تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 21. Al-Anbiyaa · Ayah 67
اُفٍّ لَّكُمْ وَ لِمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ﴿67﴾
- اُفٍّتف
- لَّكُمْتم پر
- وَلِمَااور اس پر جسے
- تَعْبُدُوْنَپرستش کرتے ہو تم
- مِنْ دُوْنِ اللّٰهِاللہ کے سوا
- اَکیا
- فَلَا تَعْقِلُوْنَپھر تم نہیں سمجھتے
Translation · Tadabbur-e-Quran
تف ہے تم پر بھی اور ان چیزوں پر بھی جن کو اللہ کے سوا تم پوجتے ہو ! کیا تم لوگ سمجھتے نہیں !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اف لکم نہایت شدید نفرت و کراہت کا کلمہ ہے۔ حضرت ابراہیم نے جب اس طرح ان پر حجت تمام کردی، پھر بھی ان کی آنکھیں نہیں کھلیں تو انہوں نے نہایت کراہت و بیزاری کے ساتھ فرمایا کہ تم پر اور تمہایر ان معبودوں پر، جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو، تف ہے ! افلا تعقلون یعنی کیا تم بالکل لایعقل بیل ہی ہو ! بھلا ان پتھروں کی مورتوں کو پوجنے سے کیا حاصل ! جن کی بےبسی کا یہ حال ہے کہ وہ خد اپنی حفاظت نہیں کرسکتیں تو آخر وہ تمہاری حفاظت کس طرح کریں گی !