تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 23. Al-Muminoon · Ayah 116
فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِیْمِ﴿116﴾
- فَتَعٰلَىپس بلند تر
- اللّٰهُاللہ
- الْمَلِكُبادشاہ
- الْحَقُّحقیقی
- لَآنہیں
- اِلٰهَکوئی معبود
- اِلَّا هُوَاس کے سوا
- رَبُّمالک
- الْعَرْشِ الْكَرِيْمِعزت والا عرش
Translation · Tadabbur-e-Quran
تو بڑی ہی برتر ذات ہے اللہ، بادشاہ حقیقی کی، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، عرش کریم کا مالک
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 116
یہ اپنی صفات کی یاد دہانی فرمائی ہے جس سے مقصود اسی مغالطہ کی تردید ہے جس میں جزا و سزا کے یہ منکرین مبتلا تھے۔ فرمایا کہ خدا کی ذات بہت ہی بلندو برتر ہے۔ اس بلندو برتر ہستی کی شان سے یہ بات نہایت بعید ہے کہ وہ کوئی کار عبث کرے اور محض کھیل تماشا کے طور پر ایک پورا جہان پیدا کر ڈالے۔ وہ الملک الحق یعنی اس کائنات کا بادشاہ حقیقی ہے تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ اپنی رعیت کے درمیان عدل و انصاف نہ کرے اور ظالم و مظلوم دونوں کو یکساں کر دے۔ لا الہ الا ھو یعنی اس کے سوا کوئی اور الہ نہیں ہے تو کوئی اس مغالطہ میں نہ رہے کہ اس کی پکڑ سے وہ کسی دوسرے کی سعی و سفارش سے اپنے کو بچا لے جائے گا۔ رب العرش الکریم عرش خدا کی حکومت کی تعبیر ہے اور لفظ کریم قرآن میں باعزت اور بافیض کے معنی میں آیا۔ مطلب یہ ہے کہ خدا ایک باعزت اور بافیض عرش کا خداوند ہے تو اس کی حکومت ایک اندھیر نگری کس طرح ہو سکتی ہے !