تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 22. Al-Hajj · Ayah 5
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَاِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَّ غَیْرِ مُخَلَّقَةٍ لِّنُبَیِّنَ لَكُمْ١ؕ وَ نُقِرُّ فِی الْاَرْحَامِ مَا نَشَآءُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ١ۚ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰى وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَیْلَا یَعْلَمَ مِنْۢ بَعْدِ عِلْمٍ شَیْئًا١ؕ وَ تَرَى الْاَرْضَ هَامِدَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ وَ اَنْۢبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍ﴿5﴾
- يٰٓاَيُّهَا النَّاسُاے لوگو !
- اِنْ كُنْتُمْاگر تم ہو
- فِيْ رَيْبٍشک میں
- مِّنَسے
- الْبَعْثِجی اٹھنا
- فَاِنَّاتو بیشک ہم
- خَلَقْنٰكُمْہم نے پیدا کیا تمہیں
- مِّنْ تُرَابٍمٹی سے
- ثُمَّپھر
- مِنْ نُّطْفَةٍنطفہ سے
- ثُمَّپھر
- مِنْ عَلَقَةٍجمے ہوئے خون سے
- ثُمَّپھر
- مِنْ مُّضْغَةٍگوشت کی بوٹی سے
- مُّخَلَّقَةٍصورت بنی ہوئی
- وَّاور
- غَيْرِ مُخَلَّقَةٍبغیر صورت بنی
- لِّنُبَيِّنَتاکہ ہم ظاہر کردیں
- لَكُمْتمہارے لیے
- وَنُقِرُّاور ہم ٹھہراتے ہیں
- فِي الْاَرْحَامِرحموں میں
- مَا نَشَآءُجو ہم چاہیں
- اِلٰٓىتک
- اَجَلٍ مُّسَمًّىایک مدت مقررہ
- ثُمَّپھر
- نُخْرِجُكُمْہم نکالتے ہیں تمہیں
- طِفْلًابچہ
- ثُمَّپھر
- لِتَبْلُغُوْٓاتاکہ تم پہنچو
- اَشُدَّكُمْاپنی جوانی
- وَمِنْكُمْاور تم میں سے
- مَّنْکوئی
- يُّتَوَفّٰىفوت ہوجاتا ہے
- وَمِنْكُمْاور تم میں سے
- مَّنْکوئی
- يُّرَدُّپہنچتا ہے
- اِلٰٓىتک
- اَرْذَلِ الْعُمُرِنکمی عمر
- لِكَيْلَا يَعْلَمَتاکہ وہ نہ جانے
- مِنْۢ بَعْدِبعد
- عِلْمٍعلم (جاننا)
- شَيْئًاکچھ
- وَتَرَىاور تو دیکھتا ہے
- الْاَرْضَزمین
- هَامِدَةًخشک پڑی ہوئی
- فَاِذَآپھر جب
- اَنْزَلْنَاہم نے اتارا
- عَلَيْهَااس پر
- الْمَآءَپانی
- اهْتَزَّتْوہ تروتازہ ہوگئی
- وَرَبَتْاور ابھر آئی
- وَاَنْۢبَتَتْاور اگا لائی
- مِنْسے
- كُلِّ زَوْجٍہر جوڑا
- بَهِيْجٍرونق دار
Translation · Tadabbur-e-Quran
اے لوگو ! اگر تم دوبارہ جی اٹھنے کے باب میں شبہ میں ہو تو دیکھو کہ ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیا۔ پھر منی کے ایک قطرے سے، پھر ایک جینن سے، پھر ایک لوتھڑے سے، کوئی کامل ہوتا ہے اور کوئی ناقص۔ ایسا ہم نے اس لئے کیا تاکہ تم پر اپنی قدرت و حکمت اچھی طرح واضح کردیں اور ہم رحموں میں ٹھہرا دیتے ہیں جو چاہتے ہیں ایک مدت معین کے لئے۔ پھر ہم تم کو ایک بچہ کی شکل میں برآمد کرتے ہیں، پھر ایک وقت دیتے ہیں کہ تم اپنی جوانی کو پہنچو اور تم میں سے بعض پہلے ہی مر جاتے ہیں اور بعض بڑھاپے کی آخر حد کو پہنچتے ہیں تاآنکہ وہ کچھ جاننے کے بعد کچھ بھی نہیں جانتے۔
