تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 77
وَ لَقَدْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى١ۙ۬ اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْ فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِیْقًا فِی الْبَحْرِ یَبَسًا١ۙ لَّا تَخٰفُ دَرَكًا وَّ لَا تَخْشٰى﴿77﴾
- وَلَقَدْ اَوْحَيْنَآاور تحقیق ہم نے وحی کی
- اِلٰىطرف۔ کو
- مُوْسٰٓىموسیٰ
- اَنْ اَسْرِکہ راتوں رات لے جا
- بِعِبَادِيْمیرے بندے
- فَاضْرِبْپس بنا لینا
- لَهُمْان کے لیے
- طَرِيْقًاراستہ
- فِي الْبَحْرِدریا میں
- يَبَسًاخشک
- لَّانہ
- تَخٰفُخوف ہوگا
- دَرَكًاپکڑنا
- وَّلَا تَخْشٰىاور نہ ڈر
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ہم نے موسیٰ ؑ کو وحی کی کہ میرے بندوں کو شب میں لے کر نکل جائو۔ ان کے لئے دریا میں ایک خشک راہ کھول لو، نہ تمہیں تعاقب سے کوئی خطرہ ہوگا نہ ڈوبنے کا کوئی اندیشہ ؟
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فاضرب لھم طریقاً ضرب طریق کے معنی عربی محاورہ کے لحاظ سے تو جیسا کہ صاحب کشاف نے تصریح کی ہے، راستہ بنا لینے کے ہیں لیکن یہاں اس لفظ کے استعمال کے استعمال میں ایک لطیف کنایہ حضرت موسیٰ کے عصا کی طرف بھی ہے اس لئے کہ اس راستہ کے بنانے میں حضرت موسیٰ کے عصا کو بھی دخل تھا اور عصا کی مناسب لفظ ضرب کے ساتھ واضح ہے۔
حذف کی ایک مثال
لاتخاف درکا ولا تغشی میں تغشی کا مفعول تقابل کے اصول پر میرے نزدیک مخذوف ہے۔ اس مخدوف کو کھول دیجیے تو پوری بات یوں ہوگی۔ لاتخاف درکا ولاتخشی غرقاً یعنی نہ تم کو فرعون کی طرف سے پا لئے جانے کا کوئی اندیشہ ہوگا اور نہ سمندر میں ڈوبنے کا کوئی خطرہ ہوگا۔ اس قسم کے حذف کی متعدد مثالیں پیچھے اس کتاب میں گزر چکی ہیں۔ میں نے ترجمہ میں اس حذف کو کھول دیا ہے۔
حضرت موسیٰ کو ہجرت کا حکم
یہاں حضرت موسیٰ اور فعون کی کشمکش کا ایک طویل حصہ حذف کردیا گیا ہے، جس پر سورة اعراف کی تفسیر میں ہم روشنی ڈال چکے ہیں۔ حضرت موسیٰ نے فرعون سے یہ مطالبہ جو کیا کہ میرے ساتھ بنی اسرائیل کو عید قربانی منانے کے لئے جانے دے تو فرعون نے اس مطالبہ کو ماننے سے نہ صرف انکار کردیا بلکہ اس ظلم و تشدد میں اس نے مزید اضافہ کردیا جو اب تک اس کے اور اس کے کارندوں کے ہاتھوں بنی اسرائیل پر ہو رہا تھا۔ اس دوران میں یکے بعد دیگرے اللہ تعالیٰ نے مصر پر مختلف آفتیں نازل کیں کہ فرعون کی آنکھیں کھلیں لیکن جب کوئی مصیبت آتی تب تو وہ حضرت موسیٰ کی خوشامدیں کر تاکہ اگر تمہاری دعا سے یہ آفت ٹل گئی تو میں بنی اسرائیل کو تمہایر ساتھ جانے دوں گا۔ لیکن حضرت موسیٰ کی دعا اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے جب آفت ٹل جاتی تو پھر اس کی سرکشی عود کر آتی اور وہ اپنے عہد سے مکر جاتا۔ اسی نزاع میں کئی سال بیت گئے۔ اس دوران میں حضرت موسیٰ نے فرعون اور اس کی قوم پر اپنا عہد سے مکر جاتا۔ اسی نزاع میں کئی سال بیت گئے۔ اس دوران میں حضرت موسیٰ نے فرعوکن اور اس کی قوم پر اپنا وہ فرض رسالت اچھی طرح ادا کردیا جو ایک رسول کی حیثیت سے ان پر عائد ہوتا تھا۔ بالآخر جب فرعون اور اس کی قوم پر اللہ تعالیٰ کی حجت پوری ہوگئی تب حضرت موسیٰ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ہدایت ہوئی کہ وہ بنی اسرائیل کے ساتھ مصر سے ہجرت کر جائیں۔
