Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 7

  1. وَ اِنْ تَجْهَرْ بِالْقَوْلِ فَاِنَّهٗ یَعْلَمُ السِّرَّ وَ اَخْفٰى﴿7﴾

    1. وَاِنْاور اگر
    2. تَجْهَرْتو پکار کر کہے
    3. بِالْقَوْلِبات
    4. فَاِنَّهٗتو بیشک وہ
    5. يَعْلَمُجانتا ہے
    6. السِّرَّبھید
    7. وَاَخْفٰياور نہایت پوشیدہ
Translation · Tadabbur-e-Quran
خواہ تم علانیہ بات کہو یا چپکے سے، وہ علانیہ اور پوشیدہ سب کو جانتا ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وان تجھر بالقول فانہ یعلم السرواخفی (7) عربیت کا ایک اسلوب فصیح عربی کے اسلوب کے مطابق اس میں مقابل کے الفاظ، بربنائے قرینہ، حذف ہیں۔ اس اسلوب کی وضاحت ہم جگہ جگہ کرتے آئے ہیں۔ اس حذف کو کھول دیجئے تو پوری بات گویا یوں ہوگی، وان تجھر بالقول او تغافت بہ فانہ یعلما الجھر والسروا اخفی“ یعنی خواہ تم بات کو علانیہ کہو یا چپکے سے کہو، خدا علانیہ، پوشیدہ اور پوشیدہ تر سب کو جانتا ہے۔ نبی ﷺ کو ایک نئے پہلو سے تسلی نبی ﷺ کو ایک دوسرے پہلو سے تسلی دی گئی ہے کہ آپ مطمئن رہیں کہ اپنی مشکلات میں جو کچھ بھی آپ اپنے پروردگار سے کہتے اور جو دعا و مناجات بھی کرتے ہیں خواہ سرایا علانیۃ، اور جو پریشانی بھی آپ کو لاحق ہوتی ہے خواہ وہ زبان پر آئے یا دل کے مخفی گوشوں ہی میں رہے، آپ کا رب علیم وخبیر ہر چیز سے باخبر رہتا ہے۔ مقصود اس حقیقت کے اظہار سے ظاہر ہے کہ اس کا لازم ہے۔ یعنی جب آپ کا پروردگار ہر مخفی سے مخفی بھید سے بھی واقف ہے تو وہ آپ کی ہر مشکل کو آسان کرے گا اور ہر موڑ پر آپ کی رہنمائی فرمائے گا۔ اگر کسی امر میں کوئی تاخیر ہوتی ہے تو وہ کسی حکمت و مصلحت پر مبنی ہوتی ہے اور اسی میں آپ کے لئے خیر و برکت ہے۔ سورة مریم کی آیت 64 ”وما کان ربک نسیا“ کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں مزید تفصیل مطلوب ہو تو ایک نظر اس پر بھی ڈال لیجیے۔