Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 74

  1. اِنَّهٗ مَنْ یَّاْتِ رَبَّهٗ مُجْرِمًا فَاِنَّ لَهٗ جَهَنَّمَ١ؕ لَا یَمُوْتُ فِیْهَا وَ لَا یَحْیٰى﴿74﴾

    1. اِنَّهٗبیشک وہ
    2. مَنْ يَّاْتِجو آیا
    3. رَبَّهٗاپنے رب کے سامنے
    4. مُجْرِمًامجرم بن کر
    5. فَاِنَّتو بیشک
    6. لَهٗاس کے لیے
    7. جَهَنَّمَجہنم
    8. لَا يَمُوْتُنہ وہ مرے گا
    9. فِيْهَااس میں
    10. وَاور
    11. لَا يَحْيٰينہ جئے گا
Translation · Tadabbur-e-Quran
بیشک جو شخص اپنے رب کے سامنے مجرم کی حیثیت سے حاضر ہوگا تو اس کے لئے جہنم ہے، نہ اس میں مرے گا، اور نہ جیے گا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ایک تضمین یہ اور اس کے بعد کی دو آیتیں میرے نزدیک بطور تضمین ہیں۔ جس طرح اوپر آیات 56-53 میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی تقریر کے ساتھ اپنی بات ملا کر اس کو مکمل اور مطابق حال کردیا ہے اسی طرح ان لوگوں کے جواب کے ساتھ اپنی بات ملا کر اس کو مکمل اور مطاب حال کردیا ہے۔ ان آیات کو تضمین ماننے کی وجہ میرے نزدیک یہ ہے کہ ان میں جزا و سزا اور آخرت کا حال جن الفاظ میں بیان ہوا ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کے شایان شان ہیں اور ان کا انذار اوپر کی آیات کے انذار سے بالکل مختلف ہے۔ فرمایا کہ جو اپنے رب کے حضور مجرم کی حثیت سے حاضر ہوگا تو اس کے لئے دوزخ ہے جس میں نہ وہ مرے گا اور نہ جیے گا۔ مجرم کی حیثیت سے یعنی جس نے خدا کی نافرمانیاں کیں اور اس کو توبہ و اصلاح کی وفیق نہ ہوئی۔ لایموت فیھا ولا یحییٰ اس عذاب کی شدت، اس کے خلود اور اس کی بےپناہی کی ایسی تعبیر ہے کہ اپنے لفظوں میں اس کو واضح کرنا ممکن نہیں، بڑی سے بڑی مصیبت بھی ہو تو اس سے نجات کے لئے موت بہرحال ایک آخری چارہ کار ہے لیکن جہاں موت بھی نہ ہوا او موت کے مصائب ہر طرف سے پلے پڑ رہے ہوں وہاں کوئی کدھر جائے گا۔