تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 29. Al-Ankaboot · Ayah 7
وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَحْسَنَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴿7﴾
- وَالَّذِيْنَاور جو لوگ
- اٰمَنُوْاایمان لائے
- وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِاور انہوں نے اچھے عمل کیے
- لَنُكَفِّرَنَّالبتہ ہم ضرور دور کردیں گے
- عَنْهُمْان سے
- سَيِّاٰتِهِمْان کی برائیاں
- وَلَنَجْزِيَنَّهُمْاور ہم ضرور جزا دیں گے انہیں
- اَحْسَنَزیادہ بہتر
- الَّذِيْوہ جو
- كَانُوْا يَعْمَلُوْنَوہ کرتے تھے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے تو ہم ان کی برائیاں ان پر سے جھاڑ دیں گے اور ان کو ان کے عمل کا بہترین بدلہ دیں گے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
والذین امنوا وعملوا الصلحت لتکفرن عنھم سیاتھم ولنجزینھم احسن الذی کانو ایعملون (7)
قرینہ دلیل ہے کہ لفظ سیات یہاں صنائر یعنی چھوٹے گناہوں کے مفہوم میں ہے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہر صاحب ایمان و عمل کے ساتھ یہ معاملہ کرنے والا ہے کہ اس کی لغزشوں اور کوتاہیوں سے وہ درگزر فرمائے گا اور اس نے جو نیک اعمال کیے ہوں گے ان کا وہ ان سے کہیں بڑھ کر صلہ دے گا۔ مطلب یہ ہے کہ جب بندوں کے ساتھ خدا کا معاملہ یہ ہے کہ ہر ایک اپنے ہر چھوٹے بڑے عمل کا صلہ پانے والا ہے تو پھر اس کے دل میں یہ وسوسہ کیوں پیدا ہو کر اس نے خدا کی راہ میں کوئی تکلیف جھیلی تو یہ اس نے اللہ اور اس کے دین پر کوئی احسان کیا۔