اور تم زمین کو بالکل خشک دیکھتے ہو تو جب ہم اس پر پانی برسا دیتے ہیں تو وہ لہریں لینے لگتی اور اپجتی ہے اور طرح سرح کی خوش نما چیزیں اگاتی ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آگے کا مضمون …… آیات 24-5
آگے قیامت اور توحید کے اسی مضمون کو جو تمہیں کی آیات میں بیان ہوا، ایک نئے رنگ سے لیا اور انسان کی خلقت کی نوعیت، اس کائنات کے مشاہدات اور ان مشاہدات سے اس کائنات کے خالق کو جو صفات ہر عاقل کے سامنے آتی ہیں، ان سے قیامت اور توحید پر دلیل قائم کی ہے اور یہ دکھایا ہے کہ اگر انسان غور کرے تو قیامت اور توحید کے دلائل خود اس کے اپنے وجود اور اس کے اپنے ہی گرد و پیش میں موجود ہیں۔ اس کے لئے کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ احمق ہیں وہ جو ایسے بدیہی حقائق کا انکار اور ان کے بارے میں حجتیں کرتے ہیں۔ اسی ضمن میں ان لوگوں کو بھی لیا، جو خدا کی بندگی اپنے شرائط پر کرنا چاہتے تھے۔ جہاں تک ان کے زعم میں خدا کے احکام ان کی خواہشوں اور اپنے مصالح کے خلا سمجھتے ان سے وہ گریز کرتے۔ اسی طرح کے دو دلوں اور منافقوں کا ایک گروہ اسلام کی بڑھتی ہوئی طاقت کو دیکھ کر اس دور میں پیدا ہوگیا تھا جو خدا اور شیطان، کفر اور اسلام دونوں کو جمع کرنے کا خواشہمند تھا۔ اگرچہ اس گروہ کا رویہ کھلے ہوئے معاندین کے مقابل میں بظاہر روا دارانہ تھا لیکن حقیقت کے اعتبار سے یہ رویہ بھی شرک بلکہ نہایت گھنائونا شرک سے اس وجہ سے قرآن نے یہاں اس پر بھی ضرب لگائی کہ اس دوزخی پالیسی کی خدا کے دین میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ جو لوگ نفع و ضرر دونوں خدا کے ہاتھ میں نہیں مانتے اور نرم گرم ہر طرح کے حالات میں خدا ہی کی بندگی نہیں کرنا چاہتے وہ اپنی پسندیدہ روش اختیار کریں لیکن یاد رکھیں کہ ان کی کوئی بڑی سے بڑی تدبیر بھی، خدا کی مرضی کے بدوں، ان کے کام آنے والی نہیں بن سکتی۔ آخر میں اس کشمکش حق و باطل کے دونوں فریق … اہل ایمان اور حامیان کفر و شرک … کے انجام کا ذکر فرمایا کہ ایک دن آنے الا ہے جس میں فریقین کا معاملہ خدا کی عدالت میں پیش ہوگا اور دونوں اپنے اپنے عقیدہ اور عمل کے مطابق سزا یا انعام پائیں گے۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔
قیامت کا مشاہدہ اپنے اندر اور باہر
