Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 22. Al-Hajj · Ayah 4

  1. كُتِبَ عَلَیْهِ اَنَّهٗ مَنْ تَوَلَّاهُ فَاَنَّهٗ یُضِلُّهٗ وَ یَهْدِیْهِ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ﴿4﴾

    1. كُتِبَ عَلَيْهِاس پر (اس کی نسبت) لکھ دیا گیا
    2. اَنَّهٗکہ وہ
    3. مَنْ تَوَلَّاهُجو دوستی کریگا اس سے
    4. فَاَنَّهٗتو وہ بیشک
    5. يُضِلُّهٗاسے گمراہ کرے گا
    6. وَيَهْدِيْهِاور راہ دکھائے گا اسے
    7. اِلٰىطرف
    8. عَذَابِعذاب
    9. السَّعِيْرِدوزخ
Translation · Tadabbur-e-Quran
جس کی یہ ڈیوٹی ہی مقرر ہے کہ جو اس کو دوست بنائے گا وہ اس کو گمراہ کر کے رہے گا اور اس کی رہنمائی وہ عذاب دوزخ کی طرف کرے گا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
شیطان کی ڈیوٹی قرآن میں جگہ جگہ یہ بات تفصیل کے ساتھ بیان ہوئی ہے کہ شیطان نے قیامت تک کے لئے بنی آدم کو گمراہ کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے مہلت لی ہے اور اللہ نے اس کو یہ مہلت دی ہے کہ جاء جو تجھے اپنا دوست، مددگار اور رہنما بنائیں ان کو گمراہ کرے، میں ان کو اور تجھ کو سب کو جہنم میں جھونک دوں گا۔ اسی حقیقت کو یہاں کتب علیہ کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ یعنی یہ شیطان کی خدا کی طرف سے ایک مقررہ ڈیوٹی ہے کہ جو اس کو درست بنائیں ان کو دو مگر اہ اور جہنم کی طرف ان کی رہنمائی کرے۔ فانہ کا عطف انہ پر ہے اور من تولاہ بطور بیان شرط کے ہے یعنی شیطان کا یہ فریضہ کہ وہ لوگوں کو گمراہ کرے اور ان کو جہنم کی راہ دکھائے بایں شرط مشروط ہے کہ جو لوگ اس کو اپنا ولی و کار ساز بنائیں گے صرف وہی اس کے دام میں شکار ہوں گے۔ خدا کے ان بندوں پر اس کا کوئی زور نہیں چلے گا جو اس کو اپنا دشمن سمجھیں گے اور ہمیشہ اس کے فتنوں سے بچنے کی کوشش کریں گے۔ یہ بالکل ایسی ہی بات ہے جیسے یہ کہا جائے کہ زہر کا تو کام ہی یہ ہے کہ وہ لوگوں کو ہلاک کرے۔ احمق ہیں وہ جو اس کو تریاق سمجھیں اور نگل لیں۔ شیطان کو خدا نے جو مہلت دی ہے وہ لوگوں کے امتحان کے لئے دی ہے اس کو لیڈر بنانے اور اس سے الہام حاصل کرنے یا اس کی پیروی کے لئے نہیں دی ہے۔