تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 71
قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ؕ اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ١ۚ فَلَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ فِیْ جُذُوْعِ النَّخْلِ١٘ وَ لَتَعْلَمُنَّ اَیُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّ اَبْقٰى﴿71﴾
- قَالَاس نے کہا
- اٰمَنْتُمْتم ایمان لائے
- لَهٗاس پر
- قَبْلَپہلے
- اَنْ اٰذَنَکہ میں اجازت دوں
- لَكُمْتمہیں
- اِنَّهٗبیشک وہ
- لَكَبِيْرُكُمُتمہارا بڑا
- الَّذِيْوہ جس نے
- عَلَّمَكُمُتمہیں سکھایا
- السِّحْرَجادو
- فَلَاُقَطِّعَنَّپس میں ضرور کاٹوں گا
- اَيْدِيَكُمْتمہارے ہاتھ
- وَاَرْجُلَكُمْاور تمہارے پاؤں
- مِّنْ خِلَافٍدوسری طرف سے
- وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمْاور میں تمہیں ضرور سولی دوں گا
- فِيْمیں۔ پر
- جُذُوْعِ النَّخْلِکھجور کے تنے
- وَلَتَعْلَمُنَّاور تم خوب جان لوگے
- اَيُّنَآہم میں کون
- اَشَدُّزیادہ سخت
- عَذَابًاعذاب میں
- وَّاَبْقٰياور تا دیر رہنے والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
فرعون نے کہا تم نے بدوں میری اجازت کے اس کی تصدیق کردی بیشک وہی تمہارا گرو ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے تو میں تمہارے ہاتھ اور پائوں بےترتیب کاٹوں گا اور تمہیں کھجور کے تنوں پر سولی دوں گا اور تمہیں پتہ چل جائے گا کہ ہم میں سے کس کی سزا زیادہ سخت اور زیادہ دیرپا ہوتی ہے !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فرعون کا سیاسی اشغلہ
اس نے ساحروں سے کہا تم نے بدون میری اجازت کے موسیٰ کو سچا مان لیا۔ اب میں سمجھ گیا کہ درحقیقت وہی تمہارا گرو ہے جس نے تمہیں جادو کی تعلیم دی ہے اور تم نے باہمی سازش سے یہ فتح و شکست کا ڈرامہ دکھایا ہے تاکہ حکومت کی ہوا خیزی ہوا اور تم موسیٰ کے اقتدار کے لئے راہ ہموار کرو۔ یہ حکومت کے خلاف تم نے سازش کی ہے اس وجہ سے میں تمہیں وہ سزا دوں گا جو ملک کے باغیوں کو دی جاتی ہے۔ میں پہلے تمہارے ہاتھ پائوں بےترتیب کٹوائوں گا اور پھر عبرت عام کے لئے تمہیں کھجور کے تنوں پر سولی کے لئے لٹکائوں گا۔ اس وقت تمہیں اندازہ ہوگا کہ میری سزا زیادہ سخت اور زیادہ پائیدار ہوتی ہے یا تمہارے گرو کی۔
قال امنتم لہ قبل ان اذن لکم اوپر ساحروں کا جو قول نقل ہوا ہے اس سے واضح ہے کہ انہوں نے حضرت موسیٰ کے صرف ایک سچے آدمی ہونے ہی کا اقرار نہیں کیا بلکہ نہایت تصریح کے ساتھ یہ اعلان بھی کیا کہ ہم ہارون اور موسیٰ کے رب پر ایمان لائے۔ اس اعلان کے اندر ظاہر ہے کہ فرعون کے رب ہونے کا انکار بھی مضمر تھا جس کی زد فرعون کی خدائی اور اس کی بادشاہی دونوں ہی چیزوں پر پڑتی تھی اس وجہ سے اس کے لئے یہ مسئلہ محض دین و عقیدہ کا مسئلہ نہیں تھا بلکہ بالواسطہ اس کے اقتدار کو ایک چیلنج تھا۔ بھلا اس جسارت کو وہ اپنی حکومت میں کس طرح گوارا کرسکتا تھا !
انہ لکبیر کم الذی علکم السحر کبیر سے مراد استاد اور گرو کے ہیں۔ فرعون نے اپنی ذہانت سے عوام فریبی کے لئے یہ شگوفہ چھوڑا کہ اصل میں یہی شخص (حضرت موسیٰ) تمہارا گرو ہے، اسی نے تمہیں جادو کا یہ فن سکھایا ہے۔ تمہاری آپس میں ملی بھگت تھی۔ تم نے یہ طے کر رکھا تھا کہ تم اس طرح کھلے میدان میں اپنے اس گروکے سامنے اپنی شکست مان لو گے جس سے اس کی دھاک تمام لوگوں پر بیٹھ جائے گی اور پھر تم حکومت کے خلاف جو سازش کرنا چاہتے ہو اس میں کامیاب ہو جائو گے۔ ہرچند یہ بات بالکل بےتکی تھیی۔ فرعون خود اپنے ہی منتخب کئے ہوئے میدان میں خود اپنیہی لائی ہوئی فوج سے ہارا تھا لیکن اس شکست کا اثر مٹانے کے لئے اس کو کوئی نہ کوئی بات تو آخر بنانی تھی چناچہ اس نے بنائی اور داد دینی چاہئے کہ اس نے بڑی سیاسی ذہانت کا ثبوت دیا اور کیا عجب کہ اس طرح وہ بہتوں کو بیوقوف بنانے میں کامیاب بھی ہوگیا ہو لیکن حق کو اس قسم کی پرفریب باتوں سے نہیں دبایا جاسکتا۔
فلا قطعن الایۃ جب ساحروں کو حکومت کے خلاف سازش کا مجرم قرار دیا گیا تو ان کے لئے اس سزا کا بھی اعلان کردیا گیا جو اس زمانے میں حکومت کے خلاف سازش کرنے والوں کو دی جاتی تھی یعنی ان کے ہاتھ پائوں بےترتیب کاٹے جائیں اور ان کو برسر عام سولی دی جائے تاکہ دوسروں کو بھی عبرت حاصل ہور فی جذوع النخل سے مقصود اس کے برسر عام ہونے کی طرف اشارہ کرنا ہے۔
ساحروں کا ایک اہم
ولتعلمن اینا اشدعذاباً وابقی یعنی تم یہ سمجھتے ہو کہ اگر تم نے اپنے گرو کی مرضی کے خلاف کیا تو وہ اپنے جادو کے زور سے تم کو کسی آفت میں مبتلا کر دے گا اس وجہ سے اس کے آلہ کار بنے ہوئے ہو۔ لیکن جب میری سزا کا مزا چکھو گے تو تمہیں پتہ چل جائے گا کہ میری سزا تمہارے گرو کی سزا کے مقابل میں کہیں زیاد ہسخت اور پائیدار ہے۔ یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ جادوگروں میں یہ وہم پایا جاتا ہے کہ اگر کوئی بات گرو کی مرضی کے خلاف کی جائے اور وہ کسی شاگرد سے ناراض ہوجائے تو اس شاگرد کو وہ اپنے جادو کے زور سے کس بہت بڑی آفت میں مبتلا کردیتا ہے۔ فرعون نے اسی وہم کو سامنے رکھ کر جادوگروں کو متنبہ کیا کہ تم اپنے گرہ کی سزا سے ڈرتے ہو لیکن میری سزا اس کی سزا سے کہیں زیادہ سخت اور عبرت انگیز ہوگی۔