تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 30. Ar-Room · Ayah 24
وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَیُحْیٖ بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ﴿24﴾
- وَمِنْ اٰيٰتِهٖاور اس کی نشانیوں سے
- يُرِيْكُمُوہ دکھاتا ہے تمہیں
- الْبَرْقَبجلی
- خَوْفًاخوف
- وَّطَمَعًااور امید کے لیے
- وَّيُنَزِّلُاور وہ نازل کرتا ہے
- مِنَ السَّمَآءِآسمان سے
- مَآءًپانی
- فَيُحْيٖ بِهِپھر زندہ کرتا ہے اس سے
- الْاَرْضَزمین
- بَعْدَ مَوْتِهَا ۭاس کے مرنے کے بعد
- اِنَّبیشک
- فِيْ ذٰلِكَاس میں
- لَاٰيٰتٍالبتہ نشانیاں
- لِّقَوْمٍان لوگوں کے لیے
- يَّعْقِلُوْنَعقل سے کام لیتے ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور وہ اپنی نشانیوں میں سے تم کو دکھاتا ہے بجلی کو جو خوف بی پیدا کرتی ہے اور امید بھی اور اتارتا ہے آسمان سے بارش پس زندہ کردیتا ہے اس سے زمین کو اس کے مردہ ہوجانے کے بعد۔ بیشک اس کے اندر گوناگوں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو عقل سے کام لیتے ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ومن ایتہ یریکم البرق خوفا وطمعا و ینزل من السماء ماء فیحی بہ الارض بعد موتھا ان فی ذلک لایت لقوم یعقلون (24)
اور اس کی نشانیوں میں سے بجلی بھی ہے جو اپنے اندر امید دیم اور طمع و خوف دونوں کے پہلو رکھتی ہے۔ یہ ابر رحمت کی بشارت اور اس کا مقدمۃ الجیس بن کر بھی نمودار ہوتی ہے اور کسی قوم کے لئے عذاب کا تازیانہ بن کر بھی۔ پہلی صورت تو عامۃ الورود ہے جس کا تجربہ ہم ہمیشہ کرتے ہیں۔ دوسری صورت کی مثالیں بھی قوموں کی تاریخ میں موجود ہیں۔ قرآن نے عاد وثمود کی تباہی کے سلسلے میں صاعقہ، کا ذکر کیا ہے اور ہم اس کے محل میں اس کی وضاحت کرچکے ہیں۔ فرمایا کہ اس میں بھی ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیں۔ اس میں پہلی نشانی تو اس بات کی ہے کہ نعمت و نقمت دونوں خدا ہی کے ہاتھ میں ہے اس وجہ سے امید ویم اور خوف و طمع دونوں حالتوں میں بندے کو اللہ ہی کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ مشرکین کا ٰیہ خیال بالکل غلط ہے کہ وہ کسی کو رحمت لانے والا اور کسی کو عذاب نازل کرنے والا بنائے ہوئے بیٹھے ہیں۔ دوسری نشانی اس میں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کائنات کا معامات سے بالکل بےتعلق ہو کر کسی گوشے میں نہیں بیٹھا ہوا ہے بلکہ وہ براہ راست تمام امور کی تدبیر فرماتا ہے اور اپنے قانونِ حق و عدل کے مطابق قوموں کو جزا اور سزا دیتا ہے۔ تیسری نشانی اس کے اندر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اگر کسی قوم پر عذاب نازل کرنا چاہیے تو اس کے لئے اسے علیحدہ کوئی ایٹم بم نہیں بنانا پڑتا بلکہ وہ اپنی جس نعمت کو جب چاہیے نعمت کی صورت میں تبدیل کردیتا ہے۔
’ وینزل من السماء ماء فیحی بہ الارض بعد ومو تھا ‘ کے استدلالی پہلو کی طرف آیت 19 کے تحت ہم اشارہ کرچکے ہیں۔
ومن ایتہ ان تقوم السماء والارض بامرہ ط ثم اذا دعا کم دعوۃ ق من الارض ق اذا انتم تخرجون ولہ من فی السموات والارض کل لہ قنتون (25۔ 24)
یعنی کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ آسمان و زمین کا یہ ٹھوس نظام کس طرح متزلزل ہوسکتا ہے کہ قیامت آجائے گی۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اہل عرب پہاڑوں کی نسبت جو سوال اٹھاتے تھے اور جس کا ذکر قرآن میں آیا ہے وہ اسی پہلو سے اٹھاتے تھے کہ بھلا ان کو کون ان کی جگہ سے ہلا سکتا ہے ! اس وجہ سے قیامت کے ڈرا دے ان کے خیال میں بالکل وہمی ڈرا دے تھے۔ ان کی اسی ذہنیت کو سامنے رکھ کر فرمایا ہے کہ آسمان و زمین جو قائم ہیں تو اللہ کے حکم سے قائم ہیں اور اسی وقت تک قائم رہیں گے جب تک اللہ تعالیٰ ان کو قائم رکھنا چاہیے گا۔ پھر جب وہ اس نظام کو درہم برہم اور دوسرا نظام قائم کرنا چاہے گا تو اس کو اس میں ذرا بھی مشکل پیش نہیں آئے گی، وہزمین کی طرف سے تمہیں بلانے کے لئے ایک ہی پکار پکارے گا اور تم سب دفعتہ زمین سے نکل پڑو گے۔ یعنی اس کو پکارنے کی زحمت بھی بار بار نہیں اٹھانی پڑے گی۔ ایک ہی پکارنا بالکل کافی ہوگا۔ اسی مضمون کو دوسرے مقام میں یوں فرمایا ہے۔ واذنت لربھا وحقت ‘(اور زمین اپنے رب کی نافرنبرداری کرے گی اور اس کے لئے یہی زیبا ہے)۔
’ ولہ من فی السموات والارض کل لہ قنتون۔ ‘ یہ اوپر والی بات کی دلیل ارشاد ہوئی ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں سب اسی کی مخلوق، اسی کے مملوک اور اسی کے فرمانبردار ہیں تو کسی کی مجال ہے کہ اس کے حکم سے سرتابی اور اس کی پکار سے سرموانحراف کرسکے۔