Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 22. Al-Hajj · Ayah 66

  1. وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَحْیَاكُمْ١٘ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ﴿66﴾

    1. وَهُوَاور وہی
    2. الَّذِيْٓجس نے
    3. اَحْيَاكُمْزندہ کیا تمہیں
    4. ثُمَّپھر
    5. يُمِيْتُكُمْمارے گا تمہیں
    6. ثُمَّپھر
    7. يُحْيِيْكُمْزندہ کرے گا تمہیں
    8. اِنَّ الْاِنْسَانَبیشک انسان
    9. لَكَفُوْرٌبڑا ناشکرا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور وہی ہے جس نے تمہیں زندگی بخشی، پھر وہ تم کو موت دیتا ہے، پھر وہ تم کو زندہ کرے گا۔ بیشک انسان بڑا ہی ناشکرا ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
سرکشی کی اصل عظمت یہ آخرت کی یاد دہانی فرما دی کہ اگر اس دنیا میں عذاب نہ آئے تو یہ کون سی اطمینان کی بات ہے ؟ آگے آخرت جو موجود ہے ! بالآخر لوٹنا تو سب کو اللہ ہی کی طرف ہے۔ خدا ہی نے زندگی بخشی ہے اور وہی موت دیتا ہے۔ پھر وہی زندہ اٹھا کھڑا کرے گا۔ جب اس کو پہلی مرتبہ پیدا کرنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی تو آخر دوبارہ اٹھا کھڑا کرنے میں اس کو کیں دشواری پیش آئے گی ! ان الانسان لکفورٌ یہ اس ساری سرکشی کی اصل علت بیان ہوئی ہے کہ جہاں تک قرآن اور پیغمبر ﷺ کی باتوں کا تعلق ہے وہ تو بالکل واضح ہیں، ان میں کسی بحث و نزاع کی گنجائش نہیں ہے لیکن یہ لوگ نہایت ناشکرے اور ناقدرے ہیں۔ لفظ انسان سے اشارہ نو یہاں انہی مخالفین کی طرف ہے لیکن اظہار نفرت کے طور پر بات ان کو خطاب کر کے کہنے کے بجائے عام لفظ سے فرما دی گئی ہے۔ اس اسلوب میں اظہار حسرت کا مضمون بھی پایا جاتا ہے جس کی طرف ہم اس کے محل میں اشارہ کرچکے ہیں۔