Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 30. Ar-Room · Ayah 31

  1. مُنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۙ﴿31﴾

    1. مُنِيْبِيْنَرجوع کرنے والے
    2. اِلَيْهِاس کی طرف
    3. وَاتَّقُوْهُاور تم ڈرو اس سے
    4. وَاَقِيْمُوااور قائم رکھو تم
    5. الصَّلٰوةَنماز
    6. وَلَا تَكُوْنُوْااور نہ ہو تم
    7. مِنَسے
    8. الْمُشْرِكِيْنَشرک کرنے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اسی کی طرف متوجہ ہو کر اور اسی سے ڈرو اور نماز کا اہتمام رکھو۔ اور تم لوگ مشرکین میں سے نہ بنو۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
منیبین الیہ واتقوہ واقیموا الصلوۃ ولا تکونوا من المشرکین (31) ’ منیبین الیہ ‘ حال پڑا ہوا ہے ’ فانم وجھک ‘ کی ضمیر خطاب سے۔ ہم اوپر اشارہ کرچکے ہیں کہ لفظاً یہ خطاب اگرچہ واحد ہے، لیکن معناً یہ جمع کے حکم میں ہے۔ اس میں آنحضرت ﷺ سے جو خطاب ہے وہ امت کے وکیل کی حیثیت سے ہے۔ اس حال کے جمع لانے سے خطاب کی یہ نوعیت بالکل واضح ہوگئی۔ اوپر والی آیت میں حنیفیت کی تاکید فرمائی ہے، اس آیت میں ’ انابت ‘ اور تقوی کی تاکید ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس کے لئے مجرد عقلی یکسوئی کافی نہی ہے بلکہ دل کی انابت و خشیت بھی مطلوب ہے، اور حدود الٰہی کی پور پوری پاسداری بھی۔ ’ واقیمو الصلوۃ ‘۔ نماز اس دی قیم کے بنیادی احکام میں سے ہے اور یہی اس حنیفیت اور انابت وتقویٰ کی محافظ اور اس کا مظہر ہے جس کی یہاں ہدایت فرمائی گئی ہے۔ ’ ولا تکونو من المشرکین ‘ یہ تنیہ ہے کہ مشرکین سے دور رہو اس لئے کہ انہوں نے یہ ساری چیزیں برباد کردی ہیں جو دین قسیم کے لوازم میں سے ہیں۔