تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 21. Al-Anbiyaa · Ayah 9
ثُمَّ صَدَقْنٰهُمُ الْوَعْدَ فَاَنْجَیْنٰهُمْ وَ مَنْ نَّشَآءُ وَ اَهْلَكْنَا الْمُسْرِفِیْنَ﴿9﴾
- ثُمَّپھر
- صَدَقْنٰهُمُہم نے سچا کردیا ان سے
- الْوَعْدَوعدہ
- فَاَنْجَيْنٰهُمْپس ہم نے بچا لیا انہیں
- وَمَنْ نَّشَآءُاور جس کو ہم نے چاہا
- وَاَهْلَكْنَااور ہم نے ہلاک کردیا
- الْمُسْرِفِيْنَحد سے بڑھنے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
پھر ہم نے ان سے اپنا وعدہ پورا کیا اور ان کو اور جن کو ہم چاہتے ہیں نجات دی اور حدود سے تجاوز کر جانے والوں کو ہلاک کردیا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
دعد سے مراد وہی وعدہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں سے فرمایا کہ اگر لوگ تمہاری تکزیب کرنے والوں کو ہلاک کردیں گے اور تم کو اور تمہارے ساتھیوں کو نجات دیں گے ہم یونس 20 کے تحت واضح کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں نے اپنی اپنی قوموں کو دوعذابوں سے درایا ہے ایک اس عذاب سے جو اس دنیا میں رسول کی تکزیب کردینے والی قوم پر لازماََ آتا ہے، دوسرے اس عزاب سے جو آخرت میں ہوگا۔ یہاں عذاب مراد ہے۔ فرمایا کہ تھے تو وہ بہرحال بشر ہی لیکن تاریخ شاہد ہے کہ ہم نے ان سے جو وعدہ کیا تھا وہ شچا کر دکھایا یعنی ان کو ادرجن کو ہم چاہیں نجات دی اور ان لوگوں کو ہلاک کردیا جو حدود سے تجاوز کر جانے والے تھے۔ یہاں من نشاء کے اسلوب بیان نے کلام کو مطابق حال کردیا ہے، مطلب یہ ہے کہ یہ صرف ماضی کی حکایت نہیں ہے بلکہ اس وقت تمہارے سامنے بھی یہ فصلہ کن مرحلہ ہے۔ اگر تم نے اپنی ضد سے ہمارے عذاب کو دعوت دی تو ہم اس سے نجات انہی لوگوں کردی گے جن کو چاہیں گے۔ ہماری اس مشیت میں کوئی دوسرا دخیل نہ بن سکے گا اور نہ کوئی ہماری پکڑ سے بچ سکے گا۔ مسرفین سے مراد وہ لوگ ہیں جو خدا کی حدود کو ڈھٹائی کے ساتھ توڑتے ہیں اور رسول کے انداز کا مذاق اڑاتے ہیں۔ یہ لوگ خدا کے باضی قرار پاتے ہیں اور باغیوں کی سرکوبی لازما ہو کے رہتی ہے۔