تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 26. Ash-Shu'araa · Ayah 155
قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّ لَكُمْ شِرْبُ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍۚ﴿155﴾
- قَالَاس نے فرمایا
- هٰذِهٖیہ
- نَاقَةٌاونٹنی
- لَّهَااس کے لیے
- شِرْبٌپانی پینے کی باری
- وَّلَكُمْاور تمہارے لیے
- شِرْبُبایک باری پانی پینے کی
- يَوْمٍ مَّعْلُوْمٍمعین دن
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس نے کہا، یہ ایک اونٹنی ہے۔ ایک دن پانی پینے کی باری اس کی ہے اور ایک معین دن کی باری تمہارے لئے ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 156-155
قوم کے لئے عذاب کی نشانی کا تعین
حضرت صالح ؑ نے قوم کے اس فیصلہ کن جواب کے بعد ایک اونٹنی کو، جو ہوسکتا ہے کہ انہی کی رہی ہو نامزد کردیا کہ یہ عذاب کی نشانی ہے۔ یہ عذاب کے مقابل میں ایک بند کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر تم نے اس بند کو توڑا تو تم پر عذاب الٰہی آدھمکے گا۔ خبردار اس کو کوئی گزند نہ پہنچائیو ! ساتھ ہی بطور امتحان یہ ہدایت بھی دے دی کہ مویشیوں کے پانی پلانے کے گھاٹ پر ایک دن پانی پینے کی باری اس کی ہوگی اور ایک دن تمہارے مویشیوں کے لئے خاص ہوگا۔ جو دن اونٹنی کی باری کا ہو اس میں کوئی اس سے مزاحم نہ ہو۔ معلوم ہوتا ہے جانوروں کے پانی پلانے کا گھاٹ ایک ہی تھا۔ حضرت صالح نے اس پابندی سے اس معاملے کو ایک سخت آزمائش بنا دیا تاکہ قوم کی جسارت پوری طرح بےنقاب ہوجائے۔ مقصود یہ دیکھنا تھا کہ اگر اس تنبیہ کے بعد بھی لوگوں نے اونٹنی کو گزند پہنچانے کی جسارت کی تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کے بعد وہ خود ان پر بھی ہاتھ اٹھانے سے باز نہیں رہیں گے اور جب قوم رسول کے معاملے میں طفیان کی اس حد تک بڑھ جاتی ہے تو سنت الٰہی کے بموجب وہ عذاب کی گرفت میں آجاتی ہے۔