Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 27. An-Naml · Ayah 5

  1. اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْعَذَابِ وَ هُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ﴿5﴾

    1. اُولٰٓئِكَیہی لوگ
    2. الَّذِيْنَوہ لوگ جو
    3. لَهُمْان کے لیے
    4. سُوْٓءُبرا
    5. الْعَذَابِعذاب
    6. وَهُمْاور وہ
    7. فِي الْاٰخِرَةِآخرت میں
    8. هُمُوہ
    9. الْاَخْسَرُوْنَسب سے بڑھ کر خسارہ اٹھانے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
یہ لوگ ہیں کہ ان کے لئے دنیا میں بھی برا عذاب ہے اور آخرت میں وہی ہیں جو بڑے خسارے میں ہوں گے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
مکذبین رسول پر اس دنیا میں بھی عذاب آیا اس آیت میں عذاب آخرت کا چونکہ مستقلاً ذکر ہے اس وجہ سے قرینہ دلیل ہے کہ سوء العذاب کا تعلق عذاب دینا سے ہے۔ یہاں ذکر مکذبین رسول کا ہے اور مکذبین رسول پر اس دنیا میں بیغ جیسا کہ ہم اس کے محل میں ذکر کرچکے ہیں لازماً عذاب آتا ہے اس وجہ سے فرمایا کہ ان کے لئے دنیا میں ب ھی برا عذاب ہے اور آخرت میں بھی وھم فی الاخرۃ ھم الاخسرون میں اسی طرح حصر اور تاکید کا اسلوب ہے جس طرح اوپر وھم بالاخرۃ ھم یوقنوکن میں گزر چکا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے ساری زندگی چونکہ دنیا ہی کو مطلوب و مقصود بنا کر گزاری، آخرت کا ان کو کبھی دھیان ہی نہیں آیا، یہاں تک کہ اسی دنیا کے عشق میں انہوں نے قرآن کا بھی مذاق اڑایا تو آخرت میں سب سے زیادہ خسارے میں تو یہ لوگ ہوں گے ہی !