Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 70

  1. فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سُجَّدًا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ هٰرُوْنَ وَ مُوْسٰى﴿70﴾

    1. فَاُلْقِيَپس ڈالدئیے گئے
    2. السَّحَرَةُجادوگر
    3. سُجَّدًاسجدہ میں
    4. قَالُوْٓاوہ بولے
    5. اٰمَنَّاہم ایمان لائے
    6. بِرَبِّرب پر
    7. هٰرُوْنَہارون
    8. وَمُوْسٰىاور موسیٰ
Translation · Tadabbur-e-Quran
تو جادوگر سجدے میں گر پڑے۔ پکار اٹھے کہ ہم موسیٰ ؑ اور ہارون ؑ کے رب پر ایمان لائے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 70 یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق حضرت موسیٰ نے اپنی لٹھیا زمین پر ڈلا دی اور اس نے ایک اژدھے کی طرح جادوگروں کے تمام سانپوں سنپولیوں کو نگلنا شروع کردیا۔ جادوگروں نے یہ منظر جو دیکھا تو ان کی آنکھیں کھل گیں۔ جادوگر میں اگر کوئی رمق اعتراف حق کی ہو تو وہ اپنے شعبدہ اور نبی کے معجزہ میں سب سے زیادہ امتیاز کرنے والا ہوسکتا ہے۔ ان ساحروں کے اندر حق شناسی کی رمق تھی۔ آگے آیت 73 سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ جادوگر یہ احساس پہلے سے رکھتے تھے کہ حضرت موسیٰ جو چیز پیش کر رہے ہیں جادو نہیں ہے چناچہ وہ ان کے مقابل میں آنے سے کتراتے بھی تھے لیکن انہیں حکومت کے کارندوں نے سیاسی خطرات کا ہوا کھڑا کر کے آمادہ کیا کہ وہ ان کا مقابلہ کریں۔ وہ کہنے سننے سے مقابلہ کے لئے آتو گئے لیکن جب انہوں نے اپنے شعبدہ کے مقابل میں حضرت موسیٰ کا اعجاز دیکھا تو ان کی آنکھیں کھل گیں اور وہ بےتحاشا سجدے میں گر پڑے۔ اس طرح سجدے میں گرپڑنا اس زمانے میں کسی کے کمال فن کے اعتراف کا ایکطریقہ تھا لیکن ان جادوگروں نے صرف اسی پریس نہیں کیا بلکہ بھرے مجمع میں یہ اعلان بھی کردیا کہ ہم ہارون اور موسیٰ کے رب پر ایمان لائے۔ غور کیجیے ساری پبلک کے سامنے ساحروں کے اس اعتراف شکست اور اس اعلان ایمان کے بعد فرعون اور اس کے درباریوں پر کیا گزری ہوگی ! لیکن فرعون نہایت کائیاں سیاسی تھا اس نے نہایت ہوشیاری کے ساتھ صورت حال کو سنبھالنے کی کوشش کی اور عوام کو بیوقوف بنانے کے لئے فوراً ایک نیا اشغلہ چھوڑا۔