Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 22. Al-Hajj · Ayah 65

  1. اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ وَ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ یُمْسِكُ السَّمَآءَ اَنْ تَقَعَ عَلَى الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ﴿65﴾

    1. اَلَمْ تَرَکیا تونے نہیں دیکھا
    2. اَنَّ اللّٰهَکہ اللہ
    3. سَخَّرَمسخر کیا
    4. لَكُمْتمہارے لیے
    5. مَّاجو
    6. فِي الْاَرْضِزمین میں
    7. وَالْفُلْكَاور کشتی
    8. تَجْرِيْچلتی ہے
    9. فِي الْبَحْرِدریا میں
    10. بِاَمْرِهٖاس کے حکم سے
    11. وَيُمْسِكُاور وہ روکے ہوئے ہے
    12. السَّمَآءَآسمان
    13. اَنْ تَقَعَکہ وہ گرپڑے
    14. عَلَي الْاَرْضِزمین پر
    15. اِلَّامگر
    16. بِاِذْنِهٖاس کے حکم سے
    17. اِنَّ اللّٰهَبیشک اللہ
    18. بِالنَّاسِلوگوں پر
    19. لَرَءُوْفٌبڑا شفقت کرنیوالا
    20. رَّحِيْمٌنہایت مہربان
Translation · Tadabbur-e-Quran
دیکھتے نہیں کہ اللہ نے تمہاری نفع رسانی میں لگا رکھا ہے زمین کی چیزوں کو اور کشتی کو بھی، وہ چلتی ہے سمندر میں اس کے حکم سے اور وہ آسمان کو تھامے ہوئے ہے کہ مبادا وہ زمین پر گر پڑے، مگر یہ کہ اس کے حکم سے۔ بیشک اللہ لوگوں کے ساتھ بڑا ہی مہربان اور بڑا ہی رحیم ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
متمر دین کے لئے دھمکی یعنی اس دنیا میں انسان کو جو مہلت ملی ہوئی ہے یہ خدا کے فضل و کرم اور اس کی عنایت و مہربانی سے ملی ہوئی ہے۔ آسمان و زمین کی ہر چیز جو انسان کی خدمت گزاری میں لگی ہوئی ہے اور جس کے بغیر اس دنیا میں انسان کا بقاء ایک لمحہ کے لئے بھی ممکن نہیں ہے، یہ خدا ہی کے حکم سے لگی ہوئی ہے۔ اگر خدا کا حکم نہ ہو تو اس کائنات کی ہر چیز انسان کی باغی اور اس کی دشمن بن جائے۔ کشتی ہی کو دیکھ لو یہ خدا ہی کا حکم اور اسی کے قانون کی تسخیر ہے کہ وہ تمہارے لئے سمندر کے سینہ کو چیرتی ہوئی چلتی ہے ورنہ چشم زدن میں سارا بیڑا غرق ہوجائے۔ یہ خدا ہی ہے جو آسمان کو تھامے ہوئے ہے کہ مبادا وہ تمہارے سروں پر گر پڑے۔ ان سے پہلے مضاف کے محذوف ہونے کے قاعدے کی طرف ہم اس کے محل میں اشارہ کرچکے ہیں۔ ان اللہ بالناس لروف رحیم یعنی یہ ساری چیزیں اس بات کی شاد ہیں کہ اس دنیا میں ان انسان کو جو کچھ حاصل ہے یہ اس کے اپنے بل بوتے اور اس کے اپنے علم و سائنس پر مبنی نہیں ہے بلکہ خدا کی رافت و عنایت پر بمین ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اس نظام کائنات کی ایک اینٹ بھی ذرا سا اس کی جگہ سے کھسکا دے تو ساری عمارت دھڑام سے زمین پر آ رہے۔ ان فقروں کے تیور نگاہ میں رہیں۔ ان میں قریش کے متمر دین کے لئے جو دھمکی ہے وہ لفظ لفظ سے نمایاں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہمارے عذاب کے لئے جلدی نہ مچائو۔ اگر عذاب میں تاخیر ہو رہی ہے تو اس وج ہ سے نہیں کہ یہ ہمارے لئے کوئی مشکل کام ہے بلکہ یہ صرف ہماری رافت و رحمت کے سبب سے ہے کہ تم اس مہلت سے فائدہ اٹھا کر اپنے رویہ کی اصلاح کرلو۔