تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 99
كَذٰلِكَ نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ مَا قَدْ سَبَقَ١ۚ وَ قَدْ اٰتَیْنٰكَ مِنْ لَّدُنَّا ذِكْرًاۖۚ﴿99﴾
- كَذٰلِكَاسی طرح
- نَقُصُّہم بیان کرتے ہیں
- عَلَيْكَتجھ پر۔ سے
- مِنْسے
- اَنْۢبَآءِخبریں، احوال
- مَاجو
- قَدْ سَبَقَگزر چکا
- وَقَدْ اٰتَيْنٰكَاور تحقیق ہم نے تمہیں دیا
- مِنْ لَّدُنَّااپنے پاس سے
- ذِكْرًا(کتاب) نصیحت
Translation · Tadabbur-e-Quran
اسی طرح ہم تمہیں ماضی کی سرگزشتیں بھی سناتے ہیں اور خاص اپنے پاس سے تمہیں بھی یاد دہانی عطا کی ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آگے کا مضمون آیات 135-99
حضرت موسیٰ کی سرگزشت تمام ہوئی۔ اب آگے وہی مضمون جس سے سورة کا آغاز ہوا تھا نئے اسلوب اور نئے دلائل کے ساتھ پھر سامنے آگیا۔ آنحضرت کو مخاطب کر کے فرمایا کہ ماضی کی یہ سرگزشت جو ہم نے تمہیں سنائی ہے۔ یہ صرف ماضی کی حکایت نہیں ہے بلکہ یہی کچھ تمہارے اور تمہارے مخالفین کے سامنے بھی پیش آ رہا ہے اور پیش آئے گا جو لوگ تمہاری اس یاد دہانی سے اعراض اور دوسروں کو برگشتہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ قیامت کے روز اپنا بوجھ بھی اٹھائیں گے اور ان لوگوں کے بوجھ میں سے بھی ان کو اٹھاناپ ڑے گا جو ان کے سبب سے گمراہ ہوں گے۔ اور یہ قیامت کا دن بڑا ہی سخت دن ہوگا۔ اس دن کسی کی کچھ پیش نہیں جائے گی۔ سب کی پیشی خدا ہی کے سامنے ہوگی اور اس کے سامنے کوئی اس کے اذن کے بغیر کسی کی سفاشر کے لئے زبان نہ کھول سکے گا۔ تو ہم نے جو یاد دہانی تم پر اتاری ہے اس کے اندر ہر خطرے سے لوگوں کو آگاہ کردیا ہے۔ تم اس کو لوگوں کو سنا دو۔ جس کو توفیق ہوگی وہ اس سے فائدہ اٹھائے گا جو اس سے اعراض کرتا ہے اس کو اس کے حال پر چھوڑ دو۔ اس کی کوئی ذمہ داری تمہارے اوپر نہیں ہے اور یہ قرآن جس تدریج کے ساتھ اتر رہا ہے اسی تدریج کے ساتھ تم اس کو لوگوں کو سنائو اسی تدریج و ترتیب میں حکمت ہے۔ اس کے لئے جلدی نہ کرو۔ جلدی میں خیر و برکت نہیں ہے۔ آدم نے جلدی کی تو اس کا نتیجہ اس شکل میں ان کے سامنے آیا کہ شیطان نے ان کو جنت سے نکلوا چھوڑا۔ جو لوگ تم سے نشانی عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں ان کو خود ان کے ملک کی تاریخ کی طرف توجہ دلائو اور ان کے طعن و طنز پر صبر کرو اور اس صبر کے حصول کے لئے زیادہ سے زیادہ سرگرمی کے ساتھ نماز کا اہتمام کرو امراء و اغنیاء کے ایمان کے لئے بھی تمہیں زیادہ فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ نہ تم ان کے مال و اسباب کے محتاج ہو اور ورن ہتمہاری یہ دعوت ان کی سرپرستی کی محتاج ہے۔ تمہارا اور تمہارے ساتھیوں کا کفیل اور سرپرست اللہ ہے جو لوگ تم سے کسی نشانی کا مطالبہ کر رہے ہیں ان سے کہہ دو کہ سب سے بڑی نشانی تمہارے پاس قرآن کی صورت میں آگئی ہے اور یہ اسی لئے آئی ہے کہ تم پر حجت تمام ہوجائے۔ اگر تم لوگ اس کو کافی نہیں سمجھتے کسی عذاب ہی کے طالب ہو تو اس کے لئے تم بھی انتظار کرو، میں بھی اس کا انتظار کر رہا ہوں۔ اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمایئے۔
ہنسی اور مستقبل دونوں کا آئینہ
کذلک کا اشارہ حضرت موسیٰ کی اسی سرگزشت کی طرف ہے جو پیچھے گزری۔ اب یہ آنحضرت کو مخاطب کر کے فرمایا کہ ہم تمہیں ماضی کی یہ اہم سرگزشتیں بھی سنا رہے ہیں اور خاص اپنے پاس سے تمہیں بھی کتاب عطا فرمائی ہے۔ یعنی ماضی میں خدا نے اپنے رسولوں اور ان کے مخالفوں کے ساتھ جو معاملہ کیا وہ بھی تمہیں سنا دیا ہے اور تمہارے ان مخالفوں کے ساتھ جو معاملہ کرنے والا ہے وہ بھی تمہیں بتا دیا ہے۔ اب اسی آئینے میں اپنا اور اپنے ان حریفوں کا مستقبل دیکھ لو ذکر سے مراد قرآن مجید ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے پچھلے انبیاء اور ان کی تعلیمات کا حصہ بھی محفوظ کردیا ہے جس کو محفوظ رکھنا تھا اور آخری سرول کی حیثیت سے جو ہدایت آنحضرت پر نازل ہونے والی تھی وہ بھی اس میں ہے۔