Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 76

  1. جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا مَنْ تَزَكّٰى۠ع﴿76﴾

    1. جَنّٰتُباغات
    2. عَدْنٍہمیشہ رہنے والے
    3. تَجْرِيْجاری ہیں
    4. مِنْ تَحْتِهَاان کے نیچے
    5. الْاَنْهٰرُنہریں
    6. خٰلِدِيْنَہمیشہ رہیں گے
    7. فِيْهَااس میں
    8. وَذٰلِكَاور یہ
    9. جَزٰٓؤُاجزا ہے
    10. مَنْ تَزَكّٰىجو پاک ہوا
Translation · Tadabbur-e-Quran
ان کے لئے ہمیشگی کے باغ ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ اور یہ صلہ ہے اس کا جس نے پاکیزگی اختیار کی
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
جنت ایک سستی چیز نہیں یہ وضاحت ہے ان مراتب عالیہ کی یعنی ان کے لئے ہمیشگی کے باغ ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ فرمایا کہ و ذلک عجزوآء من تزکی یہ صلہ ہے ان لوگوں کا جو اپنے ظاہر و باطن اور اپنے عقیدو عمل کو پاکیزہ بنائیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ جھوٹی تمنائوں سے ملنے والی چیز نہیں ہے بلکہ اس کے حق داد وہی ٹھہریں گے جو اس کے حاصل کرنے کے لئے اپنے نفس کو ہر قسم کی آلائشوں سے، خواہ وہ فکری ونظری ہوں یا عملی و اخلاقی، پاک کرنے کی جدوجہ دکریں گے۔ اس راہ میں آدمی کو جو ٹھوکریں لگتی ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے تدارک کی تدبیریں بھی اپنی اس کتاب میں بتا دی ہیں اور انسان اپنی کمزوریوں کی وجہ سے جن رعایتوں کا محتاج ہے وہ بھی اس کو بخشی گی ہیں۔ ان چیزوں میں کسی چیز کا انکار دین میں غلو اور تشدد ہے لیکن ساتھ ہی یہ امر بھی محلوظ رہے کہ جن لوگوں نے محض اپنے جی سے عمل کی اہمیت گھٹا کر اباحت کے دروازے کھول دیئے ہیں، خواہ وہ ہمارے پرانے متکلمین ہوں یا نئے متکلمین، انہوں نے اپنی فیاضی سے جنت کو ایک بہت سستی چیز تو ضرور بنا دیا ہے اور اس سے ہم جیسے بےعملوں کو بڑی تسلی مل جاتی ہے لیکن قرآن میں ان کے اس نظریے کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہے اور جنت کی کنجی بہرحال اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، وہ اس نے ان متکلمین کے ہاتھ میں نہیں پکڑا دی ہے اس وجہ سے سلامتی اسی میں ہے کہ اس قسم کی جھوٹی آرزوئوں سے اپنے آپ کو محفوظ ہی رکھیے۔ قرآن نے ان کو یہود کی امانی باطلہ میں سے شمار کیا ہے اور ان کی تفصیل سورة بقرہ کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