Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 27. An-Naml · Ayah 4

  1. اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ زَیَّنَّا لَهُمْ اَعْمَالَهُمْ فَهُمْ یَعْمَهُوْنَؕ﴿4﴾

    1. اِنَّبیشک
    2. الَّذِيْنَجو لوگ
    3. لَا يُؤْمِنُوْنَایمان نہیں لاتے
    4. بِالْاٰخِرَةِآخرت پر
    5. زَيَّنَّا لَهُمْآراستہ کر دکھائے ہم نے ان کے لیے
    6. اَعْمَالَهُمْان کے عمل
    7. فَهُمْپس وہ
    8. يَعْمَهُوْنَبھٹکتے پھرتے ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے ان کے اعمال ان کی نگاہوں میں کھبا دیئے ہیں، پس وہ بھٹکتے پھر رہے ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
منکرین قرآن کا سبب انکار یہ منکرین کے اصل سبب انکار کی طرف اشارہ ہے کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہیں بلکہ اسی دنیا کی زندگی کو کل زندگی سمجھے ہوئے بیٹھے ہیں۔ ان کی نگاہوں میں ان کے اعمال اس طرح کھبا دیئے گئے ہیں کہ اب ان سے ہٹ کر کچھ سوچنے سمجھنے کے لئے وہ تیار نہیں ہیں۔ یہ اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جس کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہوچکی ہے کہ جو لوگ اسی دنیا کو مقصود و مطلوب بنا کر اپنی تمام ذہانت و قابلیت اسی کی طلب میں لگا دیتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے اعمال و مشاغل کو اس طرح ان پر مسلط کردیتا ہے کہ پھر نہ وہ ان کے چھوڑنے ہی پر آمادہ ہوتے اور نہ ان سے چھوٹ ہی سکتے۔ وہ انہی کے اندر بھٹکتے رہتے ہیں یہاں تک کہ ایک دن فرشتہ اجل آ کر ان کو دبوچ لیتا ہے۔