تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 21. Al-Anbiyaa · Ayah 8
وَ مَا جَعَلْنٰهُمْ جَسَدًا لَّا یَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ مَا كَانُوْا خٰلِدِیْنَ﴿8﴾
- وَاور
- مَا جَعَلْنٰهُمْہم نے نہیں بنائے ان کے
- جَسَدًاایسے جسم
- لَّا يَاْكُلُوْنَنہ کھاتے ہوں
- الطَّعَامَکھانا
- وَاور
- مَا كَانُوْاوہ نہ تھے
- خٰلِدِيْنَہمیشہ رہنے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ہم نے ان کو ایسے جسم بھی نہیں دیے کہ وہ کھانا نہ کھاتے ہوں اور وہ ابدی زندگی رکھنے والے بھی نہ تھے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
کوئی بنی مافوق بشر نہیں ہوا
یعنی وہ تمام انبیا بھی اسی طرح کی بشری خصوصیات کے ساتھ آئے تھے جس طرح کی بشری خصوصیات تمہارے اندر ہیں۔ نہ تو ان کو ایسے جسم ملے تھے جو کھانے پینے کی ضرورت سے متفی ہوں اور نہ وہ زندہ جاوید ہو کر آئے تھے۔ وہ بھی انسانوں ہی کہ طرح کھاتے پیتے تھے اور انہیں بھی اسی طرح موت سے دوچار ہونا پڑا جس طرح ہر بشر کو اس سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔
یہ اعتراض دوسری جگہ اس طرح نقل ہوا ہے۔
آیت نمبر مَا هَذَا إِلا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يَأْكُلُ مِمَّا تَأْكُلُونَ مِنْهُ وَيَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُونَ (33) وَلَئِنْ أَطَعْتُمْ بَشَرًا مِثْلَكُمْ إِنَّكُمْ إِذًا لَخَاسِرُونَ (34)
وما کانوا خلدین بیں ان کے اس زعم کی تردید ہے کہ رسول کو زندہ جاوید ہونا چاہیے۔ اسی
سورة میں آگے خیال کی تردیدیوں فرمائی گئی ہے۔
آیت نمبر وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ ۭ اَفَا۟ىِٕنْ مِّتَّ فَهُمُ الْخٰلِدُوْنَ کل نفس ذائقۃ الموت۔
یعنی ہم نے تم سے پہلے کسی انسان کو بھی، خواہ وہ نبی ہو یا غیرنبی، حیات جاوداں نہیں بخشی، اگر تمہیں موت آنی ہے تو یہ بھی ہمیشہ رہنے والے نہیں ہیں، ہر نفس کو ہر صورت موت کا مزہ چکھنا پڑے گا۔ مطلب یہ ہے کہ موت تو اس زندگی کا ایک ناگزیر مرحلہ ہے جس سے کسی کو منصر نہیں ہے، نبی کو بھی اس مرحلہ سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہ چیز نہ اس کی نبوت کے لئے قادح ہے، اور نہ اس کو نبی ماننے میں دوسروں کے لئے کوئی کسِرشان کی بات ہے۔