالب و ہئیت رکھتی ہے اور پھر اس مقصد وجود کی تحصیل و تکمیل کے لئے اپنے اندر ایک جبلی رہنمائی بھی رکھتی ہے۔ شہد کی مکھی کو جن مقصد کے لئے خالق نے پیدا کیا ہے اس کی تکمیل کے لئے اس کے ننھے سے وجود کے اندر اس نے وہ تمام قوتیں اور صلاحیتیں ودیعت فرمائی ہیں جو اس کے لئے ضروری ہیں اور پھر اس کی جبلت کو یہ الہام بھی فرما دیا کہ وہ کس طرح اپنی صلاحیتوں کو استعمال کیر اور پانے لئے شہد کا ذخیرہ فراہم کرے۔ یہی حال اس کائنات کی ہر چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی چیز کا ہے۔ ایک چیونٹی ایک بھنگا، ایک لکڑی، ایک بکری، ایک شیر سب کو قدرت کی طرف سے ایک خاص نوع کی خلقت اور اس کی ضرورت کے اعتبار سے ایک جبلی ہدایت عطا ہوئی ہے۔ سب کو خدا نے الہام فرمایا ہے کہ کس طرح اور کس نوع کی اپنے لئے غذا حاصل کریں، کس طرح توالد و تناسل کا سلسلہ قائم کریں، کس طرح اپنی اور اپنی نسل کی حفاظت کریں، کس چیز سے بچیں اور کس چیز کو اختیار کریں اور پھر کس طرح اس کائنات کی مجموعی خدمت میں اپنا فریضہ ادا کریں۔ بلبل کی نغمہ سنجی، طوطی کی شکر فشانی اور کوئل کی کوک کس کا الہام ہے ؟ ظاہر ہے کہ ان کے خالق ہی کا ! تو وہی خالق ان کا اور سب کا رب بھی ہے ! ہر شے پر ہدایت کا فیضان صرف جاندار چیزوں ہی تک قدرت کا یہ فیض محدود نہیں ہے بلکہ چمن کے بیل بوٹے جو ثمر باری اور گل ریزی کرتے ہیں، سو سن، نبفشہ گلاب اور سرد و صنوبر جو چمن آرائی کرتے ہیں، سیب، انار اور انگور جو دعوت شوق دیتے ہیں، آخر یہ کس کی بخشی ہوئی خلقت اور یہ کس کی عطا کردہ جبلت ہے ؟ آخر کون ہے جو ان میں سے کسی ایک چیز کے بھی خلق کا دعویٰ کرسکے یا یہ کہہ سکے کہ یہ اس کا کرشمہ ہے کہ اس نے سیب کے اندر سیب کی خاصیت ودیعت کی اور کیکر کے اندر کیکر کی، چمن کے ہر پودے، میدان کی ہر گھاس اور جنگل کی ہر جھاڑی میں یہ الگ الگ مزاج، الگ الگ رنگ و بو اور الگ الگ فوائد و نقصانات کون ودیعت کرتا ہے ؟ جو کرتا ہے وہی رب ہے، نہ کہ ہر غرنا مستحق جو سر پر تاج اوڑھ لے اور خدائی کا دعوے دار بن بیٹھے وہ رب بن جائے۔ زمین ہی نہیں ایک نظر آسمان پر بھی ڈالیے یہ سورج، یہ چاند یہ کہکشاں یہ قوس قزح یہ آسمان یہ ابر یہ ہوا، آخر کس نے ان کو پیدا کیا اور کون ہے جس نے ان کے فرائض ان کو الہام کئے ؟ جس نے ان کو پیدا کیا اور ان کو ان کے فرئاض الہام کئے وہی رب ہے سورج کا اوتار بن کر تخت پر براجمان ہوجانا تو بہت آسان ہے لیکن کون ہے جو ایک منٹ کے لئے سورج کو اس کے وقت سے پہلے نمودار کرسکے یا افق سے اس کو غائب کرسکے ! اس کائنات میں اشرف المخلوقات کی حیثیت انسان کو حاصل ہے۔ اس کو قدرت نے بہترین خلقت بھی عطا فرمائی ہے اور نہایت اعلیٰ صلاحیتوں سے بھی نوازا ہے لیکن نہ کسی کو اپنی خلقت کے معاملہ میں کوئی دخل ہے نہ اپنی صلاحیتوں کی تخلیق ہی میں کسی کا کوئی حصہ ہے۔ یہ خدا ہی ہے جس نے ہمیں ہاتھ، پائوں، ناک، کان اور آنکھ کی قوتیں دیں اور اسی نے ہمیں جبلت و فطرت اور عقل وا دراک و شعور کی نعمتیں بخشیں۔ یہ انہی چیزوں کا فیض ہے کہ آج خشکی و تری، دریا اور پہاڑ سب ہمارے لئے یکساں ہیں۔ ہم سمندروں کا سینہ چیرتے اور فضائوں میں اڑتے ہیں۔ ہماری رسائی زمین کے بعید ترین گوشوں اور کونوں ہی تک نہیں بلکہ چاند و مریخ تک ہے۔ بجلی اور ایٹم سب پر ہمارا تصرف ہے۔ یہ سب کچھ ہے لیکن ایک لمحہ کے لئے بھی یہ مغالطہ نہ ہو کہ یہ آپ کی اپنی پیدا کردہ صلاحیتوں کا کرشمہ ہے۔ جو اس مغالطہ میں ہے وہ احمق ہے ! یہ سب خدا کی بخشی ہوئی عقل کا کرشمہ ہے جس کی بدولت انسان قدرت کے کچھ نوامیس دریافت کر کے چاند اور مریخ پر تاخت کرتا پھر رہا ہے۔ اگر یہ خدا کی بخشی ہوئی عقل کی رہنمائی سے اس کے کچھ قوانین دریافت کرلے اور ان سے فائدہ اٹھانے کی قابلیت پیدا کرلے تو اس پر اپنا مفرور نہ ہوجائے کہ خدا کی خدائی ہی کو چیلنج کر دے۔ حضرت موسیٰ نے جواب تو نہایت مختصر الفاظ میں دیا لیکن اس کے اندر تفصیل نہایت طویل مضمر ہے اور اگرچہ الفاظ نہایت نرم ہیں لیکن جواب نہایت دندان شکن ہے۔ انہوں نے نہایت جامع الفاظ میں فرعون پر یہ حقیقت واضح کردی کہ رب ہونے کا حقدار تو وہی ہوسکتا ہے جس نے خلق کیا اور ہدایت بخشی، تمہارا حصہ نہ خلق میں نہ ہدایت میں تو تم رب ہونے کے مدعی کس طرح بن بیٹھے ! یہی حقیقت دوسرے الفاظ میں یوں بیان ہوئی ہے۔ سج اسم ربک الاعلی الذی خلق فسوی والذین قدر فھدی (اپنے اس خدائے برتر کی تسبیح کرو جس نے خاکہ بنایا پھر اس کے نوک پلک درست کئے اور جس نے صلاحیتیں ودیعت کیں پھر ان کے استعمال کا طریقہ بتایا۔ حقیت یہ ہے کہ انسان پر خدا کی حجت قائم کردینے کے لئے تو اس کی فطرت اور عقل کی رہنمائی ہی کافی ہے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کا مزید فضل و کرم ہے کہ اس نے اپنے نبیوں اور رسولوں اور پانی کتابوں اور صحیفوں کے ذریعہ سے بھی انسان کی ہدایت کا انتظام کیا۔ بل الانسان علی نفسہ بصیرۃ ولو القی معاً ذیرۃ (القیمۃ 150-54) (بلکہ انسان اپنے اوپر خود گواہ ہے اگرچہ وہ کتنے ہی عذر تراشے)