تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 69
وَ اَلْقِ مَا فِیْ یَمِیْنِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوْا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوْا كَیْدُ سٰحِرٍ١ؕ وَ لَا یُفْلِحُ السَّاحِرُ حَیْثُ اَتٰى﴿69﴾
- وَاَلْقِاور ڈالو
- مَاجو
- فِيْ يَمِيْنِكَتمہارے دائیں ہاتھ میں
- تَلْقَفْوہ نگل جائے گا
- مَا صَنَعُوْاجو انہوں نے بنایا
- اِنَّمَابیشک
- صَنَعُوْاانہوں نے بنایا
- كَيْدُفریب
- سٰحِرٍجادوگر
- وَلَا يُفْلِحُاور کامیاب نہیں ہوگا
- السَّاحِرُجادوگر
- حَيْثُجہاں (کہیں)
- اَتٰىوہ آئے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور تم اس کو جو تمہارے ہاتھ میں ہے زمین پر ڈالو۔ یہ ان کے سارے سوانگ کو جو انہوں نے رچایا ہے نگل جائے گا۔ یہ کرتب جو انہوں نے دکھایا ہے یہ تو بس ایک جادوگر کا کرتب ہے اور جادوگر جہاں بھی جائے کامیاب نہیں ہوتا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
معجزہ اور سحر کا ذوق
ساتھ ہی یہ ہدایت ہوئی کہ یہ تمہارے ہاتھ میں جو لٹھیا ہے اس کو تم بھی ڈال دو۔ یہ ان کی اس ساری شعبدہ گری کو ہڑپ کر جائے گی۔ انہوں نے جو کچھ دکھایا ہے یہ محض ایک ساحر کا کرتب ہے اور ساحر جہاں بھی جائے کامیاب نہیں ہوتا اگرچہ یہاں اصل مقصود یہ بتانا ہے کہ ساحر کا سحر حق کا کرتب ہے اور ساحر جہاں بھی جائے کامیاب نہیں ہوتا اگرچہ یہاں اصل مقصود یہ بتانا ہے کہ ساحر کا سحر حق کے مقابل میں کبھی نہیں ٹکتا لیکن بات ایک کلیہ کے رنگ میں کہی گئی ہے کہ ساحر کبھی بھی کامیاب نہیں ہوتا اس لئے کہ اصل حقیقت یہی ہے۔ سحر کا تعلق تمام تر فریب نظر اور دیکھنے والے کی قوت متخیلہ سے ہے، اصل حقیقت پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا، پھر اس پیشہ کے لوگ ہمیشہ سوسائٹی کے اراذل و انفار سے تعلق رکھنے والے ہوتے ہیں جو چند دن اپنی شعبدہ بازیوں سے کچھ سادہ لوحوں کو بیوقوف تو بنا لیتے ہیں لیکن سوسائٹی کی تعمیر و اصلاح میں کوئی کردار ان کا نہ ہوتا ہے، نہ ہوسکتا ہے۔ برعکس اس کے حضرات انبیاء سے جو معجزے صادر ہوتے ہیں ان کے اندر ایک سطوت و جلالت ہوتی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کا صدور ایسے لوگوں کے ہاتھوں ہوتا ہے جو انسانیت کے گل سرسبد ہوتے ہیں جن کے دشمن بھی ان کے پاکیزہ اخلاق و کردار کی گواہی دیتے ہیں، جن کے ساتھ ایک عظیم دعوت ہوتی ہے جس کی حقانیت کی شہادت اس کے مخالفوں کے دل بھی دیتے ہیں۔ یہ لوگ جب دنیا سے رخصت ہوتے ہیں تو تاریخ کا ورق الٹ کر رخصت ہوتے ہیں۔ ان کی دعوت سے تاریخ کا ایک نیا باب شروع ہوتا ہے اور دنیا ایک نیا جنم لیتی ہے۔ بتائیے کون ساحر ہے جس کا انسانی زندگی کے کسی شعبہ میں کوئی ادنیٰ سے ادنیٰ کارنامہ بھی ہوا یہاں وہ حقیقت بھی پیش نظر رکھیے جس کی طرف ہم پیچھے بھی اشارہ کرچکے ہیں کہ ہمارے متکلمین نے معجزہ اور سحر میں منطق کے ذریعہ سے جو فرق کرنے کی کوشش کی ہے یہ ایک سعی لاحاصل ہے۔ ماہ نخشب اور خورشید جہاں تاب کے درمیان فرق منطمق کے ذریعے سے نہیں معلوم کیا جاتا ! اس کا فیصلہ خود دیکھنے والے کرلیتے ہیں بشرطیکہ ان کے پاس دیکھنے والی آنکھیں ہوں۔