Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 22. Al-Hajj · Ayah 64

  1. لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠ع﴿64﴾

    1. لَهٗاسی کے لیے
    2. مَاجو کچھ
    3. فِي السَّمٰوٰتِآسمانوں میں
    4. وَمَااور جو کچھ
    5. فِي الْاَرْضِزمین میں
    6. وَاِنَّاور بیشک
    7. اللّٰهَاللہ
    8. لَهُوَالبتہ وہی
    9. الْغَنِيُّبےنیاز
    10. الْحَمِيْدُتمام خوبیوں والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اسی کے اختیار میں ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ ہی ہے جو بےنیاز اور سزا وار حمد ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
خدا بےہمہ بھی ہے اور باہمہ بھی یہ اوپر کے مضمون ہی کی مزید تاکید ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب خدا ہی کا اور اسی کے تصرف میں ہے تو اس کے ارادے میں کون مزاحم ہوسکتا ہے ؟ وہ سب سے بےنیاز اور اپنی ذات میں مستغنی ہے۔ ’ حمید ‘ کی صفت یہاں بطور بدرقہ ہے یعنی وہ غنی ہونے کے ساتھ حمید بھی ہے۔ حمید کے معنی ہیں ستو وہ صفات اور تمام سزاوار حمد کا موں کا منبع۔ اس بدرقہ کی ضرورت اس لئے تھی کہ خدا کے بےنیاز ہونے کے سبب سے بندوں کے اندر مایوسی نہ پیدا ہو بلکہ وہ امید رکھیں کہ اس کے بےنیاز ہونے کے باوجود خلق کے لئے اس کا فیض ہر وقت جاری ہے۔ وہ بےہمہ ہونے کے ساتھ ساتھ باہمہ بھی ہے۔