تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 72
قَالُوْا لَنْ نُّؤْثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الَّذِیْ فَطَرَنَا فَاقْضِ مَاۤ اَنْتَ قَاضٍ١ؕ اِنَّمَا تَقْضِیْ هٰذِهِ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ﴿72﴾
- قَالُوْاانہوں نے کہا
- لَنْ نُّؤْثِرَكَہم ہرگز تجھے ترجیح نہ دیں گے
- عَلٰيپر
- مَا جَآءَنَاجو ہمارے پاس آئے
- مِنَ الْبَيِّنٰتِواضح دلائل سے
- وَالَّذِيْ فَطَرَنَااور وہ جس نے ہمیں پیدا کیا
- فَاقْضِپس تو کر گزر
- مَآجو
- اَنْتَتو
- قَاضٍکرنے والا
- اِنَّمَااس کے سوا نہیں
- تَقْضِيْتو کرے گا
- هٰذِهِاس
- الْحَيٰوةَ الدُّنْيَادنیا کی زندگی
Translation · Tadabbur-e-Quran
انہوں نے جواب دیا کہ ہم ان روشن دلائل پر جو ہمارے پاس آئے ہیں اور اس ذات پر جس نے ہم کو پیدا کیا ہے، تم کو ہرگز ترجیح دینے والے نہیں ہیں تو تمہیں جو کچھ کرنا ہے کر گزرو۔ تم جو کچھ کرسکتے ہو بس اس دنیاوی زندگی کا کرسکتے ہو !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ایمان کا کرشمہ
فرعوکن نے دھمکی تو بڑی سخت سنائی اور اسے توقع رہی ہوگی کہ وہ اس دھمکی سے ساحروں کو مرعوب کو لے گا لیکن اب اس کا سابقہ پیشہ ور جادوگروں سے نہیں بلکہ راسخ الایمان مومنوں سے تھا۔ انہوں نے فرعون کی یہ دھمکی سن کر کچھ لگی لپٹی رکھے بغیر صاف سنا دیا کہ تمہیں جو کچھ کرنا ہے کہ گزرو اب ہم ان روشن نشانیوں پر جو ہمارے مشاہدے میں آچکی ہیں اور اپنے اس خالق پر جس نے ہمیں وجود بخشا ہے تمہیں ترجیح دینے والے نہیں ہیں۔ تم اگر کچھ کرسکتے ہو تو اسی دنیا کی زندگی کا کرسکتے ہو اور ہمیں اس دنیا کی زندگی کی کوئی پروا نہیں ہے … دیکھا آپ نے ایمان کا کرشمہ ! یہی وہی جادوگر ہیں جن کا حال قرآن میں دوسری جگہ یہ بیان ہوا ہے کہ جب وہ مقابلہ کے لئے بلائے گئے تو انہوں نے بڑی لجاجت کے ساتھ فرعون سے اپنی کامیابی کی صورت میں انعام کی درخواست کی یا اب ایمان کے نور نے ان کے دلوں کو اس طرح منور کردیا کہ خدا اور آخرت کے سوا اس دنیا کی کسی چیز کی ان کی نگاہوں میں کوئی وقعت باقی نہیں رہی ہے یہاں تک کہ وہ اپنے ایمان کی حفاظت کی راہ میں اپنی زندگی بھی قربان کرنے کے لئے بالکل تیار ہیں۔