Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 85

  1. قَالَ فَاِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَكَ مِنْۢ بَعْدِكَ وَ اَضَلَّهُمُ السَّامِرِیُّ﴿85﴾

    1. قَالَاس نے کہا
    2. فَاِنَّاپس ہم نے
    3. قَدْتحقیق
    4. فَتَنَّاآزمائش میں ڈالا
    5. قَوْمَكَتیری قوم
    6. مِنْۢ بَعْدِكَتیرے بعد
    7. وَاَضَلَّهُمُاور انہیں گمراہ کیا
    8. السَّامِرِيُّسامری
Translation · Tadabbur-e-Quran
فرمایا تو ہم نے تمہاری قوم کو تمہارے پیچھے ایک فتنہ میں ڈال دیا اور سامری نے ان کو گمراہ کر ڈالا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو خبر دی کہ تم تو ہماری رضا جوئی کے شوق میں قوم کو چھوڑ کر وقت سے پہلے چلے آئے اور تمہارے بعد ہم نے تمہاری قوم کو آزمائش میں ڈال دیا اور سامری نے اس کو گمراہی میں مبتلا کردیا۔ فتنا قومک میں اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر تفصیل کے ساتھ آیت فتنک فتوناً کے تحت ہم کر آئے ہیں۔ افراد ہوں یا اقوام نیک ہوں یا بد، سب کی آزمائش ہر وقت ہوتی رہتی ہے اور اسی آزمائش کے ذرعیہ سے اللہ تعالیٰ کھرے اور کھوٹے کو ممیز کرتا ہے یہاں مقصود یہ بتانا ہے کہ ہم نے تمہاری قوم کو آزمئاش میں ڈالا اور وہ اس امحتان میں فیل ہوگئی۔ سامری نے اس کو گمراہ کر ڈالا۔ سامری کا فتنہ سامری کا کوئی ذکر تورات میں نہیں ہے۔ اس وجہ سے اس کے متعلق صرف اتنی ہی بات علم میں آئی ہے جو قرآن میں بیان ہوئی ہے اور جو آگے آرہی ہے تورات کے راویوں نے تو اس سارے فتنہ کو حضرت ہارون کی طرف منسوب کردیا ہے۔ یہ قرآن کا احسان ہے کہ اس نے اس فتنہ کے اصل بانی کا پتہ دیا اور حضرت ہارون کو اس تہمت سے بری کیا۔ سامری کوئی اسرائیلی تھا یا ان مصریوں میں سے تھا جنہوں نے حضرت موسیٰ کے ساتھ ہجرت کی ؟ یہ ایک غیر متعلق اور غیر مفید سوال ہے۔ ہم اس غیر ضروری بحث میں نہیں پڑنا چاہتے۔ قرآن سے جو بات معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ ایک نہایت ہی فتین اور کیا د منافق تھا جو محض اپنے مفسدانہ اغراض کے لئے حضرت موسیٰ کی جماعت میں گھسا ہوا تھا۔ آگے کی آیات سے معلوم ہوگا کہ اس کو متصوفانہ قسم کے کشوف و کرامات کے ڈھونگ رچانے کا فن بھی معلوم تھا۔ اس قسم کے چالاک لوگ بڑی آسانی سے سادہ لوح عوام کو اپنے دام فریب میں پھنسا لیتے ہیں۔ اس نے حضرت موسیٰ کی غیر حاضری سے پورا فائدہ اٹھایا۔ اوپر معلوم ہو چا ہے کہ حضرت موسیٰ کچھ تو وقت سے پہلے چلے گئے اور پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت تربیت کے تحت ان کی مدت قیام میں دس دن کا اور اضافہ کردیا۔ اس طرح سامری کو کھل کھیلنے کا موقع مل گیا۔ اس نے بنی اسرائیل کے ان تمام عناصر کو اپنے اردگرد اکٹھا کرل یا جو پہلے ہی سے بت پرستانہ ذہینیت رکھتے تھے۔ اس نے ان کو سمجھایا کہ موسیٰ تو معلوم نہیں خدا کی تلاش میں کہاں گئے اگر تم لوگ اپنے زیورات چندے میں دو تو میں تمہارے لئے ایک معبود بنائے دیتا ہوں جو تمہاری رہنمائی کرے گا۔ موسیٰ تو تمہیں یہاں چھوڑ کر کہیں غائب ہوگئے، اب تم کب تک، انتظار کرو گے، سامری مصر کے فن بت گری کا بھی ماہر تھا اس نے لوگوں کے دیے ہوئے زیورات سے ایک بچھڑا بنایا جس کی شکل ایسی تھی کہ جب اس میں سے ہوا گزرتی تو اس سے بھاں بھاں کی آواز نکلتی۔ اس نے اس آواز کو جیسا کہ آگے معلوم ہوگا، اپنی ایک کرامت کا نتیجہ قرار دیا اور سادہ لوح عوام کو بیوقوف بنانے میں کامیاب ہوگیا۔ حضرت ہارون نے لوگوں کو اس فتنہ سے بچانے کے لئے پورا زور لگایا لیکن جو لوگ حضرت موسیٰ کے دبدبہ سے دبے ہوئے تھے ان کو وہ دبانے میں کامیاب نہ ہو سکے یہاں تک کہ ان کی جان بھی خطرے میں پڑگئی اور انہوں نے یہ بھی محسوس فرما لیا کہ اب اگر انہوں نے کوئی مزید قدم اٹھایا تو اس سے فائدہ کے بجائے الٹا نقصان ہوگا، جماعت کا شیرازہ بالکل درہم برہم ہوجائے گا اس وجہ سے انہوں نے بہتری اسی میں سمجھی کہ حضرت موسیٰ کی واپسی کا انتظار کریں۔ حضرت موسیٰ کی واپسی اور قوم پر ان کا عتاب جب حضرت موسیٰ کو اس حادثہ کی خبر ملی تو اس کا جو اثر قدرتی طور پر ہونا تھا وہ ہوا۔ وہ نہایت غصہ اور غم کی حالت میں قوم کی طرف واپس آئے۔ غصہ تو ان کو مفسدین کی کامیاب شرارت پر تھا کہ انہوں نے سارے کئے کرائے پر پانی پھیر دیا اور آگے کی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ صحیح صورتحال سامنے نہ ہونے سارے کئے کرائے پر پانی پھیر دیا اور آگے کی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ صحیح صورتحال سامنے نہ ہونے کے سبب سے حضرت ہارون پر بھی تھا کہ ان کو مفسدین سے ہوشیار رہنے کی جو ہدایت انہوں نے فرمائی تھی اس کو محلوظ رکھنے میں وہ ناکام رہے۔ اور غم اپنی قوم کی اس بدبختی پر کہ میں تو اس کے لئے اللہ کی کتاب لینے گیا اور یہ ایک بچھڑا بنا کر اس کی عبادت میں لگ گئی ! انہوں نے سب سے پہلے قوم کو سرزنش فرمائی کہ نادانو، یہ تم کیا کر بیٹھے ! کیا خدا نے تم سے نہایت مبارک وعدہ کتاب و شریعت دینے کا نہیں فرمایا تھا ؟ کیا اس وعدے کے پورے ہونے میں اتنی دیر ہوگئی کہ تم صبر نہ کرسکے ؟ کیا تم نے یہ چاہا کہ تم پر خدا کا غضب نازل ہو کہ تم اس عہد کو توڑ بیٹھے جو میں تم سے لے کر گیا تھا۔ اس عہد سے مراد وہ عہد ہے جس کا حالہ ہم پیچھے نقل کر آئے ہیں کہ طور پر جاتے وقت قوم کے تمام سرداروں کو حضرت موسیٰ نے یہ ہدایت فرما دی تھی کہ میں شریعت کہ میں شریعت لینے جا رہا ہوں، جب تک میں واپس نہ آئوں لوگ یہیں ٹھہرے رہیں اور تمام معاملات میں حضرت ہارون کی ہدایات کی پیروی کریں۔