فی ریب من البعث، قیامت کے باب میں مشرکین عرب کی روش مریح انکار کی نہیں بلکہ شک اور تردد ہی کی تھی۔ وہ اس کو ایک بہت ہی بعید چیز خیال کرتے تھے اور اس استبعاد کی بڑی وجہ ان کے نزدیک یہ تھی کہ مرکھپ جانے کے بعد دوبارہ جی اٹھنا ان کے خیال میں بہت بعید از قیاس بات تھی۔ اپنے اس واہمہ کے سب سے اول تو قیامت کو وہ کوئی اہمیت دیتے ہی نہیں تھے اور اگر ایک مفروضہ کے درجہ میں اس کو مانتے بھی تھے تو ان کو اپنے مزعومہ شرکاء و شفعاء پر یہ اعتماد تھا کہ وہ اپنی سفارش سے ان کو خدا کی باز پرس سے بچا لیں گے۔ قرآن نے قیامت کا جب اس شد و مد سے ذکر کیا کہ وہی اس زندگی اور اس کائنات کی اصل غایت قرار پا گئی اور ساتھ ہی ان کے تمام شرکاء و شفعاء کو بھی بےحقیت ثابت کردیا تو یہ چیز ان پر بہت شاق گزری۔ انہیں محسوس ہوا کہ ان کی ساری عمارت بالکل ریت پر ہے۔ اس کو بچانے کے لئے ان کے پاس واحد حربہ صرف یہ رہ گیا کہ وہ آنحضرت ﷺ کو زچ کرنے کے لئے یہ مطالبہ کرتے کہ اگر قیامت ایسی ہی یقینی چیز ہے تو وہ اس کو دکھا دیں یا اس کی کوئی ایسی حسوس نشانی بشکل عذاب دکھائیں جس کے بعد وقوع قیامت میں کسی شبہ کی گنجائش باقی نہ ہے۔ قرآن نے ان کی اسی ذہنیت کو سامنے رکھ کر ان کو خود ان کے اپنے وجود اور اس دنیا میں روز مرہ کے مشاہدات کی طرف توجہ دلائی کہ قیامت اور توحید کی دلیل ڈھونڈھنے کے لئے کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ خدا نے انسان اور اس کائنات کو بنایا ہی اس طرح ہے کہ جو شخص آنکھیں رکھتا ہے وہ اپنے اندر اور باہر ہر وقت خدا اور قیامت کا مشاہدہ کرسکتا ہے۔
علقہ کے معنی
فانا خلقنکم من تراب ثم من نطفۃ ثم من علقۃ ثم من مغضہ مخلقۃ و غیر مخلمۃ لنبین لکم، علقۃ خون کی پھٹکی جو بھی کہتے ہیں اور چھوٹے جاندار کیڑے کو بھی۔ یہ نطفہ کے قرار پا جانے کے بعد کا درجہ ہے جب وہ خون اور ایک جنین کی صورت اختیار کرلیتا ہے اور اس کے اندر زندگی کی نمود پیدا ہوجاتی ہے۔
مضغۃ کے معنی
مضغۃ گوشت کے لوتھڑے کو کہتے ہیں۔ یہ علقۃ کے بعد کا مرحلہ ہے جب جننخ گوشت کے ایک لوتھڑے کی شکل میں ایک جسم کی صورت اختیار کرتا ہے۔ اس مضقۃ کی بابت فرمایا کہ ان میں سے بعض کا ڈیزائن بالکل مکمل ہوتا ہے اور بعض کو قدرت نامکمل ہی چھوڑ دیتی ہے اور کسی کے بس میں بھی یہ نہیں ہے کہ اس کو مکمل کر دے۔
انسان کی اپنی خلقت ایک درس گاہ پر
لنبین لکم یہ وہ اصل مقصد ہے جس کے لئے انسان کی خلقت کے ان مراحل کی طرف توجہ دلائی گئی ہے مطالب یہ ہے کہ خدا انسان کو وجود میں لانے کے لئے ان تمام مراحل اور اس سارے اہتمام کا محتاج نہیں تھا کہ پانی کی ایک بوند کسی مادہ کے رحم میں قرار پکڑے، پھر وہ خون اور جنین کی صورت اختیار کرے اور قدرت اپنے ڈیزائن کے مطابق اس کی نقاشی و مصوری کر کے اس کو حسین پیکر بنائے۔ اس تمام اہتمام وا نتظام کے بغیر اگر خدا چاہتا تو بنے بنائے آدمی کسی دریا یا پہاڑ سے جھنڈ کے جھنڈ اور ریوڑ کے ریوڑ برآمد ہوجایا کرتے لیکن خدا نے یہ چاہا کہ انسان کی خود اپنی خلقت اس کے لئے خالق کی قدرت، حکمت اور ربوبیت کی ایک درس گاہ بن جائے۔ جس میں وہ اپنے اور اس کائنات کے احسن الخالقین کی معرفت حاصل کرے۔ اس کا خود اپنا وجود اس پر شہادت دے کہ جس نے اس اہتمام و عنایت کے ساتھ اس کو پیدا کیا ہے اس نے اس کو محض ایک کھلونا نہیں بنایا ہے بلکہ اس کی خلقت کے پیچھے ایک عظیم غایت ہے، جو لازماً ظہور میں آ کے رہے گی۔ اس کے اپنے ہر بن مو سے اس کو یہ گواہی ملے کہ خالق نے اس کو مٹی کے خلاصہ اور پانی کی ایک بوند سے پیدا کیا اور اس کو اس میں کوئی زحمت پیش نہیں آئی تو دوبارہ اٹھا کھڑا کرنا بھی اس کے لئے نہایت آسان ہے۔ بعینیہ یہی مضمون سورة مومنوں میں اس طرح بیان ہوا ہے۔
آیت (المومنون 16-12-:23)
اور ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کیا، پھر ہم نے پانی کی ایک بوند کی شکل میں اس کو ایک قرار کی جگہ میں رکھا، پھر ہم نے پانی کی بوند کو جنین کی شکل دی پھر جنین کو ایک لوتھڑا بنایا، پس لوتھڑے کے اندر ہڈیں ا پیدا کیں، پھر ہڈیوں کو گوشت کا جار پہنایا، پھر اس کو ایک بالکل ہی مختلف مخلوق کی شکل میں مشکل کرو ! پس بڑا ہی بابرکت ہے اللہ بہترین پیدا کرنے والا۔ پھر اس کے بعد تم لازماً مرو گے، پھر تم قیامت کے دن اٹھائے جائو گے۔
سورة مومنوں کی اس آیت میں وہ خلاصہ بھی سامنے رکھ دیا ہے جس پر انسان کی خلقت کے یہ تمام مراحل شہادت دے رہے ہیں لیکن ہمارے دور حاضر کے فلسفیوں اور سائنسدانوں کا یہ عجیب اندھا پن ہے کہ انہیں انسان کی خلقت کے یہ تمام مراحل و مدارج تو نظر آتے ہیں لیکن اس اصل حقیقت تک ان کی نظر نہیں پہنچتی جس کو واضح ہی کے لئے خدا نے یہ سارا اہتمام فرمایا۔
ونقر فی الارحام ما نشآء الی اجل مسمی ثم نخر جکم طفلاً ابھی اصل سلسلہ کلام پورا نہیں ہوا تھا کہ بیچ میں لنبین لکم کا ٹکڑا اچانک مخاطبوں کو جھنجھوڑنے کے لئے آگیا تھا کہ بلاوت کے سب سے وہ سو نہ ہو رہے ہوں۔ ان کو جھنجھوڑنے کے بعد پھر اصل سلسلہ کلام کو لے لیا۔ فرمایا کہ اس کے بعد ایک مدت کی تک اس کو رحم میں ہم ٹھہراتے ہیں کہ وہ ایک پورے بچے کی شکل اختیار کرے۔ مانشآء یعنی یہ کلیتہ ہاری سیت پر منحصر ہے کہ وہ لڑکا ہو یا لڑکی خوبصورت ہو یا بدصورت ناقص ہو یا کامل، کسی دوسرے کے اختیار میں یہ نہیں ہے کہ وہ لڑکی کو لڑکا بنا دے یا بدصورت کو خوب صورت انی اجل مسمی یعنی اسی طرح وضع حمل کے لئے ہم نے ایک مدت ٹھہرا دی ہے اور یہ چیز بھی کلیتہ ہمارے ہی اختیار میں ہے، کسی کے بس میں نہیں ہے کہ ہماری مقرر کی ہوئی مدت میں کوئی تغیر و تبدل کر دے۔
ثم لتبلغوا اشدکم یہاں ل اس بات کا قرینہ ہے کہ اس سے پہلے فعل مخدوف ہے۔ اس کی متعدد مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں اور سورة مومن آیت 67 بھی اس کی نہایت واضح مثال آئے گی۔ یعنی بچہ کی شکل میں تمہیں وجود بخشنے کے بعد ہم تمہیں ایک وقت دیتے ہیں کہ تم اپنی جوانی اور پختگی کو پہنچو اور یہ قانون بھی ہمارا ہی بنایا ہوا ہے، کسی کی مجال نہیں کہ وہ بچپن اور مراہقہ کے مراحل کو لانگ کر جوانی کے حدود میں قدم رکھ دے۔