اب تک تو حضرت موسیٰ کا مطالبہ، جیسا کہ سورة اعراف کی تفسیر میں ہم واضح کرچکے ہیں صرف یہ تھا کہ ان کو بنی اسرائیل کے ساتھ تین دن کی راہ بیابان میں قربان کے لئے جانے کی اجازت دی جائے 1 لیکن اب چونکہ وہ فرعون اور اس کی قوم پر اتمام حجت کرچکے تھے اسی وجہ سے سنت الٰہی کے مطابق ان کو اس علاقے سے ہجرت کا حکم ہوگیا۔ ارشاد ہوا کہ راتوں رات مررے بندوں کے ساتھ یہاں سے نکل جائو میرے بندوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے تھے۔ ان میں عظیم اکثریت تو بنی اسرائیل ہی کی تھی لیکن ایک مختصر جماعت ان میں ان لوگوں کی بھی شامل تھی جو مصریوں میں سے ایمان لائے تھے اوپر جن جادوگروں کے ایمان لانے کا ذکر ہے قرائن شاہد ہیں کہ وہ بنی اسرائیل میں سے نہیں بلکہ مصریوں میں سے تھے۔ لفظ عبادی ان تمام لوگوں پر مشتمل ہے جو حضرت موسیٰ پر ایمان لائے، عام اس سے کہ وہ مصری تھے یا اسرائیلی، قرآن میں ایک مومن آل فرعون کا ذکر بھی خاص طور پر ہوا ہے۔
1۔ استاذ امام ؒ کا خیال یہ ہے کہ حضرت موسیٰ بنی اسرائیل کو قربانی کے لئے مکہ معظمہ لے جانا چاتے تھے۔
قدرت خداوندی کا کرشمہ
فاضرب لھم طریقاً فی البحر بحر سے مراد یہاں بحر احمر کی شمالی خلیج ہے۔ ہدایت ہوئی کہ پوری جماعت کے ساتھ ساحل سمندر پر پہنچو اور وہاں اپنی لٹھیا سمندر پر مار کر اس کے اندر سے لوگوں کے لئے خشک راہ پیدا کرلو۔ یہ اسلوب بیان اس اختیار کو ظاہر کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے معجزے کے ذریعے سے حضرت موسیٰ کو بخشا کہ تم اس کے اشارے سے سمندر کو حکم دو گے تو وہ تمہایر گزرنے کے لئے خشک راستہ نکال دے گا۔ البحر پر الف لام اس بات کا قرینہ ہے کہ حضرت موسیٰ کو متعین طور پر اس جگہ کی نشان دہی کردی گئی تھی جہاں ان کو پہنچنا تھا۔ اس واقعہ کے متعلق تورات میں جو تفصیل آئی ہے وہ ہم یہاں نقل کئے دیتے ہیں تاکہ واضح ہوجائے کہ اس موقع پر شان خداوندی کس شکل میں ظاہر ہوئی۔ کتاب خروج باب 14 ملاحظہ ہو۔
”اور خداوند نے موسیٰ سے کہا تو کیوں مجھ سے فریاد کر رہا ہے ؟ بنی اسرائیل سے کہہ کہ وہ آگے بڑھیں اور تو اپنی لاٹھی اٹھا کر اپنا ہاتھ سمندر کے اوپر بڑھا اور اس کو دو حصے کر اور بنی اسرائیل سمندر کے بیچ میں سے خشک زمین پر چل کر نکل جائیں گے ………… پھر موسیٰ نے اپنا ہاتھ سمندر کے اوپر بڑھایا اور خداوند نے رات بھر تندپور بی آندھی چلا کر سمندر کو پیچھے ہٹا کر اسے خشک زمین بنا دیا اور پانی دو حصے ہوگیا اور بنی اسرائیل سمندر کے بیچ میں سے خشک زمین پر چل کر نکل گئے اور ان کے دہنے اور بائیں ہاتھ پانی دیوار کی طرح تھا اور مصریوں نے تعاقب کیا۔“ (23-15-14)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ معجزہ پوربی ہوا کے تصرف سے ظہور میں آیا۔ اس سے خلیج کا پانی اس طرح دو حصوں میں منقسم ہوگیا کہ بنی اسرائیل کے گزرنے کے لئے خشک راستہ پیدا ہوگیا۔