Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 78

  1. فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُوْدِهٖ فَغَشِیَهُمْ مِّنَ الْیَمِّ مَا غَشِیَهُمْؕ﴿78﴾

    1. فَاَتْبَعَهُمْپھر ان کا پیچھا کیا
    2. فِرْعَوْنُفرعون
    3. بِجُنُوْدِهٖاپنے لشکر کے ساتھ
    4. فَغَشِيَهُمْانہیں ڈھانپ لیا
    5. مِّنَ الْيَمِّدریا سے
    6. مَا غَشِيَهُمْجیسا کہ ان کو ڈھانپ لیا
Translation · Tadabbur-e-Quran
تو فرعون نے اپنی فوجوں کے ساتھ ان کا تعاقب کیا۔ بالآخر ان کو سمندر کی اس چیز نے ڈھاک لیا جس چیز نے ڈھانک لیا ؟
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فرعون اور اس کی فوجوں کی غرقابی فغشیھم من الیم ماغشیھم عربی میں یہ اسولب بیان کسی چیز کی ایسی ہولناکی یا عظمت کے اظہار کے لئے آتا ہے جس کو الفاظ تعبیر کرنے سے قاصر ہوں۔ تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ کے معجزات کے معجزات سے تنگ آ کر اگرچہ فرعون نے ان کو جانے کی اجازت دے دی تھی لیکن ان کی روانگی کے بعد اس کی رائے بدل گئی اور اس نے فوج کے ساتھ ان کا تعاقب کیا اور بالآخر اپنی فوج سمیت سمندر کی بےپناہ موجوں کی لپیٹ میں آگیا اس کی تفصیل تورات میں یوں آتی ہے۔ ”جب مصر کے بادشاہ کو خبر ملی کہ وہ لوگ چلی دیے تو فرعون اور ان کے خادموں کا دل ان لوگوں کی طرف سے پھر گیا اور وہ کہنے لگے کہ یہ ہم نے کیا کیا کہ اسرائیلیوں کو اپنی خدمت سے چھٹی دے کر ان کو جانے دیا۔ تب اس نے اپنا رتھ تیار کروایا اور اپنی قوم کے لوگوں کو ساتھ لیا اور اس نے چھ سوجتے ہوئے رتھ بلکہ مصر کے سب رتھ لیے اور ان سبھوں میں سرداروں کو بٹھایا۔“ خروج باب 7-5-14 اس کے بعد ان کے غرق ہونے کی تفصیل ہونے کی تفصیل یوں بیان ہوئی ہے۔ ”اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ اپنا ہاتھ سمندر کے اوپر بڑھا تاکہ پانی مصریوں اور ان کے رتھوں اور سواروں پر پھر بہنے لگے اور موسیٰ نے اپنا ہاتھ سمندر کے اوپر بڑھایا اور صبح ہوتے ہوتے سمندر پھر اپنی اصلی قوت پر آگیا اور مصری الٹے بھاگنے لگے اور خداوند نے مصریوں کو سمندر کے بیچ ہی تہ وبالا کردیا اور پانی پلٹ کر آیا اور اس نے رتھوں اور سواریوں اور فرعون کے سارے لشکر کو جو اسرائیلیوں کا پیچھا کرتا ہوا سمندر میں گیا تھا۔ غرق کردیا اور ایک بھی ان میں سے باقی نہ چھوٹا۔ پر بنی اسرائیل سمندر کے بیچ میں سے خشک زمین پر چل کر نکل گئے اور پانی ان کے دہنے اور بائیں ہاتھ دیوار کی طرح رہا۔“ خروج باب 14: 29-26