تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 29. Al-Ankaboot · Ayah 6
وَ مَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا یُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ﴿6﴾
- وَمَنْاور جو
- جَاهَدَکوشش کرتا ہے
- فَاِنَّمَاتو صرف
- يُجَاهِدُکوشش کرتا ہے
- لِنَفْسِهٖاپنی ذات کے لیے
- اِنَّبیشک
- اللّٰهَاللہ
- لَغَنِيٌّالبتہ بےنیاز
- عَنِسے
- الْعٰلَمِيْنَجہان والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جو ہماری راہ میں جدوجہد کر رہا ہے تو وہ اپنے ہی فائدے کے لئے جدوجہد کر رہا ہے۔ اللہ عالم والوں سے بےنیاز ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ومن جاھدنا نما یجاھد لنفسہ ط ان اللہ لغنی عن العلمین (6)
یہ متنبہ فرمایا ہے کہ جو شخص ایمان لاتا اور اس راہ میإ مشقتیں اٹھاتا ہے وہ یاد رکھے کہ وہ اپنا ہی مستبقل سنوارتا اور اپنا ہی گھر بھرتا ہے، وہ خدا اور اس کے دین پر کوئی احسان نہیں کرتا۔ اس وجہ سے اسے اس بات سے دل گرفتہ نہیں ہونا چاہیے کہ اسے کوئی مصیبت پیش آئی۔ اگر اسے کوئی مصیبٹ پیش آئی تو خدا کسی کا محتاج نہیں ہے۔ وہ تمام عالم سے مستننی ہے۔ البتہ لوگ اس کے محتاج ہیں اس وجہ سے خدا کی راہ میں بڑی سے بڑی قربانی بھی جو کوئی دیتا ہے وہ درحقیقت اپنے ہی نفع کے لئے دیتا ہے، اس سے خدا کو کوئی نفع نہیں پہنچتا۔ یہاں یہ حقیقت اچھی طرح ملحوظ رہے کہ دنیا کی طرح دین بھی خدا کے کام آنے والی کوئی چیز نہیں ہے بلکہ بندوں ہی کے کام آنے والی چیز ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ راستہ انسان ہی کی سعادت کے لیے مقرر فرمایا ہے۔ جس طرح ایک کسان اپنے کھیت میں مشقت کرتا ہے تو وہ اپنے ہی لیے کرتا ہے، کسی دوسرے کے لئے نہیں کرتا اسی طرح انسان دین کی راہ میں چل کر اپنی ہی منزلیں طے کرتا ہے۔ خدا کی منزل نہیں طے کرتا۔