Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 27. An-Naml · Ayah 88

  1. وَ تَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّ هِیَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ١ؕ صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اَتْقَنَ كُلَّ شَیْءٍ١ؕ اِنَّهٗ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَفْعَلُوْنَ﴿88﴾

    1. وَتَرَىاور تو دیکھتا ہے
    2. الْجِبَالَپہاڑ (جمع)
    3. تَحْسَبُهَاتو خیال کرتا ہے انہیں
    4. جَامِدَةًجما ہوا
    5. وَّهِىَاور وہ
    6. تَمُرُّچلیں گے
    7. مَرَّ السَّحَابِبادلوں کی طرح چلنا
    8. صُنْعَ اللّٰهِاللہ کی کاری گری
    9. الَّذِيْٓوہ جس نے
    10. اَتْقَنَخوبی سے بنایا
    11. كُلَّ شَيْءٍہر شے
    12. اِنَّهٗبیشک وہ
    13. خَبِيْرٌباخبر
    14. بِمَااس سے جو
    15. تَفْعَلُوْنَتم کرتے ہو
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور تم پہاڑوں کو دیکھ کر گمان کرو گے کہ وہ ٹکے ہوئے ہیں حالانکہ وہ بادلوں کی طرح اڑا رہے ہوں گے۔ یہ اس خدا کی کاریگری ہوگی جس نے ہر چیز کو محکم کیا۔ بیشک وہ ہر اس چیز سے باخبر ہے جو تم کرے رہو
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یہ اس دن کے ہول کی مزید تفصیل ہے کہ دوسری چیزوں کا تو کیا ذکر اس دن پہاڑوں کا بھی یہ حال ہوگا کہ بظاہر وہ ٹکے ہوئے نظر آئیں گے حالانکہ وہ بادلوں کی طرح اڑتے ہوئے ہوں گے۔ یہاں یہ بات یاد رہے کہ شعراء عرب میں جو حکیم تھے ان تک کا حال یہ تھا کہ وہ دوسری تمام چیزوں کو تو فانی مانتے تھے لیکن پہاڑوں کو غیر قانونی سمجھتے تھے۔ صنع اللہ الذی اتفن کل شی یہ اسی طرح کی ترکیب ہے جس طرح وعد اللہ یسبغۃ اللہ وغیرہ ترکیبیں قرآن میں ہیں۔ یہ اسلوب اس وقت اختیار کیا جاتا ہے جب کسی شے کی طرف خاص طور سے توجہ دلانا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ یہ اس خدا کی کاریگری ہوگی جس نے ہر چیز کو محکم کا ہے۔ جب اسی نیہر چیز کو محکم کیا ہے تو وہ یہ بھی کر دکھائے گا کہ پہاڑ جمے ہوئے بھی نظر آئیں گے اور وہ ہوا میں اڑتے ہوئے بھی ہوں گے۔ انہ خبیر بما نفعلون یہ اس اصل چیز کا بیا نا ہے جس سے آگاہ کرنے کے لئے قیامت کے اس ہول کی تفصیل سنائی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس دن اس کائنات میں ہلچل کا حال یہ ہوگا اور اللہ تمہاری اس ساری کرتوت سے اچھی طرح باخبر ہے جو تم کر رہے ہو ! اور جب واقف ہے تو لازماً وہ اس کی جزا و سزا بھی دے گا۔