تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 23. Al-Muminoon · Ayah 95
وَ اِنَّا عَلٰۤى اَنْ نُّرِیَكَ مَا نَعِدُهُمْ لَقٰدِرُوْنَ﴿95﴾
- وَاِنَّااور بیشک ہم
- عَلٰٓيپر
- اَنْ نُّرِيَكَکہ ہم تمہیں دکھا دیں
- مَا نَعِدُهُمْجو ہم وعدہ کر رہے ہیں ان سے
- لَقٰدِرُوْنَالبتہ قادر ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور بیشک ہم اس بات پر قادر ہیں کہ جس عذاب سے ہم ان کو ڈرا رہے ہیں وہ تم کو دکھا دیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وانا علی ان نریک مانعہ ھم تقدرون 95
نارسازگارز کے علی الرخم اللہ یہ اسی بشارت کو، جو اوپر والی آیت میں مضمر ہے۔ مئوکد فرمایا ہے۔ اس لئے کہ اس دور میں ابھی حالات بہت نامساعد تھے۔ پیغمبر ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ معاندین کی چیرہ دستیوں سیتنگ آ کر مکہ سے ہجرت پر مجبور ہوگئے تھے۔ یہ یاور کرنا کچھ آسان نہیں تھا کہ اسی تاریکی کے اندر سے عنقریب روشنی پیدا ہونے والی ہے۔ اس تردد کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم اس بات پر پوری طرح قادر ہیں کہ تمہاری زندگی ہی میں تمہاری دشمنوں کو پامال کردیں۔ حالات ہمارے ارادے میں مزاحم نہیں ہو سکتے ؟
نبی ﷺ کو اس دعا کی تلقین صرف اس عذاب کی شدت کو نہیں ظاہر کر رہی ہے۔ جیسا کہ عام لوگوں پر لوگوں نے سمجھا ہے، بلکہ اس میں ہجرت کی طرف اشارہ بھی ہے کہ اے رب اگر یہ عذاب میری زندگی ہی میں آنے والا ہے تو اس کے آنے سے پہلے پہلے میری اور میرے باایمان ساتھیوں کی نجات کی راہ کھولنا۔ گویا دعا کے اسلوب میں آپ کو یہ بشارت بھی دے دی گی کہ اس عذاب سے محفوظ رکھنے کا سامان آپ کے لئے اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی سے کرلیا ہے۔