ومنکم من یتونی ومنکم من یردا الی ارذل العمر یہاں تقابل کے اصول پر، بر بنائے وضاحت قرینہ، پہلے ٹکڑے میں فی صیاہ اوفی شبابہ یا اس کے ہم معنی الفاظ حذف ہیں اور دور سے ٹکڑے میں ارذل العمر، کے الفاظ اس حذف کو واضح کر رہے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ تم میں سے کتنے تو اپنے بچپن یا جوانی ہی میں مر جاتے ہیں اور کتنے ایسے ہوتے ہیں جو بڑھاپے کی آخری منزل تک پہنچتے ہیں اور یہ امر بھی کلیتہ خدا ہی کے اختیار میں ہے۔ کوئی شخص اپنی مدت حیات میں نہ کمی کرسکتا ہے نہ بیشی۔
ل غایت و نہایت کے مفہوم ہیں
لکیلا یعلم من بعد علم شیاً ل غایت و نہایت کے مفہوم میں ہے۔ اس کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ اس کا ترجمہ یہاں تک یا آنکہ ہمارے نزدیک صحیح ہے۔ علم کی تنکیر تحقیر کے لئے بھی ہو سکتی ہے اور تفخیم کے لئے بھی۔ پہلی صورت میں اس کا مفہمو یہ ہوگا کہ وہ ایسی ارذل عمر کو پہنچ جاتا ہے کہ تھوڑا بہت علم ہو اس کو حاصل ہوا ہوتا ہے وہ بھی غائب ہوجاتا ہے۔ دوسری صورت میں مفہوم یہو گا کہ وہ بہت کچھ جاننے کے بعد پھر کچھ بھی نہیں جانتا، ہر چیز اس کے حافظہ سے محو ہوجاتی ہے۔ ہم پہلے مفہم کو ترجیح دیتے ہیں اس لئے کہ قرآن کے نظائر سے اسی کی تائید ہوتی ہے۔ فرمایا ہے ان اوتیتم من العلم الا قلیلاً (تمہیں تو بس تھوڑا ہی علم عطا ہا ہے) اصل حقیقت یہی ہے کہ انسان چاہے سقراط و بقراط ہی کیوں نہ بن جائے لیکن علم کے بحر بیکراں کا ایک قطرہ ہی ہے جس کا وہ حامل بنتا ہے۔ اس سے زیادہ کے لئے وہ اپنے اندر ظرف ہی نہیں رکھتا اور اس علم کا بھی حال یہ ہے کہ عمر کے ایک خاص حصہ میں وہ سب سلب ہوجاتا ہے جس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اپنے علم پر بھی کسی کو غرہ نہیں ہونا چاہئے۔ یہ بھی خدا ہی کی دین ہے، وہی بخشات ہے اور وہ جب چاہے اس کو چھین سکتا ہے۔
ایک نظر عالم خارج پر
وتری الارض ھامدۃ فاذآ انزلنا علیھا المآء اھتزت و ربت واتبتت من کل زوج بھیج انسان کی خلقت کے اندر قیامت کے جو دلائل ہیں ان کی طرف توجہ دلانے کے بعد اس کو باہر کی دنیا کی طرف توجہ دلائی کہ تم دیکھتے ہو کہ زمین بالکل خشک اور بےآب و گا یہ ہوتی ہے۔ پھر جب اس پر بارش ہوتی ہے تو وہ زم و گداز ہوجاتی اور نوع بنوع خوشنما نباتات سے لہلہا اٹھتی ہے۔ مطلب ہے کہ جب اس زمین کو بار بار مرتے اور جیتے دیکھتے ہو تو آخر اسی زمین سے اپنے ہی دوبارہ جی اٹھنے کو کیوں بعید از امکان سمجھتے ہو ! ہر فصل و موسم میں یہ ریہرسل تو تمہارے سامنے اسی غرض سے ہو رہا ہے کہ قیامت کا مشاہدہ اس کے ہونے سے پہلے ہی تمہیں ہوتا رہے۔ لنبین لکم کے الفاظ یہاں مقدر ہیں۔ چونکہ یہ نشانی بالکل واضح تھی اس وجہ سے یہاں اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں تھی۔