Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 63

  1. قَالُوْۤا اِنْ هٰذٰىنِ لَسٰحِرٰنِ یُرِیْدٰنِ اَنْ یُّخْرِجٰكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِمَا وَ یَذْهَبَا بِطَرِیْقَتِكُمُ الْمُثْلٰى﴿63﴾

    1. قَالُوْٓاوہ کہنے لگے
    2. اِنْتحقیق
    3. ھٰذٰىنِیہ دونوں
    4. لَسٰحِرٰنِالبتہ جادوگر
    5. يُرِيْدٰنِیہ چاہتے ہیں
    6. اَنْ يُّخْرِجٰكُمْکہ تمہیں نکال دیں
    7. مِّنْسے
    8. اَرْضِكُمْتمہاری سرزمین
    9. بِسِحْرِهِمَااپنے جادو کے ذریعہ
    10. وَيَذْهَبَااور وہ لے جائیں
    11. بِطَرِيْقَتِكُمُتمہارا طریقہ
    12. الْمُثْلٰىاچھا
Translation · Tadabbur-e-Quran
انہوں نے کہا یہ دونوں بڑے ماہر جادوگر ہیں، یہ چاہتے ہیں کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہارے ملک سے بےدخل کردیں اور تمہارے اعلیٰ نظام کو درہم برہم کر کے رکھ دیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 63 یہ ان مخففہ ان کے معنی میں ہے اور اس کے بعد جو ’ ل ‘ ہے یہ اس کا قرینہ ہے۔ مثلیٰ ، امثل، کی مئونث ہے۔ اس کے معنی اعلیٰ عمدہ اور برتر کے ہیں۔ یہ وہ بات نقل ہوئی ہے جو خفیہ مجلس میں فرعون اور اس کے اعیان نے جادوگروں کو حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کے خلاف بھڑکانے کے لئے کی۔ پہلی بات تو انہوں نے جادوگروں کے اندر پیشہ ورانہ رقابت کا جذبہ بھڑکانے کے لئے یہی کہی کہ یہ دونوں ماہر جادوگر ہیں۔ مقصد یہ کہ یہ اسی ہتھیار کے ساتھ میدان میں ائٓے ہیں جو تمہارے پاس بھی ہے تو اگر تم نے ان کے مقابلہ میں کمزوری دکھائی تو سب سے زیادہ ہوا خیزی تمہاری ہی ہوگی۔ دوسری بات یہ سمجھائی کہ یہ اپنے جادو کے زور سے ہم پر اپنا رعب جمانا اور بنی اسرائیل کو منظم کر کے تمہیں، تمہارے ملک سے بےدخل کرنا چاہتے ہیں۔ تیسری بات یہی کہی کہ اس وقت تمہاری نہایت اعلیٰ اور شاندار تہذیب، جو تم نے اتنی محنت سے فروغ دی ہے، سخت خطرے میں ہے۔ اگر موسیٰ و ہارن اپنے ارادوں میں کامیاب ہوگئے تو اس اعلیٰ تہذیب و تمدن کا یک قلم قلم خاتمہ کردیں گے۔ ان باتوں پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ ارباب اقتدار اہل حق کے مقابلہ میں ہمیشہ اسی طرح کے حربے استعمال کر رہے ہیں جس قسم کے حربے فرعون اور اس کے اعیان نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی۔ یہ امر بھی محلوظ رہے کہ تمہارا ملک اور تمہاری تہذیب کے الفاظ میں خطاب محض عوام فریبی کے لئے ہے ورنہ فرعونی حکومت اور فرعونی تہذیب میں ایک مخصوص ارسٹوکریسی کے سوا دوسروں کی حیثیت صرف غلاموں اور قلیوں کی تھی لیکن ارباب اقتدار جب عوام کو اپنے کسی مقصد کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں تو اسی طرح ان کو نشہ پلاتے اور بیوقوف بناتے ہیں۔