Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 64

  1. فَاَجْمِعُوْا كَیْدَكُمْ ثُمَّ ائْتُوْا صَفًّا١ۚ وَ قَدْ اَفْلَحَ الْیَوْمَ مَنِ اسْتَعْلٰى﴿64﴾

    1. فَاَجْمِعُوْالہذا اکٹھا کرلو تم
    2. كَيْدَكُمْاپنے داؤ
    3. ثُمَّ ائْتُوْاپھر تم آؤ
    4. صَفًّاصف باندھ کر
    5. وَقَدْ اَفْلَحَاور تحقیق کامیاب ہوگا
    6. الْيَوْمَآج
    7. مَنِجو
    8. اسْتَعْلٰىغالب رہا
Translation · Tadabbur-e-Quran
تو اپنی ساری تدبیریں اکٹھی کرلو، پھر ان کے مقابل میں متحد ہو کر آئو اور آج کامیاب وہی رہے گا جو غالب آئے گا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 64 یہ وہ مشورہ ہے جو غور و فکر کے بعد ساحروں کو دیا گیا کہ چونکہ مرحلہ بہت نازک اور مقابلہ نہایت ماہر جادوگروں سے ہے اس وجہ سے سب ساحر مل کر پانی مجمتعہ طاقت سے ایک محتدہ محاذ بنا کر مقابلہ کریں۔ اس مشورے کی ضرورت اس وجہ سے پیش آئی ہوگی کہ جس طرح سیاسی پارٹیوں میں باہم رقابتیں ہوتی ہیں، ہر ایک کی خواہش اور کوشش صرف اپنے مفاد کے لئے ہوتی ہے، اسی طرح پیشہ ور جماعتوں میں بھی آپس میں چشمک ہوتی ہے اور ہر ایک صرف اپنی برتری چاہتی ہے۔ فرعون اور اس کے اعیان کو یہ اندیشہ ہوا کہ اگر ساحروں میں اس طرح کا انتشار رہا تو شکست ہوجائے گی اس وجہ سے انہوں نے ان کو مشورہ دیا کہ الگ الگ اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کے بجائے سب مل کر تمتحدہ طاقت کے ساتھ مقابلہ کرو۔ وقد افلح الیوم من استعلی یہ اس دن کی نزاکت اور اہمیت کی طرف اشارہ ہے کہ آج کا دن فیصلہ کن ہے۔ اگر بازی ہماری رہی تو مستقبل کی کامیابی ہمارے لئے ہے اور اگر ہم ہار گئے تو پھر وہ تمام خطرات لازماً پیش آ کے رہیں گے جو موسیٰ اور ہارون کی کامیابی کی صورت میں مقصود ہیں۔